

محمود احمد, October07,2026
اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء
پاکستان نے اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے درمیان سیاسی روابط اور ادارہ جاتی ہم آہنگی مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ افریقہ کو درپیش امن و سلامتی کے مسائل سے نمٹنے کی عالمی کوششوں میں افریقی ملکیت اور قیادت کو مرکزی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
اقوام متحدہ اور علاقائی و ذیلی علاقائی تنظیموں کے درمیان تعاون، بالخصوص افریقی یونین کے حوالے سے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اقوام متحدہ اور افریقی یونین کی شراکت داری نے ایک مضبوط ادارہ جاتی بنیاد حاصل کرلی ہے، تاہم اب اسے زیادہ سیاسی ہم آہنگی اور عملی نتائج میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ افریقہ میں امن و سلامتی کی صورتحال مختلف عوامل کے باعث مزید پیچیدہ ہورہی ہے۔ ان میں طویل عرصے سے جاری تنازعات، دہشت گردی میں اضافہ، بیرونی مداخلت اور مختلف سفارتی و ثالثی کوششوں کے درمیان عدم ہم آہنگی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی علاقائی حقائق کے مطابق ہونی چاہیے اور افریقی اداروں کو ان اقدامات کی تشکیل اور عملدرآمد میں مکمل طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔
سوڈان اور مشرقی کانگو میں سفارتی کوششوں میں ہم آہنگی پر زور
سفیر عثمان جدون نے سوڈان اور مشرقی جمہوریہ کانگو کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف سفارتی کوششوں کے درمیان زیادہ مؤثر رابطہ ضروری ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ، افریقی یونین اور متعلقہ ذیلی علاقائی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کی کوششوں کو تقویت دینے والی مشترکہ سیاسی حکمت عملی اختیار کریں، جس میں مؤثر عملدرآمد اور مسلسل فالو اَپ کو اہمیت دی جائے۔
انہوں نے سلامتی کونسل میں موجود تین افریقی ممالک پر مشتمل A3 کے کردار کو بھی اہم قرار دیا اور کہا کہ یہ گروپ سلامتی کونسل کی کارروائی میں افریقی نقطۂ نظر کی مؤثر نمائندگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
پاکستانی نائب مستقل مندوب نے افریقی امور پر A3 اور متعلقہ افریقی ممالک کے ساتھ قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
قرارداد 2719 اور امن معاونت کی کارروائیاں
سفیر عثمان جدون نے سلامتی کونسل کی قرارداد 2719 کے حوالے سے فریم ورک سے عملی نفاذ کی جانب پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے مشترکہ منصوبہ بندی، مشن کی معاونت، مالی وسائل، قواعد و ضوابط کی پابندی اور شہریوں کے تحفظ کے شعبوں میں پیش رفت کا ذکر کیا۔
انہوں نے افریقی یونین کی قیادت میں امن معاونت کی کارروائیوں کے لیے مناسب، قابلِ پیش گوئی اور پائیدار مالی معاونت کی پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
صومالیہ میں AUSSOM کے حوالے سے انہوں نے سلامتی کی ذمہ داریوں کی منتقلی میں مشن کی اہمیت اجاگر کی اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے فوجی دستے فراہم کرنے والے ممالک کی خدمات کو سراہا۔
انہوں نے افریقی یونین کے امن فنڈ کے بڑھتے ہوئے کردار کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ ایسے مشنز کی مؤثریت کے لیے عالمی برادری کی وسیع تر اور حقیقی ذمہ داری میں شراکت ضروری ہے۔
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ اقوام متحدہ اور افریقی یونین کی شراکت داری کو تنازعات کی روک تھام، ثالثی، قیامِ امن، امن سازی اور انسدادِ دہشت گردی سمیت امن کے مکمل سلسلے تک وسعت دی جانی چاہیے۔
انہوں نے ساحل، جھیل چاڈ کے طاس اور ہارن آف افریقہ جیسے خطوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان علاقوں میں افریقی اداروں کے تجربے اور زمینی حقائق سے قربت کو سلامتی کونسل کی غوروفکر اور فیصلہ سازی میں زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔
سلامتی کونسل اور افریقی یونین کی امن و سلامتی کونسل کے درمیان آئندہ سالانہ مشاورت کے تناظر میں سفیر عثمان جدون نے کہا کہ آئندہ ترجیح فریم ورک سے عملی نفاذ اور افریقی ملکیت کے محض اعلانات سے اس کے عملی اظہار کی جانب پیش رفت ہونی چاہیے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
پاکستان کا مؤقف اقوام متحدہ اور افریقی یونین کے درمیان تعاون، افریقی قیادت اور امن معاونت کے لیے مؤثر مالی و ادارہ جاتی تعاون پر مرکوز ہے۔ سوڈان، مشرقی کانگو، صومالیہ اور دیگر خطوں سے متعلق سفیر عثمان جدون کی گفتگو میں پاکستان کی سفارتی ترجیحات اور تجاویز بیان کی گئی ہیں، جنہیں خبر میں اسی تناظر میں پیش کیا گیا ہے۔
ماخذ: پاکستان مشن برائے اقوام متحدہ، نیویارک.