سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی گرفتاری کی باضابطہ تصدیق: 18 مقدمات میں مطلوب اور روپوش تھے، لاہور پولیس

کاشف عباسی , September 07,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) — 7 ستمبر 2026ء

لاہور پولیس نے پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اور سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کی ملتان سے گرفتاری کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ وہ مختلف قانونی کیسز میں پولیس کو اشتہاری ملزم کے طور پر 18 مقدمات میں درکار تھے۔

ترجمان لاہور پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، حماد اظہر گزشتہ تقریباً تین سال سے روپوش اور روپوشی کی حالت میں تھے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تمام تر ضروری سیکیورٹی و قانونی ضوابط کی تکمیل کے بعد انہیں جلد از جلد مجاز عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں تفتیشی ٹیمیں باقاعدہ تفتیش کی غرض سے ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کریں گی۔

سیکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ حماد اظہر کو گزشتہ روز ایک کارروائی کے دوران ملتان سے حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر لاہور پولیس کی تحویل میں منتقل کر دیا گیا۔ ان کے خلاف 9 مئی 2023ء کے پرتشدد واقعات، امن و امان کی خرابی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت قانونی کارروائیاں زیرِ التواء ہیں۔

دوسری جانب، پاکستان تحریک انصاف نے اس ہائی پروفائل گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے محض “سیاسی انتقام” کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ پارٹی کے پہلے دعوے پر ابتدائی طور پر پولیس حکام کی جانب سے فوری ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا، تاہم بعد ازاں لاہور پولیس نے ان کی گرفتاری کا باقاعدہ اعلان کر دیا۔

عدالتی ذرائع کے مطابق، مختلف احتساب و انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے عدم پیشی پر ان کے دائمی وارنٹِ گرفتاری جاری کیے جا چکے تھے۔ ادھر، حماد اظہر کی والدہ نے ان کی بازیابی اور تحفظ کی ضمانت کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے بھی رجوع کر رکھا ہے۔