گلگت بلتستان کے انتخابی دنگل میں مسلم لیگ (ن) کی پوزیشن مستحکم، پی ٹی آئی کا خطے میں کوئی مؤثر ووٹ بینک نہیں، جن کے اپنے امیدوار پورے نہیں وہ دھاندلی کا شور مچا رہے ہیں، صوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کا پی ٹی آئی کے الزامات پر کرارا جواب

منصور احمد june 06,2026

لاہور(نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

گلگت بلتستان میں آئندہ ہونے والے عام انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جہاں مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے مابین لفظی جنگ اور سیاسی گرما گرمی میں شدید اضافہ دیکھا جا رہا ہے، لاہور سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے گلگت بلتستان کی انتخابی سیاست پر ن لیگ کا مخلصانہ اور دوٹوک ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں عوامی سطح پر مسلم لیگ (ن) کے حق میں ایک واضح رجحان موجود ہے اور وہاں کے مختلف علاقوں میں گونجنے والے ”شیر، شیر“ کے نعرے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عوام ن لیگ کی ماضی کی کارکردگی پر بھرپور اعتماد کرتے ہیں، انہوں نے پی ٹی آئی کی انتخابی مہم کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی جانب سے انتخابی مہم کے دوران جان بوجھ کر رکاوٹوں کا ایک جھوٹا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، تاہم زمینی حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں اور سچ یہ ہے کہ اس جماعت کا گلگت بلتستان میں اب کوئی مؤثر ووٹ بینک موجود ہی نہیں رہا، عظمیٰ بخاری نے سیاسی الزامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جن سیاسی جماعتوں کے پاس حلقوں میں کھڑے کرنے کے لیے امیدوار ہی مکمل نہیں ہیں، وہ اپنی ممکنہ شکست سے بچنے کے لیے ابھی سے ”قبل از وقت دھاندلی“ کے من گھڑت الزامات لگا کر سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں، انہوں نے مشورہ دیا کہ انتخابی مقابلہ سستی الزام تراشی کے بجائے خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پر ہونا چاہیے کیونکہ گلگت بلتستان کے باشعور عوام اب جھوٹے دعوؤں اور مخالفین کی منفی سیاست کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں اور وہ صرف ترقی اور عملی کام کرنے والی جماعت کو ہی ترجیح دے رہے ہیں، صوبائی وزیر اطلاعات نے دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ گلگت بلتستان میں سڑکوں کے جال، بہترین انفراسٹرکچر اور دیگر بڑے ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے وہاں کے عوام کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور یہی بڑی وجہ ہے کہ عوامی اعتماد ن لیگ کے ساتھ نظر آ رہا ہے جبکہ مخالف سیاسی جماعتیں ترقیاتی کاموں کے بجائے صرف پروپیگنڈا اور الزامات کی سیاست کر رہی ہیں، دوسری جانب سیاسی مبصرین کے مطابق گلگت بلتستان میں انتخابی ماحول بتدریج گرم ہو رہا ہے اور تمام جماعتیں اپنے اپنے بیانیے کے ساتھ میدان میں اتر چکی ہیں، مسلم لیگ (ن) کے سینیئر رہنما رانا ثناء اللہ کے مطابق ن لیگ نے خطے کے زیادہ تر حلقوں میں اپنے مضبوط امیدوار کھڑے کیے ہیں جبکہ بعض مخصوص حلقوں میں مقامی آزاد امیدواروں کی حمایت کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، ان کے مطابق کئی نشستوں پر ن لیگ اور دیگر جماعتوں کے مابین انتہائی سخت اور کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے اور بعض حلقوں میں ہار جیت کا فرق انتہائی کم ہوگا، سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان کی سیاست کا یہ خاصہ رہا ہے کہ وہاں ہر نئے انتخاب کے ساتھ نئی سیاسی صف بندیاں سامنے آتی ہیں، تاہم اصل اور حتمی فیصلہ ہمیشہ عوامی ووٹ کی طاقت سے ہی ہوتا ہے، جو کسی بھی جماعت کے بلند بانگ دعووں کو حقیقت میں بدلنے یا انہیں یکسر رد کرنے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔

حکومت ملی تو گلگت بلتستان میں سستی ترین بجلی بنا کر پورے پاکستان کو دیں گے، بلاول بھٹو زرداری کا غذر کے بڑے انتخابی جلسے میں اعلان

