عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ تعاون قابلِ ستائش، افرادی قوت کو جدید معاشی تقاضوں کے مطابق تیار کرنا ضروری ہے: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات اور رکنِ ایوانِ بالا (سینیٹر) محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے (ورلڈ بینک) کی جانب سے پاکستان کے ساتھ طویل اور پائیدار معاشی تعاون انتہائی قابلِ ستائش ہے، تاہم اب پاکستان کی افرادی قوت کو دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی عالمی معیشت کے جدید تقاضوں کے مطابق تیار کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت اور ناگزیر ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے کے اعلیٰ سطحی وفد کی اسلام آباد آمد وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے یہ اہم باتیں عالمی مالیاتی ادارے کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہیں، جس نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ان سے خصوصی ملاقات کی۔ اس معزز وفد کی قیادت عالمی ادارے میں انسانی ترقی کے شعبے کی نائب صدر کر رہی تھیں، جبکہ ان کے ہمراہ ادارے کے دیگر سینیئر حکام بھی اس اہم بیٹھک میں شامل تھے۔

نوجوان آبادی پاکستان کے لیے قیمتی اثاثہ ہے وزیر خزانہ نے گفتگو کے دوران واضح کیا کہ پاکستان کی بہت بڑی اور نوجوان آبادی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ایک بہترین اور سنہری موقع ہے۔ اس انسانی سرمائے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے ملک میں انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانا بے حد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو جدید ترین مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں ملکی و بین الاقوامی مزدوروں کی منڈی (لیبر مارکیٹ) کی ضروریات کے مطابق فنی تربیت دینا موجودہ حکومت کی اولین ترجیحات کا حصہ ہے۔

صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ پر ٹارگٹڈ سرمایہ کاری محمد اورنگزیب نے وفد کو بتایا کہ حکومت ملک بھر میں عام شہریوں کی صحت، تعلیم، سماجی تحفظ اور روزگار کے نئے مواقع بہتر بنانے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر براہِ راست اور ہدف کے مطابق سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ انہوں نے اس بات پر کڑا زور دیا کہ ملک میں مستقل اور پائیدار معاشی ترقی کے لیے اقتصادی اصلاحات کے ساتھ ساتھ کارخانوں اور زرعی شعبے کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرنا بھی بہت ضروری ہے۔

زچہ و بچہ کی صحت اور ابتدائی تعلیم پر تفصیلی غور اس اہم ملاقات کے دوران پاکستان میں انسانی ترقی کے بنیادی لائحہ عمل (ایجنڈے) پر تفصیلی اور باریک بینی سے گفتگو ہوئی، جس میں ماں اور بچے کی صحت، غذائیت کی کمی کو دور کرنے، ابتدائی بنیادی تعلیم کی فراہمی اور آبادی میں اضافے جیسے سنگین مسائل پر قابو پانے کے امور شامل تھے۔

عالمی تجربات سے فائدہ اٹھانے اور نجی شعبے کی شمولیت پر اتفاق عالمی مالیاتی ادارے کے وفد نے بھی پاکستان میں نوجوانوں کی مہارتوں کی ترقی، جدید ایجادات و معلومات کے استعمال اور معاشی عمل میں نجی شعبے کی شمولیت کو ملکی بقا کے لیے اہم قرار دیا۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں عوامی خدمات کی بہتری کے لیے دنیا کے دیگر کامیاب ممالک کے بین الاقوامی تجربات سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔

ملاقات کے اختتام پر پاکستان کے انسانی سرمائے کو مزید مضبوط و توانا بنانے، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے اور ملکی معیشت کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے اور حکومتِ پاکستان کے درمیان مشترکہ معاشی تعاون کو مستقبل میں بھی جاری رکھنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔

کاروباری برادری کا ساتھ دینے پر حکومت کا شکریہ، ملکی ترقی نجی شعبے کے تعاون سے ہی ممکن ہے: وزیراعظم شہباز شریف

کاشف عباسی ,june 03,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مشکل ترین معاشی حالات میں حکومتی پالیسیوں کا بھرپور ساتھ دینے پر ملک کی تاجر اور کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری ہی پاکستان کی اصل معاشی ترقی کی ضامن ہے۔

