

محمود احمد, August 22,2026
اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 22 اگست 2026ء
اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ (یونیسف) نے شدید خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں عالمی انسانی امداد میں کٹوتیوں کی وجہ سے بنیادی طبی و غذائی خدمات تیزی سے بند ہو رہی ہیں، جس کا سب سے زیادہ نقصان معصوم بچوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
جنیوا میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے یونیسف کے ترجمان جیمز ایلڈر نے انکشاف کیا کہ امدادی کٹوتیوں کے نتیجے میں صومالیہ میں سینکڑوں غذائی اور صحتی مراکزبند ہو چکے ہیں، جبکہ تعلیم اور بچاؤ کے دیگر تحفظاتی پروگرام ختم ہو رہے ہیں۔ ترجمان کے مطابق سال 2026ء کے پہلے چھ مہینوں میں شدید غذائی قلت کے شکار بچوں کی سٹیبلائزیشن سینٹرز میں منتقلی میں 32 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کی بنیادی وجہ کمیونٹی کی سطح پر حفاظتی غذائی خدمات کی بندش ہے۔
یونیسف نے خبردار کیا کہ مراکزبند ہونے سے ماؤں کو بچوں کے علاج کے لیے طویل مسافت طے کرنا پڑتی ہے، جس سے علاج میں تاخیر اور بچوں کی ہلاکت کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ صومالیہ اس وقت شدید خشک سالی، سیلاب اور مشرقِ وسطیٰ کے تنازعات کی وجہ سے ایندھن اور کھاد کی گرانی جیسے سنگین بحرانوں سے گھرا ہوا ہے، جہاں فوری عالمی امداد کی اشد ضرورت ہے۔