اقوام متحدہ میں پاکستان کی جانب سے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے معاملے میں مثبت پیش رفت کا خیرمقدم

روزینہ اسماعیل, September 04,2026

اقوام متحدہ / نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 4 ستمبر 2026ء

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق معاملے میں ہونے والی اہم اور مثبت پیش رفت کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور شامی حکومت کی جانب سے اپنی سرزمین پر کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنے کے عزم کو سراہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی پاکستان نے باقی ماندہ ستائیس میں سے انیس زیرِ التوا امور کے حل کے لیے فریقین کے درمیان مسلسل روابط اور باہمی تعاون کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق خصوصی بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے شامی عرب جمہوریہ کی جانب سے ارسال کردہ تازہ ترین مراسلات اور تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے بتایا کہ شامی حکومت نے کیمیائی ہتھیاروں کی سرگرمیوں سے وابستہ مختلف مقامات اور حال ہی میں ظاہر کی گئی دو اہم ذخیرہ گاہوں کے جائزوں سے متعلق اہم تفصیلات فراہم کی ہیں۔

سفیر عثمان جدون نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شامی حکومت کی جانب سے حاصل کی جانے والی پیش رفت تحسین اور حوصلہ افزائی کی مستحق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو حتمی انجام تک پہنچانے کے لیے آگے بڑھنے کا واحد راستہ شام اور کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم کے ٹیکنیکل سیکریٹریٹ کے درمیان قائم تعاون، باہمی اعتماد اور شفافیت کی فضا کو مزید مضبوط بنانا ہے۔

پاکستانی مندوب نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ضروری تکنیکی معاونت، ماہرانہ مشورے اور صلاحیتوں میں اضافے کے لیے شام کو تعاون فراہم کرے تا کہ باقی ماندہ امور جلد از جلد حل ہو سکیں۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے شام کی خودمختاری، قومی وحدت اور علاقائی سالمیت کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

سفیر عثمان جدون نے پاکستان کا اصولی موقف دہرااتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی بھی فرد، تنظیم یا فریق کی جانب سے دنیا میں کسی بھی مقام پر اور کسی بھی حالت میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کا عالمی معاہدہ بین الاقوامی تخفیفِ اسلحہ اور عدمِ پھیلاؤ کے نظام کا بنیادی ستون ہے، اور پاکستان اس کے بلا تفریق اور مؤثر نفاذ کا حامی ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ مسلسل تکنیکی تصدیق، آزادانہ جائزہ اور عالمی تعاون کے نتیجے میں تمام زیرِ التوا مسائل احسن طریقے سے حل ہو جائیں گے اور شام کا کیمیائی ہتھیاروں کا معاملہ کامیابی سے اپنے منطقی انجام کو پہنچے گا۔

سفیر عاصم افتخار احمد کا ہیٹی کی قیادت میں سکیورٹی کاوشوں کی حمایت اور دیرپا امن کے لیے عالمی برادری سے تعاون کا مطالبہ

محمود احمد, August 29,2026

اقوام متحدہ، نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پاکستان نے کیریبین ملک ہیٹی کے علاقے کینسکوف میں مسلح گینگ کے حالیہ دلخراش اور سفاکانہ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ہیٹی میں ہیٹی کی اپنی قیادت میں جاری سکیورٹی کاوشوں کی بھرپور معاونت کرے۔ پاکستان نے زور دیا ہے کہ گینگ سپریشن فورس کی بروقت، مؤثر اور مکمل تعیناتی کے لیے درپیش تمام انتظامی، مالی اور لاجسٹک رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کیا جائے تاکہ متاثرہ عوام کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہیٹی کی کی تشویشناک سکیورٹی صورتحال کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایک ہنگامی اور اعلیٰ سطحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب، سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ حالیہ ہولناک حملے ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل عرصے سے جاری، ابتر اور نہایت تشویشناک سکیورٹی صورتِ حال کی ایک سنگین اور تلخ یاد دہانی ہیں۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں کی بین الاقوامی کوششوں کے باوجود وہاں کے حالات میں کوئی خاطر خواہ یا پائیدار بہتری نہیں آ سکی، جس سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی مکمل طور پر معطل ہو کر رہ گئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے سامنے ہیٹی کے معصوم شہریوں کی تکالیف کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ “حالیہ واقعہ ہیٹی کے عوام کو درپیش طویل اور سنگین سکیورٹی صورتِ حال کی ایک تلخ اور واضح یاد دہانی ہے۔ گینگ کی جانب سے شہریوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنا کر کیے جانے والے یہ ہولناک اور پرتشدد حملے خواتین اور معصوم بچوں کو غیر متناسب طور پر اور سب سے زیادہ متاثر کر رہے ہیں، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا ہوگا”۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے گزشتہ برس ہیٹی کے حکام کی مدد کے لیے منظور کی جانے والی \ کی تعیناتی کا حوالہ دیتے ہوئے پاکستانی مندوب نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ اس فورس کی بلا تاخیر اور مکمل تعیناتی کے ساتھ ساتھ ہیٹی میں غیر قانونی اسلحے، بارود اور ہتھیاروں کی ترسیل کو روکنے کے لیے عالمی سطح پر انتہائی مربوط اور مؤثر اقدامات اٹھانا بے حد ناگزیر ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غیر قانونی اسلحے کی رسد کا خاتمہ کیے بغیر گینگ تشدد کی مؤثر روک تھام اور عوام میں سکیورٹی و تحفظ کا بنیادی احساس بحال کرنا ممکن نہیں ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اس مشکل اور نازک وقت میں ہیٹی کے عوام اور حکومت کی معاونت کے لیے عالمی برادری کے باہمی تعاون کو مزید مضبوط اور وسیع بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہیٹی کے بحران کے ایک پائیدار، دیرپا اور جامع حل کے لیے وہاں جاری عدم استحکام کے بنیادی، کثیرالجہتی اور تاریخی اسباب سے نمٹنا انتہائی ضروری ہے، اور اس مقصد کے حصول کے لیے کوئی بھی ایسا لائحہ عمل تبھی کامیاب ہو سکتا ہے جو ‘ہیٹی کی قیادت میں اور ہیٹی کی ملکیت’ پر مبنی ہو۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے اپنے خطاب کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ “ہم کی عملی کارروائیوں کے لیے عالمی معاونت کو متحرک کرنے اور ہیٹی میں جاری طویل المدت تشدد کی بنیادی وجوہات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے جامع تخفیفِ اسلحہ، عدم مسلح کاری اور بحالیِ نو کی حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کے سلسلے میں شراکت داروں کے ‘اسٹینڈنگ گروپ’ کی کاوشوں اور اقدامات کا کھلے دل سے خیرمقدم کرتے ہیں”۔

