برطانیہ کا مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی مصنوعات پر پابندیاں عائد کرنے کا قومی امکان

Spread the love

منصور احمد,September 08,2026

لندن (نیوز اینڈ نیوز) — 8 ستمبر 2026ء

برطانوی حکومت مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی طور پر قائم اسرائیلی بستیوں میں تیار ہونے والی تجارتی اشیا کی خرید و فروخت اور درامد پر سخت نئی پابندیاں عائد کرنے کا باقاعدہ اعلان کرنے جا رہی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق، برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ آج پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں مقبوضہ علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں سے متعلق حکومت کی جانب سے تیار کردہ مجوزہ اقدامات کی تفصیلی خاکہ پیش کریں گے۔ ذرائع کے مطابق ان ممکنہ پابندیوں میں بالخصوص غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کی زرعی مصنوعات کی برطانیہ میں تجارت پر مکمل بندش بھی شامل ہو سکتی ہے۔

ایڈ ملی بینڈ نے گزشتہ ہفتے اپنے اہم بیان میں کہا تھا کہ برطانوی حکومت اسرائیل کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات اور تجارتی پالیسی میں ایک جامع تبدیلی لانے کا اعلان کرے گی۔ برطانوی حکومت اس سے قبل بھی مقبوضہ بستیوں کی مسلسل توسیع کی شدید مخالفت کرتی آئی ہے، جبکہ اگست میں برطانوی وزیر خارجہ نے اسرائیل کے متنازع ای 1 سیٹلمنٹ منصوبے کو قطعی طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ ایسی آبادکاری دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے۔

حکومت کے اس موقف کو اس وقت مزید تقویت ملی جب 7 ستمبر کو برطانوی وزیراعظم نے امیرِ قطر سے اہم گفتگو کے دوران بھی مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی غصب شدہ زمینوں پر آبادکاری کے منصوبوں کو ناقابلِ قبول قرار دیا تھا۔

دوسری طرف اسرائیلی حکومت نے لندن کو خبردار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر برطانیہ نے اسرائیلی بستیوں کی تجارتی مصنوعات پر کسی بھی قسم کی پابندیاں لاگو کیں تو تل ابیب کی جانب سے فوری اور سخت جوابی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے بھی ممکنہ برطانوی اقدامات کی شدید مخالفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل میں متعین امریکی سفیر مائیک ہکابی نے ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ اس حساس معاملے پر واشنگٹن کی طرف سے سخت اور واضح ردِعمل سامنے آئے گا۔

برطانیہ کی جانب سے اٹھایا جانے والا یہ بڑا اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آ رہا ہے جب لندن کی حکومت اسرائیلی آبادکاری کی نئی پالیسی کو خطے میں پائیدار اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم پر بستیوں کی توسیع روکنے کے لیے سفارتی و معاشی دباؤ بڑھا رہی ہے۔