عام آدمی کے لیے بڑا ریلیف: وزیراعظم کی پیٹرول ریلیف اسکیم کے ڈیجیٹل سسٹم کا افتتاح، 9771 کوڈ جاری

محمود احمد, September 14,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 14 ستمبر 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن نے ‘وزیراعظم پیٹرول ریلیف اسکیم’ کے لیے نادرا، صوبائی ایکسائز ڈیپارٹمنٹس اور ٹیلی کام آپریٹرز کے اشتراک سے تیار کردہ جامع اور خودکار ڈیجیٹل نظام کو فعال کر دیا ہے۔

اسکیم کے تحت موٹرسائیکل، رکشہ اور چنگچی مالکان کو ماہانہ 20 لیٹر تک، جبکہ 800 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں کے صارفین کو ماہانہ 30 لیٹر پیٹرول پر 100 روپے فی لیٹر کی بلاواسطہ رعایت دی جائے گی۔ دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو ماہانہ 2,000 روپے اور 800 سی سی گاڑیوں کے مالکان کو ماہانہ 3,000 روپے تک کا ریلیف حاصل ہوگا۔

شہریوں کی رجسٹریشن کے لیے ایس ایم ایس کوڈ 9771 مختص کر دیا گیا ہے۔ اسکیم میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے شہری کے شناختی کارڈ، اس کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سم اور ایکسائز ریونیو کے پاس درج گاڑی کے ریکارڈ کو آپس میں مربوط کیا گیا ہے۔

9771 پر ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کا آسان طریقہ:

  1. ابتدائی رجسٹریشن: اپنے نام پر درج سم سے REG لکھ کر اسپیس دیں، پھر بلا ڈیش شناختی کارڈ نمبر، گاڑی کا رجسٹریشن نمبر، صوبائی کوڈ اور رجسٹریشن کی تاریخ (DDMMYYYY) لکھ کر 9771 پر بھیجیں۔
    • صوبائی کوڈز: اسلام آباد (I)، پنجاب (P)، سندھ (S)، خیبرپختونخوا (K)، بلوچستان (B)، آزاد کشمیر (A)، گلگت بلتستان (G)۔
  2. فیول ٹوکن کے لیے: پیٹرول پمپ پر جانے سے قبل TOK لکھ کر 9771 پر بھیجیں۔ موصول ہونے والا ون ٹائم ٹوکن پمپ پر دکھانے پر فی لیٹر 100 روپے کی رعایت ملے گی۔

حکومتی اعلامیے کے مطابق، اسلام آباد میں اس سہولت کا اطلاق پیر اور منگل کی درمیانی شب سے ہو جائے گا، جبکہ پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں یہ سہولت بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سے میسر ہوگی۔ وزارتِ آئی ٹی نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ اس رجسٹریشن کے لیے کوئی فیس یا بینک پن کوڈ طلب نہیں کیا جاتا، لہٰذا جعلی لنکس یا کالز سے ہوشیار رہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

یہ خبر وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور نادرا کی جانب سے وزیراعظم پیٹرول ریلیف اسکیم کے جاری کردہ باضابطہ طریقہ کار پر مبنی ہے۔ عوام کو 9771 کے علاوہ کسی دوسرے نمبر پر ذاتی کوائف بھیجنے سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

ماخذ: وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام (MoITT)، نادرا (NADRA)، قومی خبر رساں ادارہ (APP)۔