آئندہ مالی سال کے سالانہ گوشوارے پر صنعتکاروں سے مشاورت تفصیلات کے مطابق، وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملک کی معروف صنعتکار اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطح کے وفد نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں خصوصی ملاقات کی۔ یہ ملاقات حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال کے سالانہ مالیاتی گوشوارے (بجلی اور آمدنی کے تخمینے) کے حوالے سے جاری ملک گیر مشاورت کا حصہ تھی۔ اس اہم بیٹھک میں ملک کی مجموعی معاشی صورتحال، نئی سرمایہ کاری کے فروغ اور صنعتی ترقی کے امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

کاروباری برادری ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے وزیراعظم نے معزز وفد کا وزیراعظم ہاؤس میں خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ کاروباری برادری پاکستان کی معیشت کی مضبوطی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ تاجر برادری ملک کے اصل سفیر ہیں جو پوری دنیا میں پاکستان کی تجارتی پہچان بناتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ حکومت ملکی برآمدات میں اضافے پر مبنی معاشی ترقی کی پالیسی پر گامزن ہے اور اسی لیے پالیسی سازی کے ہر عمل میں نجی شعبے کی مشاورت کو بنیادی اور کلیدی اہمیت دی جا رہی ہے۔

غیر دستاویزی معیشت کو سرکاری دائرے میں لانے کا عزم وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کی غیر دستاویزی (غیر رسمی) معیشت کو سرکاری محصولاتی دائرے (ٹیکس نیٹ) میں لانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جا رہے ہیں، جبکہ کاروبار دوست پالیسیوں کے باعث اب ملکی معیشت میں واضح استحکام آ رہا ہے اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کا اصل مقصد ایسی صنعتوں کا فروغ ہے جن سے ملکی پیداوار میں اضافہ ہو، برآمدات بڑھیں اور ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو سکے۔

صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی پر خصوصی توجہ وزیراعظم نے مزید کہا کہ ملک میں صنعت، زراعت اور جدید معلوماتی ٹیکنالوجی (انفارمیشن ٹیکنالوجی) کے شعبوں کی ترقی کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے جبکہ ملک کے نوجوانوں کے لیے مختلف تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام بھی جاری ہیں تاکہ انہیں روزگار کے بہتر اور جدید مواقع میسر آ سکیں۔

خصوصی تجارتی عدالتوں کا قیام اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری اس اہم ملاقات کے دوران وفد کو حکومت کی جانب سے کیے جانے والے معاشی اقدامات پر تفصیلی آگاہی دی گئی جس میں بتایا گیا کہ سرکاری محصولات کے دیرینہ مقدمات کے جلد فیصلوں کے لیے قانونی اصلاحات کی گئی ہیں اور ملک میں خصوصی تجارتی (کمرشل) عدالتوں کے قیام پر کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ، کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے اندرونی حصوں تک رسائی کو آسان اور تیز بنانے کے منصوبے بھی آخری مراحل میں ہیں۔

تجارتی سامان کی ترسیل اور مصنوعی ذہانت کا قومی منصوبہ سرکاری حکام کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق، ریلوے اور شاہراہوں (موٹرویز) کے بنیادی ڈھانچے کی بہتری سے تجارتی سامان کی اندرون و بیرون ملک ترسیل میں نمایاں بہتری آئے گی، جبکہ حکومت ملک میں ‘مصنوعی ذہانت’ (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) پر مبنی ایک قومی منصوبہ بھی تشکیل دے رہی ہے تاکہ مختلف پیداواری شعبوں میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال بڑھا کر لاگت کو کم کیا جا سکے Industrial cost۔

حکومتی معاشی پالیسیوں پر تاجر برادری کا بھرپور اعتماد ملاقات میں موجود کاروباری وفد نے موجودہ حکومت کی معاشی پالیسیوں پر اپنے مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اب بالکل درست سمت میں گامزن ہے۔ کاروباری رہنماؤں نے صنعتوں کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی، محصولاتی اصلاحات، برآمدی ترقیاتی اقدامات اور جمع شدہ سرکاری واجبات (ٹیکس ریفنڈز) کی بروقت ادائیگیوں کے حکومتی اقدامات کو دل کھول کر سراہا۔

کاروباری برادری نے حکومت کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں صنعتی ترقی، برآمدات میں ریکارڈ اضافے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم کے اقدامات قابلِ تحسین ہیں۔ اس اہم ترین ملاقات میں وفاقی وزراء اور دیگر اعلیٰ سرکاری حکام نے بھی شرکت کی۔