بیان کے اختتام پر پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے ہیٹی کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل اور غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان ہیٹی میں دیرپا امن کی بحالی، سکیورٹی کے قیام، استحکام، تعمیرِ نو، اور ترقی و خوشحالی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور ہیٹی کی قیادت کے ساتھ مل کر اپنا مثبت، فعال اور تعمیری کردار مسلسل ادا کرتا رہے گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا شام کی خودمختاری کا اعادہ، اسرائیلی حملوں کی مذمت اور سیاسی حل پر زور

محمود احمد, August 28,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اگست 2026ء

پاکستان نے شام کی صورتحال میں رونما ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ تنازع، تقسیم اور انسانی بحران کے برسوں کے بعد اب شام کو استحکام، بحالی اور معمول کی جانب واپسی کے لیے ایک حقیقی موقع میسر آیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے زور دیا کہ اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اسے محفوظ اور برقرار رکھنے اور عالمی برادری کی جانب سے اس کی بھرپور حمایت کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ سفیر عثمان جدون نے شامی ریاست اور اس کے اداروں کے استحکام کو مستحکم بنانے کی اہمیت اجاگر کی اور شامی ڈیموکریٹک فورسز کو ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنے کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے جامع، شامی ملکیت اور شامی قیادت میں ایسے سیاسی عمل پر زور دیا جو قومی یکجہتی کو مضبوط کرے۔

شام کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ پاکستان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے دیرینہ تعلقات میں نئی تحریک کا مظہر ہے۔ انہوں نے شام پر عائد معاشی پابندیوں بالخصوص امریکی پابندیوں کے خاتمے، اور خطے میں شام کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعاون اور سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا، تاہم یہ بھی واضح کیا کہ شام میں انسانی صورتحال تاحال تشویشناک ہے اور تعمیرِ نو کے ساتھ امداد کا سلسلہ برقرار رہنا چاہیے۔ انہوں نے دہشت گردی اور داعش جیسے گروہوں کو ابھرتے استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے مربوط کوششوں پر زور دیا۔ دوسری جانب، شام کے خلاف اسرائیلی فوجی کشیدگی اور ابو الضہور ایئربیس پر اسرائیلی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سفیر عثمان جدون نے 1974 کے علیحدگی کے معاہدے کے احترام اور مقبوضہ شامی گولان سمیت تمام علاقوں سے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کیا، اور شام کی خودمختاری و سالمیت کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کا دبنگ بیان: اسرائیل کی غـزہ میں جنگ بندی پامالیاں اور الحاق سازشیں بے نقاب، سفیر عاصم افتخار کا خطاب

محمود احمد, August 27,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام مشرقِ وسطیٰ اور بالخصوص مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی بگڑتی ہوئی انتہائی حساس صورتحال پر منعقدہ اہم ماہانہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسـطینی خطہ اس وقت تاریخ کے سب سے نازک اور خطرناک ترین موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی سنگین پامالیاں، غیر قانونی الحاق کی کوششیں اور مظلوم فلسـطینیوں پر مظالم کی انتہا کر دی گئی ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اس بیانیے میں قائم مقام خصوصی رابطہ کار رامز الاکبروف، اعلیٰ نمائندے نکولائی ملاڈینوف اور محترمہ رے برن کی بریفنگز کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ زمینی حقائق کو دانستہ تبدیل کرنے کے تمام اسرائیلی اقدامات دراصل ایک خودمختار فلسـطینی ریاست کی جغرافیائی و سیاسی بنیادوں کو تباه کرنے کی ناپاک کوشش ہیں۔

پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے تفصیلی خطاب کے دوران سلامتی کونسل اور عالمی ضمیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غير قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں بلا خوف و خطر اور بلا روک ٹوک جاری ہیں جبکہ متنازع علاقوں میں پیش رفت عملاً مغربی کنارے کو منقسم کر کے ہزاروں فلسـطینیوں کو جبری بے دخلی کے شدید خطرے سے دوچار کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان سمیت آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے گروپ نے اسرائیلی آبادکاری کی ان توسیع پسندانہ پالیسیوں اور الحاق کے منصوبوں کو دوٹوک الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے خلاف ایک تبا ہ کن اور خطرناک اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ قابض یہودیوں اور آبادکاروں کی جانب سے عام شہریوں پر تشدد اور دہشت گردی کے واقعات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے جن میں سے سینکڑوں حملے ریکارڈ پر آ چکے ہیں لیکن عالمی سطح پر ان مظالم کو روکنے کے لیے تاحال کوئی مضبوط عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا جو کہ انتہائی افسوسناک اور ناقابلِ قبول ہے۔

