چکوال فائرنگ واقعہ: سی سی ڈی اہلکار کی غفلت سے 9 سالہ ہانیہ کی ہلاکت اور انکوائری رپورٹ کا منظرِ عام پر آنا

منصور احمد, August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں 10 اور 11 جون کی درمیانی شب پیش آنے والے الم ناک فائرنگ کے واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ پراسیکیوٹر کے پاس جمع کروا دی گئی ہے، جس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے ایک اہلکار کو باضابطہ طور پر قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔ اس المناک حادثے میں پریتھ، آسٹریلیا سے آئے ہوئے ایک پاکستانی نژاد خاندان کی 9 سالہ بچی ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہوئے تھے۔

واقعات کے مطابق جون کی شروعات میں آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان حج کی ادائیگی کے بعد چکوال میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آیا ہوا تھا۔ حادثے کی شب جب خاندان اپنی کرائے کی گاڑی میں سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے بالکل قریب پہنچا تو دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر انہیں روک کر لوٹنے کی کوشش کی۔ اسی اثنا میں قریب موجود سی سی ڈی کے اہلکار موقع پر پہنچے اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگائے بغیر بے دردی سے فائرنگ کر دی۔ پولیس نے بعد میں مؤقف اپنایا تھا کہ اہلکار نے غلط فہمی میں یہ سمجھتے ہوئے گاڑی پر فائر کر دیا کہ ملزمان اس میں فرار ہو رہے ہیں۔

واقعے کے فوری بعد آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی ڈی سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم تفصیلی چالان اور رپورٹ 28 جولائی کو پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروائی گئی جس میں غلط فہمی، طاقت کے بےجا اور بے دریغ استعمال اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر متعلقہ سی سی ڈی اہلکار کو واقعے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسری جانب متاثرہ والد عدیل احمد نے کارروائی پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مزید غیر جانبدارانہ اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدِ باب ہو سکے۔