انٹرپول کے ریڈ نوٹس پر بڑی کامیابی: اقدامِ قتل کے مقدمے میں 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول ایئرپورٹ سے گرفتار

منصور احمد, September 02,2026

اسلام آباد/ملتان (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی امیگریشن نے ایک بڑی کارروائی کرتے ہوئے اقدامِ قتل کے سنگین مقدمے میں پنجاب پولیس کو گزشتہ 3 سال سے مطلوب خطرناک اشتہاری ملزم محمد سجاول کو ملک پہنچتے ہی ایئرپورٹ سے گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار ملزم کی بین الاقوامی سطح پر گرفتاری کے لیے انٹرپول کی جانب سے ریڈ نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

ایف آئی اے ملتان کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار ملزم محمد سجاول سنگین فوجداری الزامات کے تحت سال 2023 سے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے تھانہ رجانہ کو مطلوب تھا، جہاں اس کے خلاف اقدامِ قتل اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمات درج تھے۔

ترجمان نے بتایا کہ فرار ہونے کی کوششوں کے پیشِ نظر ملزم کا نام سٹاپ لسٹ میں شامل کیا گیا تھا جبکہ ایف آئی اے نیشنل سینٹرل بیورو انٹرپول نے اس کی گرفتاری یقینی بنانے کے لیے باضابطہ ریڈ نوٹس جاری کر رکھا تھا۔

ملزم بیرونِ ملک سے پاکستان پہنچا تو ملتان انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر قائم ایف آئی اے امیگریشن کاؤنٹر نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔ یہ اہم گرفتاری انٹرپول اسلام آباد اور ایف آئی اے امیگریشن ملتان کے مابین بہترین حکمتِ عملی اور قریبی رابطے کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔ ابتدائی عمل درآمد اور امیگریشن کی کارروائی کے بعد ملزم کو مزید قانونی کارروائی اور تفتیش کے لیے پنجاب پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

چکوال فائرنگ واقعہ: سی سی ڈی اہلکار کی غفلت سے 9 سالہ ہانیہ کی ہلاکت اور انکوائری رپورٹ کا منظرِ عام پر آنا

منصور احمد, August 20,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 20 اگست 2026ء

صوبہ پنجاب کے شہر چکوال میں 10 اور 11 جون کی درمیانی شب پیش آنے والے الم ناک فائرنگ کے واقعے سے متعلق انکوائری رپورٹ پراسیکیوٹر کے پاس جمع کروا دی گئی ہے، جس میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب کے ایک اہلکار کو باضابطہ طور پر قصور وار قرار دے دیا گیا ہے۔ اس المناک حادثے میں پریتھ، آسٹریلیا سے آئے ہوئے ایک پاکستانی نژاد خاندان کی 9 سالہ بچی ہانیہ احمد جاں بحق جبکہ ان کے والد عدیل احمد اور 10 سالہ بھائی عفان احمد شدید زخمی ہوئے تھے۔

واقعات کے مطابق جون کی شروعات میں آسٹریلوی نژاد پاکستانی خاندان حج کی ادائیگی کے بعد چکوال میں اپنے عزیز و اقارب سے ملنے آیا ہوا تھا۔ حادثے کی شب جب خاندان اپنی کرائے کی گاڑی میں سی سی ڈی تھانے کی دیوار کے بالکل قریب پہنچا تو دو موٹر سائیکل سوار ڈاکوؤں نے اسلحے کے زور پر انہیں روک کر لوٹنے کی کوشش کی۔ اسی اثنا میں قریب موجود سی سی ڈی کے اہلکار موقع پر پہنچے اور صورتحال کا صحیح اندازہ لگائے بغیر بے دردی سے فائرنگ کر دی۔ پولیس نے بعد میں مؤقف اپنایا تھا کہ اہلکار نے غلط فہمی میں یہ سمجھتے ہوئے گاڑی پر فائر کر دیا کہ ملزمان اس میں فرار ہو رہے ہیں۔

واقعے کے فوری بعد آئی جی پنجاب پولیس اور سی سی ڈی سربراہ ایڈیشنل آئی جی سہیل ظفر چٹھہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور ایک ہفتے کے اندر رپورٹ مکمل کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم تفصیلی چالان اور رپورٹ 28 جولائی کو پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ میں جمع کروائی گئی جس میں غلط فہمی، طاقت کے بےجا اور بے دریغ استعمال اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر متعلقہ سی سی ڈی اہلکار کو واقعے کا مرکزی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ دوسری جانب متاثرہ والد عدیل احمد نے کارروائی پر اپنے تحفظات ظاہر کرتے ہوئے مزید غیر جانبدارانہ اور سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کا سدِ باب ہو سکے۔