وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے یومِ فضائیہ کے تاریخی موقع پر کہا ہے کہ 1965ء سے لے کر 2026ء تک گزرنے والے ان دہائیوں میں دنیا کے دفاعی تصورات اور جنگی تزویرات میں بنیادی اور انقلابی تبدیلیاں رونما ہو چکی ہیں۔ ان کے مطابق آج کے دور میں کسی بھی ملک کے دفاع کا تصور صرف روایتی ہتھیاروں جیسے ٹینکوں، توپوں اور جیٹ طیاروں تک محدود نہیں رہا بلکہ مصنوعی ذہانت ، جدت اور جدید ترین ٹیکنالوجی نئے اور انتہائی طاقتور دفاعی محاذ بن چکے ہیں۔
7 ستمبر یومِ فضائیہ کی مناسبت سے جاری اپنے خصوصی اور فکر انگیز قومی پیغام میں پروفیسر احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری، جغرافیائی سلامتی اور خودمختارانہ وجود کو یقینی بنانے کے لیے ملک کی تمام دفاعی صلاحیتوں کو ٹیکنالوجی کے ان نئے اور ابھرتے ہوئے افق سے ہم آہنگ کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کے نوجوانوں، سائنسدانوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آنے والے وقت میں سائنسی علوم اور جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز میں پاکستان کے نوجوان ہی ملکی سلامتی اور خودمختاری کے حقیقی اور مضبوط ترین محافظ ثابت ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی جیو پولیٹیکل صورتحال اور ہائبرڈ وارفیئر کے چیلنجز کے پیشِ نظر پاکستان کو علم، تحقیق، ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ اور اختراع کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو گراس روٹ لیول سے مضبوط بنانا ہوگا۔
پروفیسر احسن اقبال نے آئندہ دہائیوں کے دفاعی تقاضوں کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل کی قومی سلامتی میں مصنوعی ذہانت ، سائبر سیکیورٹی ، بغیر پائلٹ کے آپریشنل سسٹمز، خلائی ٹیکنالوجی اور دیگر ابھرتے ہوئے سائنسی شعبے کلیدی کردار ادا کریں گے۔ ان کے مطابق پاکستان کو ان شعبوں میں محض غیر ملکی ٹیکنالوجی استعمال کرنے والے گاہک کے بجائے خود تحقیق اور مقامی اختراع کے ذریعے نئی ٹیکنالوجیز تیار کرنے والا خودکفیل ملک بننے کے لیے طویل المدتی حکمتِ عملی اختیار کرنی ہوگی۔
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر واضح کیا کہ 2026ء کی جدید دنیا میں قومی سلامتی اب صرف عسکری یا روایتی طاقت تک محدود نہیں رہی، بلکہ مستحکم و پائیدار معیشت، باصلاحیت اور ہنر مند انسانی وسائل ، بین الاقوامی معیار کی تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور ناقابلِ تسخیر قومی یکجہتی بھی کسی بھی ملک کی خودمختاری کے بنیادی ستون ہیں۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کو سماجی اشاریوں میں کمزوری کے باعث قومی ترقی کے حوالے سے سنگین چیلنجز درپیش ہیں اور ماضی میں مختلف منصوبوں و اقدامات کے باوجود ملک تعلیم، صحت اور انسانی ترقی کے بنیادی شعبوں میں وہ فیصلہ کن پیش رفت حاصل نہیں کر سکا جو پائیدار قومی ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اوورسیز سمر اسکالر انٹرن شپ اور وائی پی ڈی سی ریزیڈینڈینشل فیلوشپ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وفاقی وزیر نے اس موقع پر ایک تاریخی اور منفرد منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزارتِ منصوبہ بندی ایک بڑا قومی پروگرام تیار کر رہی ہے جس کے تحت دس لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو سماجی متحرک کار کے طور پر منظم کیا جائے گا تاکہ نچلی سطح پر عوامی شمولیت کے ذریعے تعلیمی اور صحتی اشاریوں میں بامعنی اور پائیدار بہتری لائی جا سکے۔