مالیاتی جارحیت اور معاشی تسلط کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے نشاندہی کی کہ قابض اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے اربوں ڈالر کے فلسـطینی کلیئرنس ریونیو اور رقوم کی مسلسل اور غیر قانونی روک تھام نے فلسـطینی کو معاشی بحران اور شدید مالیاتی تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے جس کے باعث وہاں کے معصوم شہریوں کے لیے بنیادی زندگی کی سہولیات اور طبی خدمات کی فراہمی بھی ناممکن ہوتی جا رہی ہے، لہٰذا یہ روک رکاوٹیں فوری طور پر ختم کر کے رقوم کی بلا تاخیر منتقلی یقینی بنائی جائے۔ غزہ کی صورتحال کا نقشہ کھینچتے ہوئے انہوں نے سلامتی کونسل کے ارکان پر سخت سوال اٹھایا کہ اگر جنگ بندی کے اعلانات اور سفارتی دعوے موجود ہیں تو پھر غـزہ میں ہر روز معصوم شہری، خواتین اور بچے کیسے شہید کیے جا رہے ہیں، ہلاکتیں اور تباہی کا سلسلہ کیوں نہیں تھما اور جنگ بندی کے بعد سے اب تک بارہ سو سے زائد فلسـطینی کس بنیاد پر جاں بحق ہوئے ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ قابض قوتیں عالمی مطالبات اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کو مکمل طور پر ہوا میں اڑا رہی ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے امن کے لیے کی جانے والی تمام تر سفارتی کوششوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی امن قراردادوں کے باوجود اسرائیل کی طرف سے مسلسل فوجی کشیدگی، بمباری اور روڈ میپ کی کھلی خلاف ورزیاں پورے سفارتی عمل کو پٹڑی سے اتارنے کی سازش ہیں تاکہ خطے کو مزید تباہی کی طرف دھکیلا جا سکے۔ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے ریلیف ادارے اور اس کی تنصیبات پر اسرائیلی حملوں اور غیر قانونی جبری مداخلت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اقوامِ متحدہ کے تمام دفاتر، سکولوں، تربیتی مراکزی اور سفارتی عملے کے تحفظ کی ضمانت دی جائے اور اسرائیل کو بین الاقوامی ضوابط کا پابند بنایا جائے کیونکہ کسی بھی ملک کو اقوامِ متحدہ کے منشور پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

عالمی برادری اور سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان نے اپنا چار نکاتی ہنگامی حل پیش کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ قابض طاقت اسرائیل کو مقبوضہ فلسـطینی علاقے کی قانونی، جغرافیائی اور آبادیاتی ہیئت کو تبدیل کرنے کے تمام غیر قانونی اقدامات، الحاق کی سازشوں اور جبری بے دخلی سے فوری طور پر روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ غزہ امن منصوبے پر سچے دل اور مکمل شفافیت کے ساتھ عمل درآمد کا آغاز کیا جائے جبکہ جن طاقتور عالمی ممالک کا اس خطے میں اثر و رسوخ ہے وہ اپنے سفارتی اور معاشی ذرائع کو استعمال میں لا کر اسرائیل کو عالمی قوانین کی پاسداری پر مجبور کریں اور فلسـطینیوں پر ڈھائے جانے والے جنگی جرائم کے تمام ذمہ داران کا عالمی عدالتوں میں سخت محاسبہ کیا جائے۔ پاکستانی مندوب نے اپنے بیان کے اختتام پر دوٹوک الفاظ میں کہا کہ فلسـطین کے مظلوم عوام کے ساتھ پاکستان کی مکمل نظریاتی، اخلاقی اور سفارتی یکجہتی ہمیشہ کی طرح غیر متزلزل ہے اور ہم ان کے حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں ان کے ساتھ چٹان کی طرح کھڑے رہیں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ خطے میں دائمی اور حقیقی امن کی واحد راہ یہی ہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں انیس سو سرسٹھ سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد، خود مختار اور پائیدار فلسـطینی ریاست قائم کی جائے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر تنازعات، جنگوں اور غذائی عدم تحفظ کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے پر زور: سفیر عاصم افتخار احمد کا خطاب

محمود احمد, August 26,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اگست 2026ء

پاکستان نے عالمی سطح پر جاری تنازعات، جنگوں اور ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والے شدید غذائی عدم تحفظ کے دوہرے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی اصولوں، عالمی انسانی قوانین کی پاسداری اور پیشگی سفارتی حکمتِ عملی اپنانے پر شدید زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیرِ اہتمام ‘جنگ کی زد میں خوراک: عالمی اور مقامی غذائی بحرانوں کے تدارک میں سلامتی کونسل کا کردار’ کے موضوع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی وزارتی مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے ‘2026 گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز’ کے اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا، جس میں دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی بھوک اور غذائی قلت کی بنیادی وجہ تشدد اور عسکری تنازعات کو قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران عالمی سطح پر 266 ملین سے زائد افراد شدید ترین غذائی عدم تحفظ کا شکار رہے ہیں جبکہ پچھلی ایک دہائی میں بھوک کے واقعات دگنے ہو چکے ہیں اور شدید بھوک کا سامنا کرنے والے 70 فیصد سے زائد افراد تنازعات کی زد میں گھیرے علاقوں میں مقیم ہیں۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب میں واضح کیا کہ عالمی برادری کو بین الاقوامی انسانی قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانا ہوگا تاکہ بھوک، قحط اور شہری آبادی کو اجتماعی سزا دینے کے عمل کو کبھی بھی فوجی یا سیاسی مقاصد حاصل کرنے کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہ کیا جا سکے۔ انہوں نے غزہ، یمن، سوڈان، جنوبی سوڈان اور ہیٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں خوراک و بنیادی ضروریات کی معطلی، امدادی سامان پر پابندیوں اور انسانی بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے فلسطینیوں کو ناقابلِ برداشت مصائب میں مبتلا کر دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تنازعات کی وجہ سے عالمی معیشت، خوراک اور مال برداری کے اخراجات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کا سب سے بڑا اور غیر متناسب بوجھ غریب اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ رہا ہے۔ پاکستان نے مطالبات پیش کیے کہ انسانی امداد میں رکاوٹ ڈالنے والوں کا محاسبہ کیا جائے، امداد کو سیاسی و عسکری شرائط سے پاک رکھا جائے اور WFP و FAO کی رپورٹس کی روشنی میں پیشگی کارروائی کی جائے۔ سفیر عاصم افتخار نے اختتام پر کہا کہ محض انسانی امداد سیاسی حل کا متبادل نہیں ہو سکتی اور امن قائم کیے بغیر دنیا میں پائیدار غذائی تحفظ کا حصول ممکن نہیں ہے۔

یوکرین میں فوری جنگ بندی اور سفارت کاری کی بحالی پر زور: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کا اہم مطالبہ

