موسمیاتی تبدیلیوں پر پارلیمانی نگرانی اور موسمیاتی انصاف ناگزیر: سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا کامن ویلتھ کانفرنس سے اہم خطاب

محمود احمد, September 16,2026

کیپ ٹاؤن (نیوز اینڈ نیوز) — 16 ستمبر 2026ء

سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے بنائی جانے والی پالیسیوں میں جمہوری اداروں اور پارلیمان کی مؤثر و فعال نگرانی انتہائی ناگزیر ہے، کیونکہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب صرف ماحول تک محدود نہیں رہے بلکہ خوراک، پانی، صحت اور انسانی زندگی کے دیگر تمام اہم شعبوں تک پھیل چکے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے دنیا بھر میں سب سے زیادہ اور شدید متاثر ہو رہے ہیں۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق سردار ایاز صادق نے جنوبی افریقہ کے شہر کیپ ٹاؤن میں منعقدہ 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس کے دوران “موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں پارلیمانی قیادت کے کردار” کے اہم موضوع پر باضابطہ خطاب کیا۔ یہ بین الاقوامی کانفرنس 13 سے 18 ستمبر 2026ء تک جنوبی افریقہ میں جاری ہے، جبکہ 16 ستمبر کے خصوصی شیڈول میں موسمیاتی موافقت اور ماحولیاتی لچک پر ایک اعلیٰ سطحی ورکشاپ بھی شامل تھی۔

اپنے خطبے میں سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ موسمیاتی موافقت کی تمام پالیسیاں عام عوام کی مؤثر اور براہِ راست شمولیت کے ساتھ تشکیل دی جانی چاہئیں اور حقیقی موسمیاتی انصاف کے حصول کے لیے جمہوری اداروں کا شامل ہونا بنیادی شرط ہے۔ ان کے مطابق موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین عالمی چیلنج پر بین پارلیمانی مکالمہ سنجیدہ، بامقصد اور تعمیری ہونا چاہیے، اور ان پالیسیوں کے عملی نفاذ و شفافیت کو یقینی بنانے میں عالمی پارلیمانوں کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے۔

سردار ایاز صادق نے واضح کیا کہ عالمی برادری کی جانب سے ملنے والی بین الاقوامی موسمیاتی مالی معاونت بھی لازمی طور پر پارلیمانی نگرانی کے دائرے میں ہونی چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پارلیمان آئینی قانون سازی، بجٹ کی سخت نگرانی اور متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے متحرک کردار کے ذریعے موسمیاتی موافقت اور ریلیف کے لیے اپنا بھرپور قومی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے موسمیاتی خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے خواتین، نوجوانوں اور معاشرے کے دیگر پسماندہ طبقات کی نمائندگی اور شمولیت کو لازمی قرار دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ممالک کی پارلیمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ موسمیاتی خطرات اور آفات سے نمٹنے کے تجربات، تکنیکی وسائل اور بہترین طریقہ کار کا تبادلہ کرنا چاہیے تاکہ مشترکہ چیلنجز کے پائیدار حل تلاش کیے جا سکیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے نکتہ اٹھایا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر کی پارلیمانوں کو سیاسی اختلافات کے بجائے باہمی تعاون، اشتراکِ عمل اور بامعنی گفت و شنید کو فروغ دینا ہو گا، کیونکہ مضبوط اور متحرک جوامع کا قیام صرف مضبوط جمہوری اداروں اور شفاف جواب دہی سے ہی ممکن ہے۔

خطاب کے دوران انہوں نے بغیر کسی ملک کا نام لیے دریاؤں میں اچانک پانی کے بلا اطلاع بہاؤ، سیلابی صورتحال اور پانی کے قدرتی بہاؤ کو مصنوعی طریقے سے روکنے جیسے اہم تنازعات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے جغرافیائی اثرات سرحدوں تک محدود نہیں رہتے، اس لیے پانی اور دیگر مشترکہ قدرتی وسائل سے متعلق تمام حساس معاملات کو باہمی اعتماد، تعاون اور مکالمے سے حل کیا جانا چاہیے۔

قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے انکشاف کیا کہ سردار ایاز صادق کے خطاب کے دوران بھارتی مندوبین کی جانب سے خلل ڈالنے اور مداخلت کرنے کی ناکام کوشش کی گئی، جس پر کانفرنس کی سیشن چیئر اور جمیکا کی سپیکر نے فوراً یکسوئی قائم کرتے ہوئے بھارتی مندوبین کو خاموش رہنے یا ہال سے باہر چلے جانے کی سخت ہدایت کی۔ ہال میں موجود دیگر بین الاقوامی شرکا نے بھی بھارتی وفد سے سپیکر قومی اسمبلی کا خطاب تحمل اور احترام سے سننے کی اپیل کی۔

سردار ایاز صادق نے اپنے خطاب کے اختتام پر دہرایا کہ موسمیاتی موافقت صرف کوئی روایتی ماحولیاتی پالیسی نہیں بلکہ یہ خوراک، پینے کے پانی، عوامی صحت، معیشت اور پوری انسانی سلامتی سے براہ راست جڑا ہوا انتہائی حساس اور بنیادی مسئلہ ہے، جس کے لیے جواب دہ، جامع اور بصیرت افروز پالیسی سازی کی شدید ضرورت ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ مفصل رپورٹ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ پاکستان کی پریس ریلیز اور کیپ ٹاؤن میں جاری 69ویں کامن ویلتھ پارلیمانی کانفرنس سے جاری کردہ باضابطہ اعلامیے کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔

ماخذ: قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میڈیا ونگ، کیپ ٹاؤن/اسلام آباد ڈیسک۔