احسن اقبال نے بتایا کہ اس قومی اقدام کا باقاعدہ آغاز 9 نومبر کو کیا جائے گا اور وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف خود اس کا افتتاح کریں گے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پاکستان کے اہم ترین سماجی مسائل سے نمٹنے کے لیے ملک کی نوجوان آبادی کی صلاحیتوں اور توانائیوں کو بروئے کار لانا ہے۔ انہوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ملک میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں جنہیں تعلیم کے دائرے میں لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ شرح خواندگی میں اضافہ کرنا، بچوں میں غذائی قلت اور کم نشوونما جیسے خطرناک مسائل پر قابو پانا بھی اس پروگرام کا بنیادی حصہ ہے۔ وفاقی وزیر نے انکشاف کیا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً 40 فیصد بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں جو ہمارے انسانی وسائل کی معیاری ترقی کے لیے ایک بہت بڑا اور لمحہ فکریہ چیلنج ہے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ دس لاکھ نوجوان رضاکار اپنے اپنے علاقوں، محلو ں اور برادریوں میں جا کر نہ صرف اسکول سے باہر بچوں کی نشاندہی کریں گے بلکہ انہیں تعلیم کی طرف لانے، صحت بخش طرزِ زندگی کو فروغ دینے، منشیات اور تمباکو نوشی کے مضر اثرات کے خلاف شعور اجاگر کرنے اور صحت و غذائیت سے متعلق آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کو ماحولیاتی تحفظ کے لیے ملک بھر میں بڑے پیمانے پر شجرکاری مہمات میں بھی متحرک کیا جائے گا تاکہ وہ قومی ترقی کی ترجیحات کو عوام کی دہلیز تک پہنچانے کے لیے ایک مضبوط پل کا کام کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے اور اس اتنی بڑی طاقت کو قومی تعمیر کے عمل میں فعال شراکت دار بنائے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔
اپنے خطاب میں معاشی سمت کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کا طویل مدتی ہدف صرف عارضی معاشی استحکام حاصل کرنا نہیں بلکہ سال 2035ء تک پاکستان کو ایک کھرب ڈالر یعنی ون ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانا ہے۔ انہوں نے ماضی کی کامیابیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب بھی ملک میں سیاسی استحکام اور پالیسیوں کا تسلسل رہا، پاکستان نے تیز رفتار ترقی کی۔ سن 2013ء میں ملک کو درپیش شدید توانائی بحران اور دہشت گردی کے باوجود 2017ء تک قومی بجلی کی پیداوار میں 11 ہزار میگاواٹ سے زائد کا اضافہ کیا گیا اور سی پیک کے تحت 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری لائی گئی جس سے بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوا۔ تاہم 2018ء کی سیاسی تبدیلی سے ترقی کا یہ سفر متاثر ہوا لیکن موجودہ حکومت دوبارہ سے شراکتی ماڈل کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔
وفاقی وزیر نے ملک کے دفاعی اور سفارتی محاذوں پر کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق کے دوران پاکستان نے اپنی قومی یکجہتی اور عزم کا بھرپور مظاہرہ کیا اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِ اعظم شہباز شریف کی قیادت میں مسلح افواج نے ملک کا کامیاب دفاع کیا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان تنازع میں جنگ بندی کے لیے تعمیمی سفارتی کردار ادا کیا جبکہ مکہ دفاعی معاہدے نے خطے میں پاکستان کو ایک ذمہ دار اور اہم ملک کے طور پر قائم کیا۔ احسن اقبال نے زور دیا کہ دفاع اور سفارت کاری میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اب ہمیں “معرکہ حق” کی کامیابی کو “معرکہ ترقی” میں تبدیل کرنا ہوگا اور اس مقصد کے لیے ملک میں سیاسی و سماجی استحکام اور امن کا قیام ناگزیر ہے کیونکہ اندرونی انتشار کا شکار کوئی بھی ملک پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔
علامہ محمد اقبال کے تصورِ شاہین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوان شاہین کی مانند بلند ہمت، خوددار، جرات مند اور علم و عمل کی صلاحیتوں سے مالا مال ہیں، اور انہیں اپنی اس قوت سے پاکستان کو دوبارہ سائنسی و فکری قیادت کی اس منزل پر پہنچانا ہے جو کبھی مسلم دنیا کا طرہ امتیاز تھی۔ وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ وائی پی ڈی سی پروگرام کو دانستہ طور پر ہر قسم کی سیاسی تقسیم سے بالاتر رکھا گیا ہے تاکہ مختلف زبانوں، ثقافتوں، علاقوں اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے تمام نوجوان صرف ایک مشترکہ قومی شناخت یعنی “پاکستانی” ہونے کے ناطے متحد ہو کر ملک کی سلامتی، اتحاد اور ترقی کے لیے اپنا متحرک کردار ادا کر سکیں۔
چین پاکستان اقتصادی راہداری کے دوسرے مرحلے کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، زرعی اور کاروباری تعاون کو وسعت دینے کے لیے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ عوامی جمہوریہ چین کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے اقتصادی امور پریس کے سینئر ایڈوائزر سن ڈونگ شینگ کی قیادت میں سی پیک سیکرٹریٹ کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال اور سینیئر پالیسی سازوں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر پروفیسر احسن اقبال نے چینی وفد کو پاکستان کے قومی اقتصادی ایجنڈے ”اڑان پاکستان“ سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا سب سے بڑا چیلنج برآمدات کی کمزور بنیاد ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین سالانہ 2.6 ٹریلین ڈالر کی درآمدات کرتا ہے جبکہ اس میں پاکستان کا حصہ صرف 3 ارب ڈالر کے قریب ہے، جسے بڑھانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے میں چین نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نکالا اور اب سی پیک 2.0 کے ذریعے پاکستان اپنے برآمدی خسارے پر قابو پانے کے لیے پرعزم ہے۔
پروفیسر احسن اقبال نے صنعتی انقلاب 4.0 اور 5.0 کے تحت آٹومیشن، روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی میں چینی تجربات سے استفادہ کرنے کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے زور دیا کہ سی پیک 2.0 کا اصل محور کاروبار سے کاروبار تعاون ہے، جس کے تحت صنعتی، زرعی اور معدنی شعبوں میں علاقائی و عالمی سطح پر نجی شعبوں کا اشتراکِ عمل ضروری ہے۔
چینی وفد کے سربراہ مسٹر سن ڈونگ شینگ نے پاک چین دوستی کی مضبوطی کا اعادہ کرتے ہوئے سی پیک فیز ون کی کامیابیوں کو سراہا۔ انہوں نے زراعت، صنعت، پیداواری صلاحیت میں اضافے، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی شمولیت اور باہمی مفاد پر مبنی شراکت داری کے فروغ پر زور دیا۔
اجلاس کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ سی پیک 2.0 کے پانچ کوریڈورز اور پاکستان کے ”اڑان پاکستان“ فریم ورک کے درمیان تزویراتی ہم آہنگی کو عملی جامہ پہنایا جائے گا تاکہ بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سے آگے بڑھ کر صنعتی ترقی، مسابقت، اور کاروباری شراکت داری کے ذریعے مشترکہ خوشحالی کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی، اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے وزارتِ منصوبہ بندی کی ماہانہ ترقیاتی رپورٹ برائے جولائی 2026ء کے باضابطہ اجرا اور نئے مالی سال 2026-27 کے لیے اہداف و حکمتِ عملی کے آغاز پر میڈیا سے تفصیلی گفتگو کی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ غیر یقینی عالمی حالات، جغرافیائی کشیدگی، توانائی کی عالمی رسد میں رکاوٹوں اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان معاشی استحکام کے سفر کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی اولین ترجیح مشکل فیصلوں سے حاصل ہونے والے معاشی استحکام کو ہر قیمت پر برقرار رکھتے ہوئے اسے پائیدار ترقی، سرمایہ کاری، روزگار اور عوامی خوشحالی میں تبدیل کرنا ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ معاشی استحکام عوام کی قربانیوں، بہتر مالی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی فیصلوں کا نتیجہ ہے، اور “اڑان پاکستان” کے تحت اس معاشی استحکام کو مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کرنے کی رفتار مزید تیز کی جائے گی۔