کاشف عباسی ,june 04,2026

غذر، گلگت بلتستان (نیوز اینڈ نیوز) — 4 جون 2026ء
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک بڑے عوامی اور انتخابی معرکے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر گلگت بلتستان کے آئندہ انتخابات میں عوام نے پیپلز پارٹی کو حکومت بنانے کا موقع دیا، تو یہاں پانی سے بھاری مقدار میں بجلی پیدا کر کے پورے پاکستان کو سب سے کم اور سستے نرخوں پر فراہم کی جائے گی۔ غذر میں ایک بہت بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے انکشاف کیا کہ ماضی کی تحقیقات کے مطابق گلگت بلتستان میں تقریباً پچاس ہزار میگاواٹ پن بجلی پیدا کرنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے، جسے عوامی و نجی شعبے کی مشترکہ شراکت داری (پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ) کے ذریعے کامیابی سے بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔
گلگت بلتستان کو پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ بنانے کا تاریخی وعدہ
بلاول بھٹو زرداری نے جلسے کے شرکا سے وعدہ کیا کہ اقتدار میں آنے کے بعد وہ خود اسلام آباد جا کر وفاق سے یہ زوردار مطالبہ کریں گے کہ گلگت بلتستان کو باقاعدہ طور پر پاکستان کا پانچواں آئینی صوبہ تسلیم کیا جائے تاکہ یہاں کے غیور عوام کو مکمل آئینی حقوق، نمائندگی اور حقِ حکمرانی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے خطے کے حوالے سے درج ذیل اہم نکات کا اعادہ کیا:
آئینی شناخت: گلگت بلتستان کے چپے چپے کو ملک کے دیگر صوبوں کی طرح مکمل آئینی شناخت دی جائے گی۔
حقِ ملکیت: مقامی آبادی کے حقِ ملکیت پر بغیر کسی دباؤ کے سو فیصد عملدرآمد کرایا جائے گا۔
زمینوں کے حقوق: یہاں کے مقامی عوام کو ان کی آبائی زمینوں کے قانونی اور مالکانہ حقوق دیے جائیں گے۔
حقوق کی جنگ: پیپلز پارٹی خطے کے مظلوم عوام کو ان کے حقوق دلانے کے لیے اپنی سیاسی جدوجہد آخری دم تک جاری رکھے گی۔
نوجوانوں کے لیے روزگار اور مفت ہاؤسنگ منصوبوں کا اعلان
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ خطے کے پڑھے لکھے نوجوانوں کو باعزت روزگار فراہم کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور حکومت بننے کی صورت میں کسی سفارش کے بغیر، خالص میرٹ پر ہزاروں سرکاری ملازمتوں کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے صوبہ سندھ کے کامیاب ماڈل کی طرز پر یہاں بھی ‘جی بی پیپلز ہاؤسنگ انیشیٹو’ کے نام سے غریبوں کے لیے مفت گھروں کے منصوبے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس فلاحی اسکیم کا باقاعدہ آغاز غذر کی سرزمین سے کیا جائے گا۔
صحت اور تعلیم کے شعبے میں انقلابی اقدامات کا وعدہ
بلاول بھٹو زرداری نے سندھ میں صحت کے شعبے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کراچی اور سندھ کے دیگر شہروں میں امراضِ قلب اور گردہ و جگر کے بڑے ہسپتالوں کے ذریعے عوام کو اربوں روپے کا مفت علاج فراہم کیا جا رہا ہے، بالکل اسی طرز کے جدید اور عالمی معیار کے طبی ادارے گلگت بلتستان میں بھی قائم کیے جائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ
خطے کے تمام چھوٹے بڑے ہسپتالوں کی حالتِ زار کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے گا۔
دیہی علاقوں کے لیے ماں اور بچے کی صحت کے خصوصی ہیلتھ پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔
تمام جدید طبی سہولیات اور مفت ادویات عام آدمی کی دہلیز تک پہنچائی جائیں گی۔
انفراسٹرکچر، سڑکوں اور تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی
خطے کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے سڑکوں اور انٹرنیٹ کے سنگین مسائل کو تسلیم کیا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ جدید ترین سیٹلائٹ ٹیکنالوجی کے ذریعے جی بی کے دور دراز علاقوں میں تیز رفتار انٹرنیٹ کے مواصلاتی رابطوں کو بحال کیا جائے گا، جبکہ علاقائی تجارتی راستوں کی تعمیر اور سیاحتی منصوبوں پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔ انہوں نے جلسے کے آخر میں تمام کارکنوں اور عوام سے پرزور اپیل کی کہ وہ 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی کے امیدواروں کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنائیں تاکہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح کے ان تمام وعدوں کو عملی شکل دی جا سکے۔