محمود احمد, August 25,2026

اقوام متحدہ/نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 25 اگست 2026ء

حکومتِ پاکستان نے ملک کے دو بڑے اقتصادی و انتظامی مراکز اسلام آباد اور لاہور کے درمیان ایک جدید ترین ہائی سپیڈ ریل کوریڈور قائم کرنے کی باضابطہ منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد دونوں شہروں کے درمیان سفری وقت کو نصف سے بھی کم کرنا اور تجارتی روابط کو فروغ دینا ہے۔ اس اہم اور تاریخ ساز منصوبے کی منظوری وفاقی کابینہ اور قومی اقتصادی کونسل کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وزیراعظم نے کی۔ ابتدائی تفصیلات کے مطابق اس جدید ریلوے ٹریک کی کل لمبائی تقریباً تین سو پچاس کلومیٹر ہو گی اور اس پر دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرنے والی بلٹ ٹرین ٹائپ ہائی سپیڈ ٹرینیں چلائی جائیں گی، جس کی بدولت اسلام آباد سے لاہور کا فاصلہ محض پونے دو سے دو گھنٹے میں طے کرنا ممکن ہو سکے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے نہ صرف عام مسافروں، تاجروں اور سرکاری حکام کو سفری سہولت میسر آئے گی بلکہ موٹروے اور جی ٹی روڈ پر گاڑیوں کے دباؤ اور ماحولیاتی آلودگی میں بھی نمایاں کمی دیکھنے کو ملے گی۔ وزاتِ ریلوے اور مواصلات کے ذرائع نے بتایا ہے کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت کا تخمینہ اربوں ڈالر لگایا گیا ہے جسے بین الاقوامی اور علاقائی مالیاتی اداروں کی شراکت داری نیز پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کے تحت اسلام آباد اور لاہور کے علاوہ راولپنڈی، جہلم، گجرات اور گوجرانوالہ کے قریب بھی جدید انٹرچینج اسٹیشن بنائے جائیں گے تاکہ ملحقہ علاقوں کی آبادی بھی اس تیز رفتار ٹرانسپورٹ سسٹم سے بھرپور فائدہ اٹھا سکے۔ کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے وفاقی وزیرِ مواصلات نے بتایا کہ یہ منصوبہ آنے والی نسلوں کے لیے بنیادی ڈھانچے کا ایک عظیم تحفہ ہو گا جو ملک میں اقتصادی سرگرمیوں میں تزی لانے کے ساتھ ساتھ روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس منصوبے کے لیے جدید اور صاف ستھری گرین انرجی یعنی سولر اور الیکٹرک پاور سسٹم کا استعمال کیا جائے گا تا کہ ایندھن کے درآمدمی بل پر بھی قابو پایا جا سکے اور ماحولیات کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ منصوبے کا پہلا فیز تین سال کے عرصے میں مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے اور اس کے لیے زمین کے حصول اور سروے کا کام رواں سال کے آخر تک شروع کر دیا جائے گا۔ معاشی ماہرین اور تجارتی برادری نے اس منصوبے کو ملک کے ٹرانسپورٹیشن سیکٹر میں ایک شاندار انقلاب قرار دیتے ہوئے اس کا پرجوش خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس سے ملک کی اندرونی تجارت، سیاحت اور صنعتی نقل و حمل کو بے پناہ استحکام حاصل ہو گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا لیبیا کے زیرِ قیادت سیاسی عمل اور قومی مفاہمت کے لیے حمایت کا اعادہ

محمود احمد, August 19,2026

اقوام متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اگست 2026ء

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لیبیا کے اندر پائیدار امن، معاشی استحکام اور ادارہ جاتی یکجہتی کے لیے مسلسل مذاکرات، حقیقی یکجہتی اور قومی مفاہمت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک جامع، لیبیا کے اپنے زیرِ قیادت اور ان کی اپنی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل ہی ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے اور آگے بڑھانے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کے معاونتی مشن برائے لیبیا کے حوالے سے منعقدہ اہم بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے خطاب کیا۔ انہوں نے لیبیا کے سیاسی عمل اور قومی مفاہمت کو آگے بڑھانے کے لیے یو این ایس ایم آئی ایل کی کاوشوں کو بھرپور انداز میں سراہا۔ سفیر عاصم نے لیبیا کی خودمختاری، آزادی، علاقائی سالمیت اور قومی وحدت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل اور اصولی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اقوام متحدہ کی معاونت سے جاری اس سیاسی عمل کو کامیابی سے آگے بڑھانے کے لیے لیبیا کے تمام اندرونی اور متعلقہ فریقوں کے درمیان مضبوط سیاسی عزم اور باہمی تعاون کا ہونا انتہائی ناگزیر ہے۔

پاکستان نے یو این ایس ایم آئی ایل کے سیاسی روڈ میپ کے تحت ہونے والی پیش رفت کا خیرمقدم کیا، جس میں ہائی نیشنل الیکشن کمیشن کے بورڈ کے چیئرپرسن کی تقرری کے لیے ایک مشترکہ طریقہ کار پر اتفاق بھی شامل ہے۔ پاکستانی مندوب نے اسٹرکچرڈ ڈائیلاگ کے اختتام کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس گفتگو کے نتیجے میں سامنے آنے والی سفارشات جلد ہی ادارہ جاتی یکجہتی اور قومی مفاہمت کے فروغ کے لیے عملی اقدامات کی شکل اختیار کریں گی۔

امورِ سکیورٹی پر بات کرتے ہوئے سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقی اور مغربی لیبیا کے فوجی و سکیورٹی اداروں کے درمیان قائم ہونے والے رابطوں، بالخصوص فائیو پلس فائیو جوائنٹ ملٹری کمیشن کے ذریعے ہونے والی مثبت پیش رفت کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی سطح پر متحد اور ایک ہی فریم ورک کے تحت کام کرنے والے سکیورٹی اداروں کے قیام کے لیے تمام فریقوں کے درمیان مسلسل مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات مسلسل جاری رہنے چاہئیں۔

پاکستانی مستقل مندوب نے اپنے خطاب میں 2026ء کے یونیفائیڈ اسپینڈنگ فریم ورک کے ذریعے مالیاتی ہم آہنگی میں سامنے آنے والی پیش رفت کو بھی سراہا اور ملکی سطح پر اقتصادی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، شفافیت، احتساب اور قومی وسائل کی تمام علاقوں میں منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے ملک کے اندر عدالتی یکجہتی، قانون کی حکمرانی اور آئینی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عاصم نے کہا کہ سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور عدالتی شعبوں میں متوازن پیش رفت ہی قومی مفاہمت اور ایک مضبوط و متحد حکومت کے قیام کی راہ ہموار کرے گی، جو لیبیا کے عوام کے لیے پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنائے گی۔ انہوں نے ان تمام مقاصد اور کوششوں کے لیے پاکستان کی طرف سے مسلسل اور مکمل حمایت فراہم کرنے کا عزم دہرايا۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا یمن کے حوالے سے سلامتی کونسل سے خطاب: بحیرہ احمر میں پاکستانی عملے کی ہلاکت اور تجارتی جہاز پر حوثی حملے کی شدید مذمت