امریکہ نے پاکستان سمیت دنیا کے ساٹھ ممالک پر نئے تجارتی ٹیکس عائد کر دیے، عالمی معیشت میں ہلچل

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی حکومت نے ایک بہت بڑا معاشی فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے ساٹھ (60) اہم تجارتی شراکت دار ممالک سے آنے والے سامان پر دس (10) سے ساڑھے بارہ (12.5) فیصد تک نئے درآمدی ٹیکس (ٹیرف) نافذ کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے اس غیر متوقع فیصلے کو عالمی تجارت اور معاشی نظام کے لیے ایک انتہائی سخت اور دور رس قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

جبری مشقت کے قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی کا الزام امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق، یہ سخت معاشی فیصلہ ایک طویل تحقیقاتی عمل کے بعد کیا گیا ہے۔ امریکی مقتدر حلقوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مذکورہ ساٹھ ممالک اپنے ہاں جبری مشقت (مزدوروں سے زبردستی کام لینے) کے مروجہ طریقوں سے تیار ہونے والی مصنوعات کی روک تھام کے لیے مؤثر قوانین بنانے اور ان پر سختی سے عملدرآمد کروانے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔ اسی بنیاد پر ان ممالک سے امریکہ آنے والی تمام برآمدات پر اضافی درآمدی ڈیوٹی اور ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔

پاکستان، برطانیہ اور یورپی یونین سمیت بڑے شراکت دار ہدف پر رپورٹ کے مطابق، امریکہ کی اس نئی اور کڑی تجارتی پالیسی کی زد میں آنے والے ساٹھ ممالک میں پاکستان، بھارت، برطانیہ، یورپی یونین کے رکن ممالک، کینیڈا اور جاپان جیسے امریکہ کے سب سے بڑے اور مستقل تجارتی شراکت دار شامل ہیں۔ یہ تمام ممالک ہر سال امریکہ کو مجموعی طور پر اربوں ڈالرز مالیت کی اشیاء برآمد کرتے ہیں، جس کے باعث عالمی ماہرینِ معیشت کی جانب سے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس نئی پالیسی سے پورے عالمی تجارتی نظام پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

امریکی مارکیٹ میں منصفانہ مسابقت اور مزدوروں کا تحفظ امریکی محکمہ تجارت نے اپنے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اپنایا ہے کہ یہ ہنگامی اقدام امریکی مارکیٹ میں منصفانہ کاروباری مسابقت کو یقینی بنانے اور جبری مشقت کے خلاف عالمی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک کے ساتھ آزادانہ تجارت جاری رکھنا جو مزدوروں کے حقوق پر مؤثر اقدامات نہیں کرتے، خود امریکی معیشت، مقامی کارخانوں اور امریکی محنت کشوں کے مفادات کے لیے شدید نقصان دہ ہے۔

عالمی تجارتی نظام میں شفافیت لانے کا دعویٰ امریکی نمائندہ برائے تجارت نے بھی واشنگٹن کے اس بڑے اقدام کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاشی ٹیکس کا اصل مقصد عالمی تجارتی نظام میں شفافیت، برابری اور انصاف کو فروغ دینا ہے تاکہ امریکی مصنوعات اور وہاں کے مقامی محنت کشوں کو بین الاقوامی سطح پر ہونے والے غیر منصفانہ مقابلے سے مستقل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

برآمدی صنعتوں پر دباؤ اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کا خطرہ دوسری جانب، بین الاقوامی معاشی مبصرین اور تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکہ کے اس یکطرفہ فیصلے سے عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ، غیریقینی صورتحال اور مختلف بلاکس کے درمیان تجارتی کشیدگی میں بے پناہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے کے بعد پاکستان سمیت تمام متاثرہ ممالک کی مقامی برآمدی صنعتوں پر مالی دباؤ بڑھے گا اور ان کے لیے امریکی مارکیٹ میں اپنی مصنوعات سستے داموں بیچنا اب ممکن نہیں رہے گا۔

بجلی کی سبسڈی ختم نہیں ہو رہی، مستحق صارفین کو ریلیف ملتا رہے گا: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری

منصور احمد june 02,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 2 جون 2026ء

وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے بجلی کے بلوں سے پریشان عوام کے لیے بڑا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ حکومت دو سو (200) یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے تحفظ یافتہ (پروٹیکٹڈ) صارفین کی سبسڈی کسی صورت ختم نہیں کر رہی۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ملک کے غریب اور مستحق صارفین کو بدستور ریلیف فراہم کیا جاتا رہے گا۔

