

محمود احمد, August 27,2026
کھٹمنڈو (نیوز اینڈ نیوز) — 27 اگست 2026ء
نیپال اور تبت کے سرحدی خطے میں گلیشیئر پھٹنے اور ملبے کا زبردست بہاؤ آنے کے باعث تباہ کن سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ نے قیامت خیز تباہی مچا دی ہے۔ نیپال کی ‘نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی’ کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، اس قدرتی آفت کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 165 ہو گئی ہے، جبکہ 529 غیر ملکی سیاحوں سمیت مجموعی طور پر 826 افراد تاحال لاپتا ہیں جن کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر ہنگامی زمینی و فضائی ریسکیو آپریشنز جاری ہیں۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق یہ ہولناک سیلاب ایک گلیشیئر کے اچانک انہدام اور اس کے بعد تیزی سے بہنے والے ملبے کے باعث آیا، جس نے نشیبی علاقوں کی عمارتوں، پلوں اور راستوں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔
تبت کی جانب بھی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ چین کے سرکاری نشریاتی ادارے ‘سی سی ٹی وی’ کے مطابق تبت کی گیرونگ کاؤنٹی میں لاپتا افراد کی تعداد 558 تک پہنچ گئی ہے جن میں 260 غیر ملکی شہری شامل ہیں، جبکہ وہاں 3 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔ دوسری جانب ایک سیاحتی گروپ نے بتایا ہے کہ متاثرہ علاقے میں موجود 47 افراد، جن میں گائیڈز اور سیاح شامل ہیں، کا بھی کچھ پتہ نہیں چل رہا۔ نیپالی فوج نے ریسکیو اور ریلیف آپریشن کو تیز کرنے کے لیے 2,000 سے زائد مسلح اہلکار تعینات کر دیے ہیں جو ہیلی کاپٹروں اور جدید آلات کی مدد سے محصورین کو نکالنے میں مصروف ہیں۔ تاہم، مسلسل بارشوں، راستوں کی بندش اور پہاڑی تودے گرنے سے امدادی ٹیموں کو دور دراز کے تباہ شدہ علاقوں تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