پنجاب اور ملکی سطح پر 10 لاکھ نوجوانوں کو متحرک کرنے کا منصوبہ: 9 نومبر کو بڑا افتتاح

منصور احمد, August 18,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 18 اگست 2026ء

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو سماجی اشاریوں میں کمزوری کے باعث قومی ترقی کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور ماضی میں مختلف منصوبوں و اقدامات کے باوجود ملک تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے بنیادی شعبوں میں وہ فیصلہ کن پیش رفت حاصل نہیں کر سکا جو پائیدار قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز سمر اسکالر انٹرن شپ اور وائی پی ڈی سی ریزیڈینڈینشل فیلوشپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر ایک تاریخی اور منفرد منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی ایک بڑا قومی پروگرام تیار کر رہی ہے جس کے تحت دس لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو سماجی متحرک کار کے طور پر منظم کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر عوامی شمولیت کے ذریعے تعلیمی اور صحتی اشاریوں میں بامعنی اور پائیدار بہتری لائی جا سکے۔

احسن اقبال نے بتایا کہ اس قومی اقدام کا باقاعدہ آغاز 9 نومبر کو کیا جائے گا اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف خود اس کا افتتاح کریں گے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کے اہم ترین سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے ملک کی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لانا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جنہیں تعلیم کے دائرے میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ شرح خواندگی میں اضافہ کرنا، بچوں میں غذائی قلت اور کم نشوونما جیسے خطرناک مسائل پر قابو پانا بھی اس پروگرام کا بنیادی حصہ ہے۔ وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 40 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جو ہمارے انسانی وسائل کی معیاری ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور لمحہ فکریہ چیلنج ہے۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دس لاکھ نوجوان رضاکار اپنے اپنے علاقوں، محلو ں اور برادریوں میں جا کر نہ صرف اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کریں گے بلکہ انہیں تعلیم کی طرف لانے، صحت بخش طرزِ زندگی کو فروغ دینے، منشیات اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے خلاف شعور اجاگر کرنے اور صحت و غذائیت سے متعلق آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات میں بھی متحرک کیا جائے گا تاکہ وہ قومی ترقی کی ترجیحات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط پل کا کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس اتنی بڑی طاقت کو قومی تعمیر کے عمل میں فعال شراکت دار بنائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔

اپنے خطاب میں معاشی سمت کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا طویل مدتی ہدف صرف عارضی معاشی استحکام حاصل کرنا نہیں بلکہ سال 2035ء تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر یعنی ون ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے ماضی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل رہا، پاکستان نے تیز رفتار ترقی کی۔ سن 2013ء میں ملک کو درپیش شدید توانائی بحران اور دہشت گردی کے باوجود 2017ء تک قومی بجلی کی پیداوار میں 11 ہزار میگاواٹ سے زائد کا اضافہ کیا گیا اور سی پیک کے تحت 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لائی گئی جس سے بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوا۔ تاہم 2018ء کی سیاسی تبدیلی سے ترقی کا یہ سفر متاثر ہوا لیکن موجودہ حکومت دوبارہ سے شراکتی ماڈل کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔

وفاقی وزیر نے ملک کے دفاعی اور سفارتی محاذوں پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی قومی یکجہتی اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے ملک کا کامیاب دفاع کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع میں جنگ بندی کے لیے تعمیمی سفارتی کردار ادا کیا جبکہ مکہ دفاعی معاہدے نے خطے میں پاکستان کو ایک ذمہ دار اور اہم ملک کے طور پر قائم کیا۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ دفاع اور سفارت کاری میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب ہمیں “معرکہ حق” کی کامیابی کو “معرکہ ترقی” میں تبدیل کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے ملک میں سیاسی و سماجی استحکام اور امن کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ اندرونی انتشار کا شکار کوئی بھی ملک پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔

علامہ محمد اقبال کے تصورِ شاہین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان شاہین کی مانند بلند ہمت، خوددار، جرات مند اور علم و عمل کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، اور انہیں اپنی اس قوت سے پاکستان کو دوبارہ سائنسی و فکری قیادت کی اس منزل پر پہنچانا ہے جو کبھی مسلم دنیا کا طرہ امتیاز تھی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ وائی پی ڈی سی پروگرام کو دانستہ طور پر ہر قسم کی سیاسی تقسیم سے بالاتر رکھا گیا ہے تاکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے تمام نوجوان صرف ایک مشترکہ قومی شناخت یعنی “پاکستانی” ہونے کے ناطے متحد ہو کر ملک کی سلامتی، اتحاد اور ترقی کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کر سکیں۔