سبسڈی کے خاتمے کی افواہیں گمراہ کن اور حقائق کے منافی ہیں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں جاری حالیہ اصلاحات کا بنیادی مقصد غریب صارفین کو زیادہ سے زیادہ معاشی سہولت اور ریلیف فراہم کرنا ہے، جبکہ بعض سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے سبسڈی کے خاتمے سے متعلق پھیلائی جانے والی تمام رپورٹس حقائق کے بالکل منافی اور سراسر گمراہ کن ہیں۔

سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اضافہ وفاقی وزیر نے پریس کانفرنس کے دوران اہم اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ چار برسوں کے دوران سرکاری سبسڈی حاصل کرنے والے گھریلو صارفین کی تعداد میں ریکارڈ اور نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق، اس ریلیف سے مستفید ہونے والے صارفین کی تعداد پچانوے (95) لاکھ سے بڑھ کر اب دو کروڑ پندرہ لاکھ تک پہنچ چکی ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ ملک بھر کے تقریباً چھیاسی (86) فیصد گھریلو صارفین اس وقت حکومت کی جانب سے کسی نہ کسی صورت میں سستی بجلی یا سبسڈی حاصل کر رہے ہیں۔

مستحقین کے لیے جدید بائیو میٹرک اور تصویری رجسٹریشن کا نظام وفاقی وزیر نے کہا کہ سبسڈی کے اس پورے نظام کو مزید شفاف، منصفانہ اور مؤثر بنانے کے لیے ایک جدید تصویری اور رمزی کوڈ (کیو آر کوڈ) پر مبنی ڈیجیٹل نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اس نئے انتظامی اقدام کا اصل مقصد ملک کے حقیقی مستحق صارفین کا سو فیصد درست ڈیٹا مرتب کرنا اور سبسڈی کی فراہمی کو مزید منظم بنانا ہے۔ اس سلسلے میں ملک بھر میں نئی رجسٹریشن کا آغاز کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے صارفین سے ان کی بنیادی معلومات حاصل کی جائیں گی۔

بجلی کے بلوں پر کسی نئے ٹیکس کے نفاذ کی تردید سردار اویس لغاری نے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے واشنگٹن یا آئی ایم ایف کے دباؤ کے حوالے سے واضح کیا کہ بجلی کے بلوں پر کسی بھی نئے ٹیکس کے نفاذ کی کوئی تجویز اس وقت حکومت کے زیرِ غور نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور پوری کابینہ بجلی کے نرخوں میں بتدریج کمی لانے اور صارفین کو براہِ راست ریلیف فراہم کرنے کے اپنے تحریری وعدے پر قائم ہے اور توانائی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے مثبت نتائج اب سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔

نجی بجلی گھروں سے معاہدوں پر نظرثانی اور ساڑھے تین کھرب روپے کی بچت انہوں نے بتایا کہ ملک کے آزاد بجلی پیدا کرنے والے نجی کارخانوں (آئی پی پیز) کے ساتھ ماضی کے معاہدوں پر کامیاب نظرثانی کے نتیجے میں قومی خزانے کو تقریباً ساڑھے تین کھرب روپے کی خطیر بچت ممکن ہوئی ہے۔ اسی طرح، بجلی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کے انتظامی نقصانات اور بجلی چوری میں نمایاں کمی لا کر ایک سو تریانوے (193) ارب روپے کی بچت حاصل کی گئی ہے، جبکہ مالی سال 2024-25 کے دوران ملک کے مجموعی گردشی قرضے میں سات سو اسی (780) ارب روپے کی تاریخی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

شمسی توانائی اور نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے حکومتی پالیسی وفاقی وزیر توانائی نے شمسی توانائی (سولر سسٹم) کے حوالے سے جاری افواہوں کو رد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک میں شمسی توانائی کے فروغ کی مکمل اور اصولی حمایت کرتی ہے اور عوام میں سولر نظام اپنانے کی ہرگز حوصلہ شکنی نہیں کی جا رہی۔ انہوں نے واضح کیا کہ گھروں کی بجلی واپس گرڈ کو بیچنے کا نظام (نیٹ میٹرنگ) اپنے اصل قانون کے ساتھ مکمل برقرار ہے، صرف بلنگ کے طریقہ کار کو پہلے سے زیادہ شفاف اور پائیدار بنایا جا رہا ہے تاکہ امیر اور غریب تمام صارفین کو منصفانہ معاشی سہولت فراہم کی جا سکے۔

