

روزینہ اسماعیل, September 04,2026
اقوام متحدہ / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاملے میں ہونے والی اہم اور مثبت پیش رفت کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور شامی حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین پر کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے عزم کو سراہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے باقی ماندہ ستائیس میں سے انیس زیرِ التوا امور کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق خصوصی بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے شامی عرب جمہوریہ کی جانب سے ارسال کردہ تازہ ترین مراسلات اور تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں سے وابستہ مختلف مقامات اور حال ہی میں ظاہر کی گئی دو اہم ذخیرہ گاہوں کے جائزوں سے متعلق اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔
سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کی جانب سے حاصل کی جانے والی پیش رفت تحسین اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ شام اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کے ٹیکنیکل سیکریٹریٹ کے درمیان قائم تعاون، باہمی اعتماد اور شفافیت کی فضا کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ضروری تکنیکی معاونت، ماہرانہ مشورے اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے شام کو تعاون فراہم کرے تا کہ باقی ماندہ امور جلد از جلد حل ہو سکیں۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے شام کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔
سفیر عثمان جدون نے پاکستان کا اصولی موقف دہرااتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی فرد، تنظیم یا فریق کی جانب سے دنیا میں کسی بھی مقام پر اور کسی بھی حالت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کا عالمی معاہدہ بین الاقوامی تخفیفِ اسلحہ اور عدمِ پھیلاؤ کے نظام کا بنیادی ستون ہے، اور پاکستان اس کے بلا تفریق اور مؤثر نفاذ کا حامی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل تکنیکی تصدیق، آزادانہ جائزہ اور عالمی تعاون کے نتیجے میں تمام زیرِ التوا مسائل احسن طریقے سے حل ہو جائیں گے اور شام کا کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ کامیابی سے اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔



























