او جی ڈی سی ایل کی بڑی کامیابی، تین برس میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت

Spread the love

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء:

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اور تاریخی اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے گزشتہ تین برسوں (2023ء سے اب تک) کے دوران ملک بھر کے تین بڑے صوبوں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں پاکستان کی مجموعی توانائی ضروریات پوری کرنے، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت میں انتہائی کلیدی کردار ادا کریں گی۔

اربوں روپے کی روزانہ بچت اور پیداواری صلاحیت سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، ان نئی دریافتوں سے مجموعی طور پر یومیہ تقریباً 17 ہزار 123 بیرل تیل اور 151 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی ایندھن کے متبادل کے طور پر قومی خزانے کو روزانہ تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے تک کی خطیر بچت ممکن ہو سکے گی۔

تین سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ دستاویزات کے مطابق کمپنی کی سالانہ کارکردگی درج ذیل رہی ہے:مالی سال 2023-24: اس عرصے کے دوران ملک میں پانچ نئے ذخائر دریافت کیے گئے جن سے یومیہ 481 بیرل تیل اور 29.66 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی صلاحیت سامنے آئی۔مالی سال 2024-25: اگلے مالی سال میں مزید پانچ بڑی دریافتیں ہوئیں، جس سے ملکی پیداوار میں 947 بیرل یومیہ تیل اور 34.49 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی اضافی صلاحیت کا اضافہ ہوا۔مالی سال 2025-26 (ابتدائی نو ماہ): رواں مالی سال کے دوران کمپنی نے زمین سے توانائی کے وسائل تلاش کرنے کی سرگرمیوں میں ریکارڈ تیزی لاتے ہوئے محض نو ماہ میں نو نئے ذخائر دریافت کیے، جن سے 15 ہزار 695 بیرل یومیہ تیل اور 86.95 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

‘باراغزئی ایکس-01′ کی سب سے نمایاں دریافت کمپنی کی حالیہ کامیابیوں میں خیبر پختونخوا کے علاقے میں ‘باراغزئی ایکس-01’ کی دریافت کو تزویراتی طور پر خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں ابتدائی آزمائشی پیداوار کے دوران ہی تقریباً 15 ہزار بیرل یومیہ تیل اور 45.36 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی ریکارڈ پیداواری صلاحیت سامنے آئی ہے۔

ذخائر کی تجدید اور ملکی وسائل کی مدت میں اضافہ او جی ڈی سی ایل نے اپنے زیرِ زمین محفوظ ذخائر کی تجدید کی شرح (ریزرو بدلنے کی شرح) میں بھی غیر معمولی بہتری ریکارڈ کی ہے۔ کمپنی کی ذخائر تجدید شرح مالی سال 2023-24 میں 56 فیصد تھی جو اگلے ہی سال بڑھ کر 167 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں بھی یہ شرح 153 فیصد پر مضبوطی سے برقرار رہی۔ ان شاندار کوششوں کے باعث 31 مارچ 2026ء تک کمپنی کے تیل و گیس ذخائر کی متوقع لائف لائن (مدت) 14 سال سے بڑھ کر اب 17 سال ہو گئی ہے، جس سے قومی توانائی وسائل کی پائیداری کو زبردست استحکام ملا ہے۔

نئے کنوؤں کی سسٹم میں شمولیت اور بحالی کے اقدامات کمپنی نے ان دریافت شدہ ذخائر کو فوری طور پر تجارتی بنیادوں پر ملکی استعمال میں لانے کے لیے 34 نئے کنوؤں اور فیلڈز کو قومی پیداواری نیٹ ورک کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پرانی فیلڈز میں 65 سے زائد بڑے تکنیکی آپریشنز اور 295 سے زیادہ بحالی (Workover) کے اقدامات کے ذریعے پہلے سے جاری پیداوار میں یومیہ تقریباً 17 ہزار بیرل اضافی تیل اور 90 ملین معیاری مکعب فٹ اضافی گیس شامل کر کے ملکی سپلائی کو بہتر بنایا گیا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کی یہ نئی دریافتیں نہ صرف ملکی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنائیں گی بلکہ درآمدی بل میں واضح کمی، مقامی صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور ڈگمگاتی قومی معیشت کے طویل مدتی استحکام میں بھی اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوں گی۔