انہوں نے آخر میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ حکومت توانائی کے شعبے میں کڑے احتساب اور اصلاحات کا یہ عمل مستقبل میں بھی جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کے بجلی کے نظام کو معاشی طور پر مستحکم، شفاف، چوری سے پاک اور مکمل طور پر عوام دوست بنایا جا سکے۔

ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات روکنے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بڑا اعلان، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ

محمود احمد june 01,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

امریکی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر، اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری تمام پسِ پردہ سفارتی پیغامات کے تبادلے کو فوری طور پر روکنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تہران نے عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو مکمل بند کرنے اور دیگر علاقائی محاذوں کو فعال کرنے کا سنگین عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اب مذاکرات کے تمام امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور خطے کی صورتحال ایک نئے اور ہولناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت اور لبنانی علاقوں سے انخلا کا مطالبہ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حکام نے غزہ اور لبنان میں جاری اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے فی الفور اور مکمل انخلا کرے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو خطے میں جاری اس تمام خونریزی اور کشیدگی کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک پر کڑی تنقید کی ہے۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بند کرنے کا اعلان ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران حکام نے تزویراتی طور پر اہم ترین بین الاقوامی بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل بند کرنے اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے ‘باب المندب’ سمیت دیگر مزاحمتی محاذوں کو متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، سفارتی و عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایران کی جانب سے کیے جانے والے عملی اقدامات اور ان کے حتمی وقت کے بارے میں ابھی تک تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کابینہ اجلاس سے اہم خطاب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اور ملک کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت ہر قسم کے بیرونی چیلنج اور جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک اپنے اصولی مؤقف اور دفاعی پالیسیوں پر سختی سے ثابت قدم رہے گا اور ہر مشکل ترین صورتحال کا دلیری سے مقابلہ کرے گا۔ صدر مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی قوم اپنے اصولوں اور مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے قومی اتحاد، ملکی استقامت اور اسلامی مزاحمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے چنے ہوئے راستے پر مضبوطی سے گامزن رہے گا۔

وزارتِ خارجہ کا امریکہ پر سنگین الزامات اور سخت موقف دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر شدید ترین تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ خطے میں معصوم انسانوں کے خلاف جاری تمام اسرائیلی اقدامات اور جنگی جرائم کا برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک ناقابلِ اعتبار ملک ہے جو مسلسل اپنا سفارتی مؤقف تبدیل کرتا ہے اور مذاکرات کے دوران جان بوجھ کر نئے مطالبات سامنے لاتا رہتا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کے حق کو مکمل محفوظ سمجھتا ہے، اور اگر کسی بھی پڑوسی یا دور کے ملک کی سرزمین یا عسکری تنصیبات ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال کی گئیں، تو ایران ان کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کا پورا قانونی و اخلاقی حق رکھتا ہے۔

عالمی منڈیوں اور تجارتی حلقوں میں شدید ہلچل مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید ترین عسکری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں کی بندش کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں، تیل کی کمپنیاں اور بین الاقوامی تجارتی حلقے اس بدلتی ہوئی صورتحال پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پر عید کے دوران سیاحوں کی آمد توقع سے کم، ماہرین کا سہولیات کی کمی پر تشویش کا اظہار

کاشف عباسی ,june 01,2026

پشاور(نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

عیدالاضحیٰ کی طویل تعطیلات کے دوران خیبرپختونخوا کے معروف اور خوبصورت سیاحتی مقامات پر سیاحوں کی آمد توقعات سے نمایاں طور پر کم رہی ہے۔ سرکاری طور پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گلیات، سوات، کالام، کمراٹ، کاغان اور ناران سمیت صوبے کے مختلف تفریحی علاقوں میں مجموعی طور پر گیارہ لاکھ چونسٹھ ہزار سے زائد افراد نے سفر کیا، جبکہ اس پورے سیزن کے دوران غیر ملکی سیاحوں کی تعداد انتہائی مایوس کن یعنی ایک سو سے بھی کم ریکارڈ کی گئی ہے۔