محمود احمد, August 14,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 13 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے بریفنگ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یمن کی بدلتی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے میں پاکستانی شہریوں کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے بین الاقوامی بحری حدود کی سلامتی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کے دوران پاکستانی مندوب نے 11 اگست کو تجارتی جہاز پر حوثیوں کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اس المناک کارروائی کے نتیجے میں 3 پاکستانی اور 1 انڈونیشیائی شہری جاں بحق جبکہ 7 دیگر افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ تجارتی جہاز رانی پر اس نوعیت کے حملے عالمی تجارت، آزادیٔ جہاز رانی اور علاقائی سلامتی کے لیے شدید خطرہ ہیں، لہٰذا بین الاقوامی قانون کے تحت سمندری کارکنوں کے تحفظ اور بحری امور کے احترام کو ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں اپریل 2022ء کی جنگ بندی کے بعد قائم ہونے والے نسبتاً پُرسکون ماحول کو درپیش خطرات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی میں کمی اور اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کی بحالی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ انہوں نے حوثیوں کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں، انسانی ہمدردی کا کام کرنے والے کارکنوں اور سفارتی عملے کی من مانی حراست کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور ان کی فوری و غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔

پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ یمن کا پائیدار، جامع اور پرامن حل صرف یمنی قیادت کی ملکیت پر مبنی سیاسی عمل کے ذریعے ہی ممکن ہے جو ملک کے اتحاد، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر استوار ہو۔ انہوں نے عالمی برادری اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انتہائی تحمل کا مظاہرہ کریں تاکہ یمن کے عوام کو تشدد کے ایک اور تباہ کن دور سے بچایا جا سکے اور انسانی بحران کے حل کے لیے مالی وسائل کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر اسرائیلی تسلط تسلیم کرنے کی شدید مذمت: سعودی عرب نے فیصلے کو بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی قرار دے دیا

محمود احمد, August 12,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

سعودی عرب نے کولمبیا کی جانب سے مقبوضہ شامی گولان ہائٹس پر غاصب اسرائیلی خودمختاری و تسلط کو باقاعدہ تسلیم کرنے کے یکطرفہ فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین، عالمی اصولوں اور اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے جاری کردہ ایک انتہائی اہم سرکاری بیان میں واضح کیا کہ کولمبیا کا یہ غیر قانونی اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سال 1981ء میں منظور کی جانے والی تاریخی قرارداد 497 کی مکمل اور صریح خلاف ورزی ہے۔ اس سلامتی کونسل کی قرارداد کے تحت مقبوضہ گولان ہائٹس کے علاقے پر اسرائیل کے اپنے ظالمانہ قوانین، دائرہ اختیار اور انتظامیہ نافذ کرنے کا اقدام مکمل طور پر کالعدم اور قانونی اثرات کے بغیر ٹھہرایا گیا ہے۔

سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس قسم کے بلاجواز اور غیر قانونی سیاسی موقف خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول میں کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کرتے بلکہ اس سے خطے میں قیامِ امن کی بین الاقوامی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچنے اور معاملات کو سبوتاژ کرنے کا اندیشہ ہے۔

سعودی عرب نے اپنے دیرینہ اور اصولی موقف کا اعادہ کرتے ہوئے زور دیا کہ گولان ہائٹس بلا شبہ شام کی ایک مقبوضہ سرزمین ہے اور اس کی تاریخی، جغرافیائی یا قانونی حیثیت کو کسی صورت تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے یکطرفہ فیصلے يا اقدامات اس ناانصافی کو کوئی قانونی جواز فراہم نہیں کر سکتے۔ اپنے بیان کے اختتام پر مملکت نے کولمبیا کی حکومت سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنے اس فیصلے اور موقف پر نظرثانی کرے، عالمی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کو یقینی بنائے اور خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے لیے کوششوں کی حمایت کرے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کا مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر دبنگ مؤقف: سلامتی کونسل سے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی مظالم اور غیر قانونی بستیوں کی توسیع کے خلاف فوری اور عملی اقدامات کا مطالبہ

محمود احمد, August 12,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 12 اگست 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے مشرقِ وسطیٰ کی تشویشناک اور نازک صورتِ حال پر سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی مظالم، غیر قانونی بستیوں کی توسیع اور شدت اختیار کرتے ہوئے انسانی بحران پر عالمی برادری اور سلامتی کونسل سے فوری و سخت عملی اقدامات کا مطالبات کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اس اہم اور ہنگامی اجلاس کے دوران اپنے مفصل اور جامع خطاب میں پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے نمائندوں کی جانب سے کونسل کو فراہم کی گئی بریفنگز محض لفظی کارروائی یا کارروائی کا حصہ نہیں بلکہ فوری اور عملی اقدامات کا بین الاقوامی تقاضا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ مغربی کنارے اور غزة میں پیش آنے والے واقعات کو الگ تھلگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ ایک طے شدہ، باہم مربوط اور دہائیوں پر محیط غاصبانہ قبضے کا نتیجہ ہیں جس کا بنیادی مقصد دو ریاستی حل کے تمام امکانات کو یکسر اور ہمیشہ کے لیے ختم کرنا ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے مغربی کنارے میں بستیوں کی مسلسل توسیع بالخصوص ‘کرمسن تھریڈ’ منصوبے اور ای ون علاقے میں آبادکاری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کے نتیجے میں 1967ء کے بعد سے فلسطین میں بے دخلی کا سب سے بڑا بحران جنم لے چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی حکام کی جانب سے زمینوں کی رجسٹریشن اور انتظامی اختیارات پر ناجائز قبضہ درحقیقت عملاً الحاق کے عمل کو آگے بڑھا رہا ہے جو سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں اور عالمی عدالتِ انصاف کی واضح مشاورتی آراء کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینیوں کے ٹیکس اور ریونیو کے اربوں روپے کی مسلسل روک تھام فلسطینی اداروں کو معاشی طور پر مفلوج کرنے کی ایک منظم سازش ہے، لہٰذا یہ رقم بغیر کسی تاخیر کے فوری اور مکمل طور پر جاری کی جانی چاہیے۔

