

محمود احمد, September 14,2026
ٹورنٹو (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء
امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی شدید تجارتی کشیدگی، محصولات کے نفاذ اور یکطرفہ اقتصادی پالیسیوں سے پیدا ہونے والے منفی اثرات سے ملکی معیشت کو نکالنے کے لیے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے ایک تاریخ ساز معاشی حکمتِ عملی کا آغاز کر دیا ہے۔ انہوں نے ٹورنٹو میں عالمی سطح کے سب سے بڑے مالیاتی اداروں، وال اسٹریٹ کے دیوہیکلوں اور سرکاری سرمایہ کاری فنڈز کے سربراہان کو دو روزہ اعلیٰ سطحی “گلوبل انویسٹمنٹ سمٹ” میں مدعو کر کے کینیڈا کو دنیا کی سب سے محفوظ اور منافع بخش سرمایہ کاری منڈی بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
کینیڈا کی حکومت کا بنیادی اور اہم ہدف آئندہ پانچ برسوں کے دوران ملک کے اندر ایک ٹریلین کینیڈین ڈالر (1 Trillion CAD) سے زائد کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (FDI) کو راغب کرنا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اوٹاوا انتظامیہ نے 160 سے زائد قومی نوعیت کے میگا انفراسٹرکچر، توانائی اور ٹیکنالوجی پروجیکٹس کو نمائش کے لیے پیش کیا ہے، جبکہ نوکر شاہی کے روایتی ریڈ ٹیپ (Red Tape)، منظوریوں میں تاخیر اور پیچیدہ ماحولیاتی ضوابط میں تاریخی نرمی کا اعلان بھی کیا جا رہا ہے۔
عالمی مالیاتی دنیا کی معروف ترین شخصیات کی ٹورنٹو میں آمد:
سابق بینک آف کینیڈا اور بینک آف انگلینڈ کے گورنر رہنے والے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے عالمی مالیاتی مارکیٹوں میں اپنے دیرینہ تعلقات کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔ اجلاس میں دنیا کے سب سے بڑے اثاثہ جات کا انتظام سنبھالنے والے ادارے ‘بلیک راک’ (BlackRock) کے چیف ایگزیکٹو لیری فنک (Larry Fink)، ‘بلیک اسٹون’ (Blackstone) کے صدر جون گرے (Jon Gray)، سنگاپور کے خودمختار مالیاتی فنڈ ‘ٹیماسک’ (Temasek) کے سی ای او دلہان پلے اور نیدرلینڈز کے دیوہیکل پنشن فنڈ ‘اے پی جی گروئپ’ (APG Groep) کی سربراہ اینیٹ موسمان سمیت عالمی فنڈز کے اہم مندوبین نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران کارنی انتظامیہ نے جن اہم ترین اور فیوچرسٹک پروجیکٹس کو پیش کیا ان میں کوانٹم کمپیوٹنگ کا بڑا نیٹ ورک، جدید ڈیٹا سینٹرز، کاربن فری ‘گرین نکل’ کی وسیع پیداوار، جدید توانائی کی ترسیل کے لائنز اور کیلگری سے ایڈمنٹن کے درمیان تیز ترین بلٹ ٹرین و ٹرانسپورٹ کوریڈور شامل ہیں۔
امریکہ پر اقتصادی انحصار کم کرنے کی سٹریٹجک حکمتِ عملی:
کینیڈین معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اس سمٹ کا اصل مقصد کینیڈا کا اپنے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار یعنی امریکہ پر سے دہائیوں پر محیط شدید اقتصادی انحصار کو بتدریج کم کرنا ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے ٹیرف کی دھمکیوں اور سرحدی تجارتی رکاوٹوں نے اوٹاوا کو مجبور کیا ہے کہ وہ یورپ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور آسٹریلیا کے مالیاتی اداروں کے ساتھ براہِ راست اور ٹھوس تجارتی تعلقات استوار کرے۔
کارنی حکومت کے مطابق کینیڈا کے پاس اہم معدنیات (Critical Minerals)، شفاف توانائی، جدید ترین ٹیکنالوجی، اور اعلیٰ تعلیم یافتہ انسانی وسائل کا وہ خزانہ موجود ہے جو دنیا کے کسی اور خطے میں میسر نہیں۔ تاہم اس مہم میں سب سے بڑا چیلنج غیر ملکی سرمایہ کاروں کو تیز رفتار قانونی منظوریوں اور طویل المدتی پالیسی کے استحکام کا یقین دلانا ہے، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتوں کی عدم استحکام اور جیو پولیٹیکل کشیدگی نے سرمایہ کاری کو خاصا پرخطر بنا دیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ تفصیلی رپورٹ کینیڈین وزیراعظم کے دفتر (PMO)، وزارتِ خزانہ کینیڈا کے جاری کردہ باضابطہ بیانات، ٹورنٹو انویسٹمنٹ ڈیسک اور عالمی خبر رساں اداروں کے اطلاعاتی مواد کی روشنی میں مرتب کی گئی ہے۔ کینیڈا کے ایک ٹریلین ڈالر کی مہم کے تمام معاشی و سیاسی پہلو تحریری فریم ورک کے مطابق شایع کیے گئے ہیں۔
ماخذ: ڈیپارٹمنٹ آف فنانس کینیڈا، وزیراعظم دفتر (PMO) ٹورنٹو میڈیا سیل، رائٹرز، بلومبرگ۔