مختلف وادیوں میں سیاحوں کی آمد کے سرکاری اعداد و شمار صوبائی سیاحتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، عید کے دنوں میں سب سے زیادہ سیاحوں نے وادی سوات کا رخ کیا جہاں تین لاکھ تینتیس ہزار سے زائد افراد تفریح کے لیے پہنچے۔ اس کے علاوہ سابق قبائلی اضلاع (ضم شدہ اضلاع) میں تین لاکھ چورانوے ہزار، وادی ناران میں ایک لاکھ دس ہزار، جبکہ مری کے قریب واقع گلیات کے مختلف خوبصورت علاقوں میں بھی ایک لاکھ دس ہزار سے زائد افراد نے سیاحت کی۔

سرکاری اعداد و شمار پر ماہرین کے تحفظات سیاحت کے شعبے سے وابستہ ماہرین نے ان سرکاری اعداد و شمار پر تفصیلی تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جاری کیے گئے ان اعداد و شمار میں وہاں کی مقامی آبادی اور عید کی تعطیلات گزارنے کے لیے اپنے آبائی گھروں کو جانے والے افراد کو بھی شامل کر لیا گیا ہے۔ اس خلط ملط کی وجہ سے اصل سیاحوں (تفریح کی غرض سے آنے والوں) کی اصل تعداد کا درست اور شفاف اندازہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔

انتظامی کمزوریاں اور مری سے موازنہ ماہرین کے مطابق، گلیات سمیت خیبرپختونخوا کے دیگر سیاحتی علاقوں میں بیک وقت لاکھوں افراد کو ٹھہرانے کی وسیع گنجائش موجود ہے، تاہم جدید سہولیات کی شدید کمی، ناقص طویل المدتی منصوبہ بندی، انتظامی کمزوریوں اور بنیادی ڈھانچے (سڑکوں وغیرہ) کی خرابی کے باعث یہ خوبصورت علاقے اپنی مکمل صلاحیت کے مطابق سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں۔ ماہرین نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ عید کے دوران مری میں ہوٹلوں اور رہائشی مقامات پر شدید رش رہا اور بہت سے سیاحوں کو مجبورا اپنی گاڑیوں میں راتیں گزارنا پڑیں، لیکن اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگوں نے قریبی گلیات کا رخ کرنے کے بجائے مری ہی میں مقیم رہنے کو ترجیح دی۔ ماہرین کے نزدیک اس کی بنیادی وجہ گلیات میں مناسب، فیملی کے لیے محفوظ اور سستی رہائش گاہوں کی شدید کمی اور بنیادی سیاحتی سہولیات کا فقدان ہے۔

سیاحت کے سنہری دور کا خاتمہ اور بند منصوبے سیاحتی ماہرین نے افسوس کے ساتھ نشاندہی کی کہ اب سے کئی برس قبل خیبرپختونخوا کے ان سیاحتی مقامات پر سیاحوں کا رش موجودہ صورتحال سے کہیں زیادہ ہوا کرتا تھا؛ ماضی میں عید کے موقع پر وادی سوات، کالام اور گلیات کے ہوٹلوں میں کمرے ملنا ناممکن ہو جاتا تھا، لیکن اب صورتحال اس کے بالکل برعکس نظر آتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کے اہم ترین تفریحی منصوبے، جیسے کہ ‘ایوبیہ کی چیئر لفٹ’، طویل عرصے سے بند پڑی ہے جبکہ متعدد دیگر تفریحی منصوبے بھی حکومت کی عدم توجہ کا شکار ہیں، جس سے صوبائی سیاحت کے فروغ پر انتہائی منفی اور گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

حکومت سے اصلاحات اور خصوصی تربیت کا مطالبہ ماہرین نے صوبائی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سیاحت کے شعبے میں وسیع تجربہ اور وژن رکھنے والے پیشہ ور افراد کو محکمہ سیاحت میں اہم ذمہ داریاں سونپی جائیں۔ اس کے ساتھ ہی، مقامی انتظامیہ اور متعلقہ محکموں کے افسران کو سیاحت اور مہمان نوازی (ہوسپیٹلٹی) کے شعبے کی خصوصی تربیت دی جائے اور تمام سیاحتی مقامات پر پینے کے صاف پانی، سستی رہائش اور اچھے راستوں جیسی بنیادی سہولیات کو ہنگامی بنیادوں پر بہتر بنایا جائے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں دوبارہ اضافہ ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مؤثر منصوبہ بندی، جدید ڈیجیٹل سہولیات اور بہتر سکیورٹی انتظامات فراہم کیے جائیں، تو خیبرپختونخوا کا یہ سیاحتی شعبہ صوبے کی معیشت کے لیے ایک انتہائی مضبوط، مستقل اور پائیدار ذریعہ آمدن بن سکتا ہے۔