مسجدِ اقصیٰ اور الحرم الشریف کی مقدس صورتحال پر بات کرتے ہوئے پاکستانی سفیر نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاروں کی جانب سے مسلمانوں کی مقدس ترین جگہ پر مسلسل دھاوے اور اشتعال انگیز کارروائیاں پورے خطے کی سلامتی کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ انہوں نے 24 جولائی اور 6 اگست کو پاکستان سمیت آٹھ اہم عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے مشترکہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پر اسرائیلی حملوں اور مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد کو الگ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ تمام تر اقدامات طاقت کے زور پر ایک نئی جغرافیائی صورتحال مسلط کرنے کی پالیسی کا حصہ ہیں۔

غزہ کی انسانی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیش کردہ جامع منصوبے اور سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 نے انسانی تکالیف کو کم کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک سنہری موقع فراہم کیا تھا، تاہم اسرائیل کی جانب سے مسلسل فوجی کشیدگی اور روڈ میپ کو مسترد کرنا عالمی سفارتی کاوشوں کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں امریکہ، مصر، قطر اور ترکیہ کی جانب سے جاری مسلسل سفارتی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے واضح مطالبات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قابض طاقت اسرائیل تمام تر غیر قانونی آبادکاری کی سرگرمیاں فوری طور پر روکے اور بین الاقوامی قوانین بالخصوص سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 پر مکمل عمل پیرا ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی آبادکاروں کے تشدد کو فی الفور بند کرایا جائے اور جرم کے مرتکب افراد کا کڑا احتساب کیا جائے۔ انہوں نے فلسطینی صدر کے مطالبے کے مطابق فلسطینی عوام کو عالمی تحفظ فراہم کرنے اور بچوں کی حفاظت سے متعلق یونیسیف کی سفارشات پر فوراً عمل درآمد کرنے پر بھی زور دیا۔

پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ مسجدِ اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنایا جائے اور تمام اشتعال انگیز اقدامات کو فوری روکا جائے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2803 اور جامع امن منصوبے پر بغیر کسی حیل و حجت کے مکمل اور نیک نیتی سے عمل درآمد کرایا جائے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کا سختی سے سدباب کیا جائے۔ اپنے خطاب کے اختتام پر اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے انتباہ جاری کیا کہ اگر اسرائیل کی ان جارحانہ پالیسیوں کی سمت کو فوری نہ بدلا گیا تو پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے اس کے نتائج انتہائی تباہ کن ہوں گے۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کا واحد راستہ 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ایک خودمختار، آزاد اور قابلِ عمل فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔

پاکستان کا سوڈان میں تعلیم کے تحفظ اور تنازع کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات پر زور

محمود احمد, August 08,2026

اقوام متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 08 اگست 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری شدید مسلح تنازع کے پیشِ نظر بچوں کی تعلیم کے تحفظ، تعلیمی اداروں کی بحالی اور فوری بین الاقوامی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سوڈان کی پائیدار بحالی، مستقبل کے استحکام اور دیرپا امن کے لیے بچوں کے تحفظ اور تعلیم تک ان کی بلا تعطل رسائی کو یقینی بنانا ناگزیر ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے زیر اہتمام “سوڈان میں تعلیم کا تحفظ: امن، بحالی اور استحکام میں سرمایہ کاری” کے عنوان سے منعقدہ ‘آریا فارمیولا’ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری سید انصار شاہ نے بتایا کہ اپریل 2023ء میں تنازع کے آغاز سے اب تک سوڈان میں 17 ملین سے زائد بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ تقریباً 8 ملین بچے اس وقت اسکولوں سے محروم ہو چکے ہیں۔

پاکستانی نمائندے نے اسکولوں، طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی عملے پر ہونے والے تمام تر حملوں کی شدید مذمت کی اور واضح کیا کہ تعلیمی اداروں کو کبھی بھی فوجی یا سیکیورٹی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق ہنگامی حالات میں بھی بچوں کے حقِ تعلیم کی ضامن بنے۔

سید انصار شاہ نے سوڈان کے لیے تین اہم ترجیحات پیش کیں: اسکولوں، بچوں، اساتذہ اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کے ساتھ انسانی امداد تک محفوظ رسائی یقینی بنائی جائے۔ بے گھر اور پناہ گزین بچوں کے لیے ہنگامی تعلیمی سرگرمیوں، اسکولوں کی دوبارہ تعمیر اور اساتذہ کی مالی و فنی معاونت کو ترجیح دی جائے۔ سوڈان کے قومی تعلیمی نظام، امتحانات اور اسناد کی توثیق و منظوری کا مکمل تحفظ کیا جائے کیونکہ یہی بچے کل سوڈان کو سنبھالنے والے معمار بنیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اولین اور حتمی ترجیح سوڈان میں جاری جنگ کا فوری خاتمہ ہونا چاہیے۔ پاکستان سوڈان کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور ملک کو تقسیم کرنے والے کسی بھی متوازی حکومتی ڈھانچے کی مخالفت کرتا ہے۔ پاکستانی نمائندے نے تمام سوڈانی فریقین پر زور دیا کہ وہ تنازع کا راستہ ترک کر کے سفارتی حل اپنائیں۔

یومِ استحصال کی 7 ویں برسی: اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی تقریب، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 06 اگست 2026ء

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن نے نیویارک میں پاکستان کے قونصل جنرل کے دفتر کے اشتراک سے چانسلری بلڈنگ میں یومِ استحصال کی ساتویں برسی کی مناسبت سے ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا۔ تقریب میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے اراکین، سفارت کاروں، ماہرینِ تعلیم، طلبہ اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی۔ مقررین نے جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر عملدرآمد کا عالمی مطالبہ دہرایا جن میں کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کی ضمانت دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کلیدی خطاب کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے 5 اگست 2019ء کے غیر قانونی و یکطرفہ بھارتی اقدامات کو دہائیوں پر محیط جبر کو گہرا کرنے والا موڑ قرار دیا اور واضح کیا کہ تنازعے کی قانونی بنیاد اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت آج بھی برقرار ہے۔ سفیر عاصم افتخار نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے 8 اگست 2019ء کے بیان اور حالیہ موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز اٹھائی ہے اور یہ ملک کی ایک مقدس ذمہ داری ہے۔