وفاقی وزیر نے معاشی حقائق پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مالی سال 2025-26 میں پاکستان کی معیشت نے مضبوط بحالی کا مظاہرہ کیا اور شرحِ نمو 3.2 فیصد سے بڑھ کر 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس دوران زرعی شعبے کی شرحِ نمو 2.9 فیصد، صنعتی شعبے کی 3.5 فیصد جبکہ خدمات کے شعبے کی شرحِ نمو 4.1 فیصد رہی، جس سے مجموعی معاشی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ جولائی تا مئی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں 5.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ 22 میں سے 16 بڑے صنعتی شعبوں نے مثبت ترقی دکھائی اور گاڑیوں کی صنعت میں 58.8 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ عالمی قیمتوں کے دباؤ کے باوجود مہنگائی کی شرح مقررہ ہدف سے کم رہی، جبکہ ترسیلاتِ زر 8.6 فیصد اضافے کے ساتھ 41.6 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔ اشیا و خدمات کی مجموعی برآمدات 40.9 ارب ڈالر رہیں اور جاری کھاتوں کا خسارہ صرف 139 ملین ڈالر تک محدود رہا۔ بین الاقوامی اداروں نے بھی پاکستان کی معاشی اصلاحات اور زرمبادلہ ذخائر میں بہتری کا اعتراف کیا ہے۔ مالی سال 2026-27 کے لیے شرحِ نمو کا ہدف 4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ آئندہ معاشی ترقی کا انحصار پیداواری صلاحیت، برآمدات، سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی اور نجی شعبے کے فعال کردار پر ہوگا۔ حکومت قوتِ خرید کے تحفظ، غربت میں کمی، کمزور طبقات کی معاونت اور نوجوانوں کے لیے روزگار کی فراہمی کو اولیت دے رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اوگرا کی مقررہ قیمتوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور ناجائز منافع خوری و ذخیرہ اندوزی کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ مالیاتی محاذ پر ایف بی آر کی محصولات 11.7 کھرب روپے سے بڑھ کر 13 کھرب روپے ہو گئیں، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے 15.2 کھرب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025-26 کے دوران سی ڈی ڈبلیو پی کے 21 اجلاسوں میں 192 منصوبوں کی منظوری دی گئی جبکہ 96 ایکنک کو بھیجے گئے، جن سے تقریباً 2 لاکھ 89 ہزار براہِ راست اور 4 لاکھ 24 ہزار بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور جائزہ کاری سے قومی خزانے کو 12.6 ارب روپے کی بچت ہوئی۔
تعلیم، نوجوانوں اور بین الاقوامی تعاون پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ اعلیٰ تعلیم کو صنعتی انقلابات 4.0 اور 5.0 کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے نصاب کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور “یو ایس-پاکستان نالج کوریڈور” کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ دورۂ امریکہ کے دوران یونیورسٹی آف الینوائے نے پاکستان میں اپنا کیمپس قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ “اڑان پاکستان” کے تحت 2029ء تک قومی برآمدات کو 63 ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف پر کام جاری ہے، جبکہ پاکستان نے ترکیہ، ازبکستان اور ڈنمارک کے ساتھ زراعت، تعلیم، تجارت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ انہوں نے اختتام پر کہا کہ جو معیشت چند برس قبل دیوالیہ پن کے دہانے پر تھی، وہ آج پائیدار بحالی اور استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