پنجاب میں سولر اور نجی بجلی پیدا کرنے والے بڑے صنعتی و تجارتی یونٹس پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کی تیاری

منصور احمد june 01,2026

لاہور (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

پنجاب حکومت نے صوبے میں نجی طور پر اپنی بجلی خود پیدا کرنے والے بڑے صنعتی اور تجارتی اداروں پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کا ایک بڑا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس نئے حکومتی اقدام کے تحت اب سولر پاور سسٹمز (سولر پینلز) اور نجی جنریٹرز کے ذریعے بجلی پیدا کرنے والے تمام کمرشل اور صنعتی یونٹس سے بھی باقاعدہ سرکاری ڈیوٹی وصول کی جائے گی۔

باقاعدہ فریم ورک تیار اور فی یونٹ ڈیوٹی کا تعین سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومتِ پنجاب نے اس مقصد کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک باقاعدہ اور جامع فریم ورک تیار کر لیا ہے۔ اس فریم ورک کے تحت اپنی مدد آپ کے تحت بجلی پیدا کرنے والے بڑے کاروباری اور صنعتی اداروں پر “فی یونٹ 4 پیسے” کے حساب سے الیکٹرسٹی ڈیوٹی نافذ کی جائے گی، جو ان کے پیداواری بلوں میں شامل ہوگی۔

گیارہ سو سے زائد صنعتی و تجارتی مقامات دائرہ کار میں شامل حکومتی منصوبے کے مطابق، صوبے بھر میں قائم تقریباً ایک ہزار ایک سو ستتر (1177) بڑے صنعتی اور تجارتی مقامات کو اس نئی ڈیوٹی کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا بنیادی مقصد نجی سطح پر پیدا ہونے والی بجلی کا مکمل اور شفاف ریکارڈ مرتب کرنا اور صوبے میں توانائی کے شعبے میں نگرانی کے نظام کو پہلے سے زیادہ مؤثر بنانا ہے۔

سولر اور سیلف جنریشن سسٹمز کو دستاویزی بنانے کا فیصلہ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ حکومت نے سولر توانائی سمیت تمام بڑے سیلف جنریشن سسٹمز کو مکمل طور پر دستاویزی (ڈاکیومنٹڈ) نظام میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نجی طور پر پیدا کی جانے والی بجلی کے درست اعداد و شمار کو سرکاری سطح پر باقاعدہ طور پر محفوظ رکھنا اور صوبائی ریونیو (آمدن) کی وصولی کے نظام کو مزید وسعت دینا ہے۔

صنعتی لاگت میں اضافے کا خدشہ اور کاروباری حلقوں کی تشویش اقتصادی اور توانائی کے ماہرین کے مطابق، اس فیصلے سے پنجاب حکومت کی سرکاری آمدنی میں تو یقیناً اضافہ متوقع ہے، تاہم دوسری جانب صنعتی اور تجارتی شعبے میں بجلی کی مجموعی لاگت مزید بڑھنے کا واضح امکان پیدا ہو گیا ہے۔ کاروباری اور تاجر حلقوں نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سولر توانائی اور نجی بجلی پیدا کرنے کے نظام پر اس قسم کے اضافی مالی بوجھ سے کارخانوں کی پیداواری لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے منفی اثرات مارکیٹ کے مختلف دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہونے کا شدید خدشہ ہے۔

پنجاب حکومت کی جانب سے اس مجوزہ ڈیوٹی کے باقاعدہ نفاذ، تاریخ اور وصولی کے طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلی گائیڈ لائنز جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔

او جی ڈی سی ایل کی بڑی کامیابی، تین برس میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت

کاشف عباسی ,May 31 ,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) – 31 مئی 2026ء:

آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے ملک میں توانائی کے شدید بحران سے نمٹنے کے لیے ایک اور تاریخی اور بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ کمپنی نے گزشتہ تین برسوں (2023ء سے اب تک) کے دوران ملک بھر کے تین بڑے صوبوں سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا میں تیل و گیس کے 19 نئے ذخائر دریافت کر لیے ہیں۔ معاشی ماہرین کے مطابق یہ دریافتیں پاکستان کی مجموعی توانائی ضروریات پوری کرنے، مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرنے اور قیمتی زرِ مبادلہ کی بچت میں انتہائی کلیدی کردار ادا کریں گی۔

