عوامی ریلیف کی مقتدر فراہمی: بجٹ میں قوم سے کیے وعدے کے مطابق تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور عوام کو بھرپور ریلیف فراہم کیا، وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی حکومت کی معاشی ٹیم کے ساتھ منعقدہ اجلاس میں گفتگو

منصور احمد june 24,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 جون 2026ء

وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے عام عوام اور ملکی کاروباری برادری کے لیے تزویراتی ریلیف کو خاص طور پر مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ مالی سال کا بجٹ تشکیل دینے پر حکومتی بالخصوص وزارتِ خزانہ کی پوری ٹیم کی زبردست پذیرائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بجٹ میں قوم سے کیے ہوئے مقتدر وعدے کے مطابق تنخواہ دار طبقے، کاروباری برادری اور عام عوام کو ہر ممکن اور بھرپور ریلیف فراہم کیا گیا ہے۔ وزیرِ اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے بدھ کے روز جاری کردہ مقتدر پریس ریلیز کے مطابق، وزیرِ اعظم نے حکومت کی اعلیٰ سطح کی معاشی ٹیم کے ساتھ منعقدہ ایک خصوصی اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیرِ مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، سیکریٹری خزانہ، چیئرمین ایف بی آر اور پوری حکومتی ٹیم کی شبانہ روز کاوشوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

اس مقتدر موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ میں محروم طبقات اور معیشت کے پہیے کو متحرک کرنے والے شعبوں کا خاص خیال رکھا گیا ہے، اور معاشی ٹیم کی اس حوالے سے تمام تر کوششیں بلاشبہ قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے معاشی ٹیم کو سختی سے ہدایت کی کہ ملک کے حالیہ بہتر ہوتے ہوئے معاشی اشاریوں کے تمام ثمرات براہِ راست ملک کے ہر شہری اور نچلے طبقے تک شفاف طریقے سے پہنچائے جائیں گے۔ دوسری جانب، حکومتی معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کی جانب سے ملنے والی اس مقتدر ستائش اور حوصلہ افزائی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کے محدود مالی وسائل کے باوجود عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرنے کی ایک انتہائی کامیاب کوشش کی ہے۔

معاشی ٹیم کے مقتدر ارکان نے بجٹ کی تیاری کے کٹھن عمل میں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بجٹ تجاویز کے حوالے سے ذاتی ملاقاتوں، عوامی ریلیف کے لیے واضح ہدایات اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے عوام کے ریلیف کے اقدامات منوانے کے حوالے سے خود دلچسپی لے کر تمام پیچیدہ معاملات سلجھانے پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وزیرِ اعظم کی براہِ راست ہدایت کے تحت بجٹ کی تیاری کے لیے متعدد طویل اجلاس منعقد کیے گئے اور تمام طبقاتِ فکر سے تفصیلی رہنمائی لی گئی تاکہ ایک بہترین اور متوازن بجٹ پیش کر کے غریب طبقات کا تحفظ کیا جا سکے۔ معاشی ٹیم نے وزیرِ اعظم کی مقتدر قیادت میں پاکستان کی پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی اور مالیاتی استحکام کے لیے اپنے اقدامات اور عزم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھنے کا پختہ اعادہ کیا۔

وفاقی بجٹ 2026-27ء، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان زرداری ہاؤس میں اہم مشاورتی اجلاس، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی پی پی پی کی تجاویز بجٹ میں شامل کرنے کی یقین دہانی، وزیراعظم شہباز شریف آج تیسرے دور میں شریک ہوں گے

کاشف عباسی ,june 08,2026

اسلام آباد(نیوز اینڈ نیوز) — 08 جون 2026ء

نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو باقاعدہ یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں پارٹی کی جانب سے پیش کردہ تمام تجاویز اور سفارشات پر سنجیدگی سے غور کر کے انہیں شامل کیا جائے گا، وفاقی دارالحکومت سے حاصل ہونے والی تفصیلات کے مطابق یہ یقین دہانی اتوار کے روز پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین ہونے والے ایک انتہائی اہم اور اعلیٰ سطح کے مشاورتی اجلاس میں کرائی گئی، جو زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا، اس اہم بیٹھک میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپنے پارٹی وفد کی خود قیادت کی، جس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹر شیری رحمان اور رکن قومی اسمبلی سید نوید قمر جیسی اہم سیاسی شخصیات شامل تھیں، سفارتی و سیاسی ذرائع کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان وفاقی بجٹ، نئے ترقیاتی منصوبوں، صوبوں کے جائز مالی حقوق اور ملک بھر میں عوامی ریلیف کے مختلف اقدامات پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اہم اجلاس اصل میں ہفتہ کے روز ہونا تھا، تاہم گلگت بلتستان کے انتخابات سے متعلق گوں نا گوں مصروفیات کے باعث پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی خصوصی درخواست پر اسے اتوار تک کے لیے مؤخر کر دیا گیا تھا، اب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین بجٹ مشاورت کا تیسرا اہم دور پیر یعنی آج متوقع ہے، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف بھی لاہور سے اپنی واپسی کے فوراً بعد خود شرکت کریں گے، سیاسی مبصرین کے مطابق وفاقی بجٹ پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے سے قبل اتحادی جماعتوں کے درمیان جاری یہ مسلسل مشاورت حکومتی اتحاد کے مستقبل کے استحکام اور بجٹ کی بلا رکاوٹ منظوری کے لیے انتہائی اہم اور کلیدی قرار دی جا رہی ہے، کیونکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے غریب عوام کو ریلیف دینے، ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور صوبائی حقوق سے متعلق متعدد سخت اور اہم تجاویز حکومت کے سامنے رکھی گئی ہیں۔

