

محمود احمد, September 02,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 2 ستمبر 2026ء
ایران اور امریکی فورسز کے درمیان جاری 40 روزہ ہلاکت خیز جنگ کے دوران امریکی فضائیہ نے پیر اور منگل کی درمیانی شب مختلف ایرانی صوبوں پر شدید ترین بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں ایک خاتون، بچے، سیکیورٹی اہلکاروں اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈوز سمیت 18 افراد ہلاک جبکہ 108 سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
ایران کے وزیرِ صحت محمد رضا ظفرقندی نے میڈیا کو جاری کردہ ایک اہم ہنگامی اعلان میں امریکی حملوں کی ہلاکتوں کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ رواں 40 روزہ جنگ کے دوران ہونے والے خطرناک اور شديد ترین امریکی حملوں میں سے ایک تھا جس نے مختلف صوبوں کے کئی رہائشی و عسکری سائٹس کو نشانہ بنایا۔
رپورٹس کے مطابق امریکی بمباری کے دوران سیرِک کے پہاڑی علاقے کو بھی ہدف بنایا گیا، جہاں ایک گھر میں جاری شادی کی پرمسرت تقریب پر حملہ آور بمباری کے اثرات پڑے اور ایک بچے و خاتون سمیت چار افراد جان بحق اور 65 افراد زخمی ہو گئے۔ ہرمزگان یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز کے صدر پژمان شاہروخی نے بتایا کہ سیرِک کے اس واقعے کے 6 زخمی انتہائی نگہداشت کے وارڈ اور 26 سرجیکل وارڈز میں شدید حالت میں زیرِ علاج ہیں۔
بی بی سی فارسی کی جانب سے رابطہ کرنے پر امریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز نے ان ہلاکت خیز حملوں کی تردید نہیں کی اور موقف اپنایا کہ امریکی فوج ان رپورٹس سے مکمل طور پر ‘آگاہ’ ہے، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی افواج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔
امریکی ایئر سٹرائیکس کے مزید اثرات خوزستان صوبے میں اہواز اور آغاجاری کے مختلف مقامات پر دیکھنے کو ملے جہاں بمباری سے سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ‘عوامی سکیورٹی فورسز’ کا اہم رکن بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ ایران کی سپاہ پاسدارانِ انقلاب اسلامی نے باضابطہ تصدیق کی ہے کہ صوبہ کرمانشاہ میں آئی آر جی سی کی ایرو سپیس فورس کے چار اعلیٰ اہلکار امریکی حملے میں شہید ہو گئے ہیں، جبکہ لاوان جزیرے پر ہونے والے امریکی حملے کے نتیجے میں بسیج فورسز کے بھی تین اہلکار مارے گئے ہیں۔