افتتاحی کلمات میں پاکستان کے قونصل جنرل نیویارک عامر احمد اتوزئی نے کہا کہ تنازعے کا منصفانہ اور دیرپا حل سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق ہی ممکن ہے۔ ڈاکٹر غلام نبی فائی (سیکریٹری جنرل کشمیر آگاہی فورم) نے مقبوضہ وادی میں آبادیاتی تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ 47 لاکھ سے زائد غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس کا اجرا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ انہوں نے مرحوم سید علی گیلانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ماہرِ تعلیم شاہل کھوسو، کشمیری رہنما تاج خان اور سردار سوار خان نے بھی عالمی علمی اور پالیسی مباحث میں کشمیر کا مقدمہ مؤثر انداز میں پیش کرنے اور یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا۔

تقریب کے دوران صدر، وزیراعظم اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ پاکستان کے یومِ استحصال کے موقع پر جاری کردہ خصوص پیغامات پڑھ کر سنائے گئے جبکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر مبنی ایک دستاویزی فلم بھی نمائش کے لیے پیش کی گئی۔

یومِ استحصالِ کشمیر: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا سلامتی کونسل کی صدر کو خط، 5 اگست 2019ء کے اقدامات واپس لینے کا مطالبہ

محمود احمد, August 06,2026

اقوامِ متحدہ / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 6 اگست 2026ء

پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے 5 اگست 2019ء کو بھارت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کی ساتویں برسی کے موقع پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر اور ڈنمارک کی مستقل مندوب عزت مآب کرسٹینا مارکس لاسن کو ایک اہم اور تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یہ خط رسمی طور پر سلامتی کونسل کی صدر کے حوالے کیا۔ خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ بھارت کے 5 اگست 2019ء کے اقدامات سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، بین الاقوامی قوانین اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جن کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کرنے کی ناکام کوشش کی گئی۔

نائب وزیراعظم نے خط میں سلامتی کونسل کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ بھارت مقبوضہ وادی کی آبادیاتی (ڈیموگرافک)، سیاسی اور ثقافتی شناخت کو مسخ کرنے کی منظم سازش کر رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈومیسائل قوانین اور اراضی کی ملکیت کے ضوابط بدل کر تقریباً 34 لاکھ غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔

خط میں مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کی زبوں حالی پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا، جس میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیاں، من مانی گرفتاریوں اور پبلک سیفٹی ایکٹ ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون جیسے کاالے قوانین کے نفاذ کا حوالہ دیا گیا۔ علاوہ ازیں، شبیر احمد شاہ، یاسین ملک اور آسیہ اندرابی سمیت ممتاز حریت قیادت کی قید اور 16 سیاسی تنظیموں پر عائد پابندیوں کو اجاگر کیا گیا۔

مذہبی آزادی کی پامالی کا ذکر کرتے ہوئے خط میں جامع مسجد سری نگر میں نماز پر پابندی، دینی مدارس کی بندش، کمیونٹی کے 215 اسکولوں کی سرکاری تحویل اور وقف (ترمیمی) قانون کے منفی اثرات کا بھی احاطہ کیا گیا۔

نائب وزیراعظم نے متنبہ کیا کہ مقبوضہ وادی میں 7 سے 9 لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی، بھارتی قیادت کے اشتعال انگیز بیانات اور سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی سے جنوبی ایشیا کے امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

پاکستان نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت پر 5 اگست 2019ء کے اقدامات کی واپسی، ڈیموگرافی کی تبدیلی کی روک تھام اور کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مذاکراتی عمل شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالے۔ ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساعیٔ جمیلہ کو بروئے کار لاتے ہوئے تنازع کشمیر کے پائیدار حل میں اپنا مرکزی کردار ادا کریں۔

یومِ استحصالِ کشمیر: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا پیغام، حقِ خودارادیت کی غیر مشروط حمایت کا اعادہ

محمود احمد, August 05,2026

نیویارک / اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 5 اگست 2026ء

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ان کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کے لیے پاکستان کی غیر مشروط اور مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے یکطرفہ اور غیر قانونی بھارتی اقدامات کو سات برس مکمل ہونے کے باوجود بھارتی غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال بدستور شدید تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے نشاندہی کی کہ بنیادی انسانی حقوق اور آزادیوں کی مسلسل پامالی، طویل پابندیاں، آبادی کے تناسب (ڈیموگرافی) میں تبدیلی کی غیر قانونی کوششیں اور زمینی حقائق کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کے بھارتی اقدامات نہ تو جموں و کشمیر کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع حیثیت کو ختم کر سکتے ہیں اور نہ ہی کشمیری عوام کی بھارتی تسلط سے آزادی کی جائز خواہش کو دبا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری اور بالخصوص اقوامِ متحدہ پر پرزور انداز میں زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کے احترام کو یقینی بنانے، مقبوضہ وادی کے عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے اپنے تمام مؤثر اور عملی اقدامات کو آگے بڑھائے۔

پاکستانی مندوب نے کشمیری عوام کی استقامت، بہادری اور بے مثال قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دہائیوں پر محیط مظالم کے باوجود ان کی جدوجہدِ آزادی ثابت قدمی سے جاری ہے۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ پاکستان اپنے کشمیری بہن بھائیوں کی مکمل حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک انہیں ان کا حقِ خودارادیت نہیں مل جاتا۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سلامتی کونسل اصلاحاتی مذاکرات 81 ویں اجلاس تک جاری رکھنے کا اہم فیصلہ: پاکستان نے اختلافات مٹانے اور سب کے لیے برابر نمائندگی پر زور دے دیا