بجٹ 26-2025ء سے قبل وفاقی حکومت کا بڑا معاشی ایکشن، ای سی سی نے اربوں روپے کے اہم مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی منظوری دے دی، پی ایس او کے لیے ۱۰۰ ارب روپے کی فنانسنگ سہولت اور ترقیاتی اسکیموں کے لیے اضافی فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ

کاشف عباسی ,june 06,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 06 جون 2026ء

نئے مالی سال چھبیس ستائیس (27-2026) کے وفاقی بجٹ کی پیشکشی سے عین قبل حکومت کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعہ کے روز ایک اہم ترین اجلاس میں بڑے مالی اور ترقیاتی فیصلوں کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کے تحت چالیس ارب روپے سے زائد کی سپلیمنٹری گرانٹس اور شدید مالی بحران کے شکار ادارے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے لیے سو ارب روپے کی ہنگامی فنانسنگ سہولت شامل ہے، اسلام آباد سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہ اعلٰی سطح کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت منعقد ہوا جس میں ملک کے مختلف نازک مالی امور، سرکاری اداروں کی فوری ضروریات اور توانائی کے شعبے کو درپیش گردشی قرضوں کے سنگین مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا، اجلاس میں ای سی سی نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان اسٹیٹ آئل کے لیے سو ارب روپے کی خودمختار ضمانت یعنی سوورن گارنٹی پر مبنی فنانسنگ کی خصوصی منظوری دی، عسکری و حکومتی حکام کے مطابق پی ایس او کو اس وقت دیگر مختلف سرکاری اداروں سے نو سو ارب روپے سے زائد کی خطیر واجب الادا رقوم کی عدم وصولی کا سامنا ہے جس کے باعث ملک میں تیل کی سپلائی چین متاثر ہونے اور ایندھن کی قلت کے شدید خدشات پیدا ہو رہے تھے، کمیٹی نے اس بحران کو ٹالنے کے ساتھ ساتھ چالیس ارب روپے سے زائد کی اضافی گرانٹس کی بھی منظوری دی جبکہ ارکانِ پارلیمنٹ کی مختلف ترقیاتی اسکیموں کے لیے دس ارب روپے کی اضافی فنڈنگ جاری کرنے کی بھی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے، مزید برآں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کے تحت جاری منصوبوں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے سات اعشاریہ صفر دو چھ (7.026) ارب روپے کی تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی گئی ہے، ایک اور اہم فیصلے کے تحت ای سی سی نے مختلف وفاقی وزارتوں اور سرکاری محکموں میں ملازمین کے لیے خصوصی اعزازیہ کے دائرہ کار کو مزید وسعت دے دی ہے جس میں اب لا اینڈ جسٹس ڈویژن، کامرس ڈویژن اور اکاؤنٹنٹ جنرل آف پاکستان ریونیو کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ یہ سہولت پہلے سے ہی وزارتِ خزانہ، ریونیو، پلاننگ، ایف بی آر، قومی اسمبلی، سینیٹ اور وزیراعظم آفس جیسے اعلٰی ترین اداروں کو حاصل تھی، اجلاس کے دوران گلگت بلتستان میں ہونے والے آئندہ انتخابات سے قبل وہاں کے لیے چار اعشاریہ تین اٹھ (4.38) ارب روپے کی خطیر خصوصی گرانٹ کی بھی فوری منظوری دی گئی، وزارتِ خزانہ کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ تمام اہم ترین فیصلے جاری مالی سال کے اختتامی مرحلے میں ناگزیر حکومتی ضروریات کو پورا کرنے اور ملکی ترقیاتی کاموں کا تسلسل برقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں جبکہ دوسری جانب نئے بجٹ کی تیاریاں اب اپنے آخری اور حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہیں۔