اربوں روپے کی روزانہ بچت اور پیداواری صلاحیت سرکاری دستاویزات سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق، ان نئی دریافتوں سے مجموعی طور پر یومیہ تقریباً 17 ہزار 123 بیرل تیل اور 151 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی قوی توقع ہے، جس کے نتیجے میں درآمدی ایندھن کے متبادل کے طور پر قومی خزانے کو روزانہ تقریباً ایک ارب 20 کروڑ روپے تک کی خطیر بچت ممکن ہو سکے گی۔

تین سالہ کارکردگی کا تفصیلی جائزہ دستاویزات کے مطابق کمپنی کی سالانہ کارکردگی درج ذیل رہی ہے:مالی سال 2023-24: اس عرصے کے دوران ملک میں پانچ نئے ذخائر دریافت کیے گئے جن سے یومیہ 481 بیرل تیل اور 29.66 ملین معیاری مکعب فٹ گیس حاصل ہونے کی صلاحیت سامنے آئی۔مالی سال 2024-25: اگلے مالی سال میں مزید پانچ بڑی دریافتیں ہوئیں، جس سے ملکی پیداوار میں 947 بیرل یومیہ تیل اور 34.49 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی اضافی صلاحیت کا اضافہ ہوا۔مالی سال 2025-26 (ابتدائی نو ماہ): رواں مالی سال کے دوران کمپنی نے زمین سے توانائی کے وسائل تلاش کرنے کی سرگرمیوں میں ریکارڈ تیزی لاتے ہوئے محض نو ماہ میں نو نئے ذخائر دریافت کیے، جن سے 15 ہزار 695 بیرل یومیہ تیل اور 86.95 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس حاصل ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔

‘باراغزئی ایکس-01′ کی سب سے نمایاں دریافت کمپنی کی حالیہ کامیابیوں میں خیبر پختونخوا کے علاقے میں ‘باراغزئی ایکس-01’ کی دریافت کو تزویراتی طور پر خاص اہمیت حاصل ہے، جہاں ابتدائی آزمائشی پیداوار کے دوران ہی تقریباً 15 ہزار بیرل یومیہ تیل اور 45.36 ملین معیاری مکعب فٹ یومیہ گیس کی ریکارڈ پیداواری صلاحیت سامنے آئی ہے۔

ذخائر کی تجدید اور ملکی وسائل کی مدت میں اضافہ او جی ڈی سی ایل نے اپنے زیرِ زمین محفوظ ذخائر کی تجدید کی شرح (ریزرو بدلنے کی شرح) میں بھی غیر معمولی بہتری ریکارڈ کی ہے۔ کمپنی کی ذخائر تجدید شرح مالی سال 2023-24 میں 56 فیصد تھی جو اگلے ہی سال بڑھ کر 167 فیصد کی تاریخی سطح تک پہنچ گئی، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں بھی یہ شرح 153 فیصد پر مضبوطی سے برقرار رہی۔ ان شاندار کوششوں کے باعث 31 مارچ 2026ء تک کمپنی کے تیل و گیس ذخائر کی متوقع لائف لائن (مدت) 14 سال سے بڑھ کر اب 17 سال ہو گئی ہے، جس سے قومی توانائی وسائل کی پائیداری کو زبردست استحکام ملا ہے۔

نئے کنوؤں کی سسٹم میں شمولیت اور بحالی کے اقدامات کمپنی نے ان دریافت شدہ ذخائر کو فوری طور پر تجارتی بنیادوں پر ملکی استعمال میں لانے کے لیے 34 نئے کنوؤں اور فیلڈز کو قومی پیداواری نیٹ ورک کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف پرانی فیلڈز میں 65 سے زائد بڑے تکنیکی آپریشنز اور 295 سے زیادہ بحالی (Workover) کے اقدامات کے ذریعے پہلے سے جاری پیداوار میں یومیہ تقریباً 17 ہزار بیرل اضافی تیل اور 90 ملین معیاری مکعب فٹ اضافی گیس شامل کر کے ملکی سپلائی کو بہتر بنایا گیا ہے۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ او جی ڈی سی ایل کی یہ نئی دریافتیں نہ صرف ملکی توانائی کے تحفظ کو مضبوط بنائیں گی بلکہ درآمدی بل میں واضح کمی، مقامی صنعتی سرگرمیوں کے فروغ اور ڈگمگاتی قومی معیشت کے طویل مدتی استحکام میں بھی اہم ترین سنگِ میل ثابت ہوں گی۔