محمود احمد, JULY 30,2026

اقوامِ متحدہ/اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 جولائی 2026ء

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے سلامتی کونسل میں بنیادی و ادارہ جاتی اصلاحات سے متعلق جاری بین الحکومتی مذاکرات کے عمل کو آئندہ ستمبر میں شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران بھی تسلسل کے ساتھ جاری رکھنے کا اہم، متفقہ اور حتمی فیصلہ صادر کر لیا ہے۔ پاکستان نے جنرل اسمبلی کے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اس اصلاحاتی عمل اور بین الحکومتی مذاکرات کو 15 رکنی سلامتی کونسل کو دنیا بھر کی زیادہ سے زیادہ اقوام کے لیے مؤثر، جمہوری اور حقیقی معنوں میں نمائندہ بنانے کے لیے “واحد بااعتماد اور جائز فورم” قرار دیا ہے اور تمام ارکان پر اپنے شدید ترین سیاسی اختلافات کو کم سے کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نو تعینات یا مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے 193 رکنی جنرل اسمبلی سے اپنا اہم خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کا اصلاحاتی عمل اقوامِ متحدہ کے سامنے درپیش انتہائی اہم ترین اور حساس ادارہ جاتی اقدامات میں سے ایک ہے۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بغیر کسی ووٹنگ کے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ستمبر 2026ء سے شروع ہونے والے 81 ویں اجلاس کے دوران اصلاحاتی بات چیت کا یہ عمل باقاعدگی سے جاری رہے گا۔ یاد رہے کہ اصلاحات اور مذاکرات کا یہ عمل اب اپنے 18 ویں سال میں باقاعدہ داخل ہو چکا ہے، جس کے دوران 17 طویل ادوار مکمل ہونے کے باوجود اصلاحات سے متعلق کئی بنیادی پہلوؤں پر تاحال کامل اتفاقِ رائے حاصل نہیں کیا جا سکا ہے۔ سلامتی کونسل کے تمام پانچ بنیادی شعبوں بشمول رکنیت کے زمرے، ویٹو کا طریقہ کار و استعمال، علاقائی متناسب نمائندگی، توسیع شدہ سلامتی کونسل کا حتمی سائز اور جنرل اسمبلی کے ساتھ کونسل کے تعلقات پر گہرا تبادلہِ خیال جاری ہے۔ اس وقت سلامتی کونسل 5 مستقل اور 10 غیر مستقل ارکان پر مشتمل ہے، جن میں تبدیلی اور توسیع پر مختلف ممالک کے واضح اور برعکس گروپس بنے ہوئے ہیں۔

اصلاحات کے اس عمل میں بھارت، برازیل، جرمنی اور جاپان پر مشتمل ‘گروپ آف فور’ سلامتی کونسل میں اپنے لیے نئی مستقل نشستوں کے حصول کا مطالبہ کرتے ہوئے کل 10 نئی نشستیں چاہتے ہیں۔ تاہم دوسری جانب اٹلی اور پاکستان کی بھرپور قیادت میں فعال ‘یونائٹنگ فار کنسنسس’ گروپ نے کسی بھی ملک کو اضافی مستقل نشستیں دینے کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے اور طویل المدت کے لیے منتخب ہونے والی ایسی نئی غیر مستقل نشستوں کا حل تجویز کیا ہے جن پر جمہوری طریقے سے دوبارہ انتخاب ممکن بنایا جا سکے۔ پاکستانی مندوب عاصم افتخار احمد نے واضح کیا کہ اصلاحات کا مقصد خودمختار مساوات، جمہوریت اور احتساب ہونا چاہیے، نہ کہ ایک قسم کی اجارہ داری کو ختم کر کے دوسری قسم کی خصوصی مراعات پر مبنی اجارہ داری قائم کرنا۔ انہوں نے مذاکراتی شریک سربراہان (کویت اور نیدرلینڈز) کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے حتمی عزم دہرایا کہ پاکستان “سب کے لیے اصلاحات، کسی کے لیے خصوصی مراعات نہیں” کے رہنما اصول پر قائم رہے گا۔

پاکستان کا یوکرین تنازع کے خاتمے کے لیے فوری جنگ بندی اور سفارتی مذاکرات کی بحالی پر زور؛ اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا سلامتی کونسل سے خطاب

محمود احمد, JULY 28,2026

نیویارک/اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

پاکستان نے یوکرین میں جاری تصادم اور فوجی شدت میں مسلسل اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری کو خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں اور حیاتیاتی بنیادی ڈھانچے پر ہونے والے حملے نہ صرف سنگین انسانی المیے کو جنم دے رہے ہیں بلکہ اس کے منفی اثرات عالمی سطح پر غذائی اور توانائی کی سیکیورٹی کو بھی شدید متاثر کر رہے ہیں، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے شہریوں، شہری تنصیبات اور انسانی امداد فراہم کرنے والے والے اداروں پر ہونے والے اٹیکس کی شدید مذمت کی اور تمام متنازع فریقوں سے مطالبات کیے کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین اور انسانی حقوق کی پاسداری کو ہر صورت یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی عسکری حل ممکن نہیں ہے اور پائیدار امن کی واحد راہ صرف اور صرف سنجیدہ، مسلسل اور باہمی سفارتی مذاکرات سے ہی نکل سکتی ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب میں اس بات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2774 کی منظوری کو 17 ماہ کا طویل عرصہ بیت جانے کے باوجود جنگ کے خاتمے اور پائیدار امن کی بحالی کے مقاصد حاصل نہیں کیے جا سکے۔ انہوں نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ قرارداد 2774 پر روح کے مطابق مکمل عمل درآمد کروایا جائے اور خطے میں فوری و بلا مشروط جنگ بندی کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ سفارت کاری، گفتگو اور سیاسی حل کے لیے سازگار اور پرامن ماحول میسر آ سکے۔ پاکستانی مندوب نے اس عزم کو دہرایا کہ اقوامِ متحدہ کے منشور، تمام فریقین کے جائز سلامتی خدشات اور کثیرالجہتی بین الاقوامی معاہدوں سے ہم آہنگ حل ہی آگے بڑھنے کا واحد ذریعہ ہے، اور پاکستان اس تنازع کے ایک منصفانہ، جامع اور جامع پرامن تصفیے کے لیے کی جانے والی تمام عالمی کوششوں کی بلا مشروط حمایت جاری رکھے گا۔