

محمود احمد, August 24,2026
اوٹاوا (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اگست 2026ء
امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تین روزہ اہم تجارتی مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچے بغیر مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں، جس کے فوراً بعد کینیڈا کی حکومت نے امریکی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا باضابطہ اور حتمی اعلان کر دیا ہے۔ کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے پارلیمنٹ ہاؤس اوٹاوا میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ کینیڈا 8 ستمبر سے امریکی سٹیل، الیکٹرانکس اور دیگر سامانِ تجارت پر ‘ڈالر کے بدلے ڈالر’ کی بنیاد پر یکساں جوابی ٹیرف لاگو کرے گا۔
کینیڈا کا یہ انتہائی سخت قدم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈین برآمدات پر 50 فیصد اضافی محصول عائد کرنے کے یکطرفہ فیصلے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔ وزیراعظم مارک کارنی نے امریکہ کے اس فیصلے پر کڑا موقف اپناتے ہوئے کہا کہ “جب آپ پر حملہ کیا جاتا ہے تو آپ جنگ کی حالت میں ہوتے ہیں؛ ہم پر تجارتی حملہ ہوا ہے اور کینیڈا اپنے محنت کشوں، کسانوں، خاندانوں اور کاروباری طبقات کے تحفظ کے لیے امریکی ٹیرف کا برابر اور اینٹ کا جواب پتھر سے دے گا۔” ان کا مزید کہنا تھا کہ کینیڈا واشنگٹن کی یکطرفہ شرائط کو کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ اس نئے امریکی اقدام سے کینیڈا کی وائن، ڈیری، فرنیچر، سیمنٹ اور ہاکی کے سامان سمیت تقریباً 20 ارب ڈالر کی برآمدات شدید متاثر ہوں گی، جبکہ تینوں ممالک کے آزادانہ تجارتی معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے مذاکرات کی ناکامی کا ملبہ کینیڈا پر ڈالتے ہوئے کہا کہ اوٹاوا نے ایک بہترین اقتصادی موقع گنوا دیا ہے اور فی الحال امریکہ کینیڈا سے مزید بات چیت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ تاہم کینیڈا میں وزیراعظم مارک کارنی کے اس جرات مندانہ فیصلے کو وسیع عوامی اور سیاسی حمایت حاصل ہو رہی ہے اور اپوزیشن کنزرویٹو پارٹی کے سربراہ پیئر پوئیلیور نے بھی حکومتی موقف کی مکمل تائید کرتے ہوئے ملک کے روزگار اور معیشت کی دفاع کے لیے متحد ہونے کا اعادہ کیا ہے۔