

محمود احمد, October08,2026
نیویارک (نیوز اینڈ نیوز) — 8 اکتوبر 2026ء
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی چھٹی کمیٹی میں پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بین الاقوامی دہشت گردی کے بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے موجودہ انسدادِ دہشت گردی نظام کو مزید مؤثر، متوازن اور جامع بنایا جائے۔
7 اکتوبر کو بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے کے اقدامات سے متعلق اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے دہشت گردی کی تمام اشکال اور مظاہر کی مذمت کی اور کہا کہ دنیا کے مختلف حصوں میں دہشت گرد حملوں میں اضافہ تشویش ناک ہے۔ انہوں نے بالخصوص افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی، مغربی افریقہ و ساحل کے خطے اور مشرق وسطیٰ میں دہشت گردی کے واقعات کو عالمی توجہ کا متقاضی قرار دیا۔
عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان نے رواں صدی کے آغاز سے عالمی انسدادِ دہشت گردی مہم میں صف اول کا کردار ادا کیا اور اس کی بھاری قیمت ادا کی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے ایک لاکھ سے زائد انسانی جانوں اور 150 ارب ڈالر سے زیادہ کے معاشی نقصانات کا سامنا کیا ہے۔
پاکستانی مندوب نے دعویٰ کیا کہ ملک کو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) سمیت بعض گروہوں کی جانب سے مسلسل دہشت گرد حملوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ گروہ افغان سرزمین سے سرگرم ہیں اور انہیں بیرونی معاونت حاصل ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ تین برس کے دوران دہشت گردی کے نتیجے میں 4,700 سے زائد پاکستانی شہری جاں بحق ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد کے ساتھ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور محفوظ ٹھکانوں کے خلاف محدود، منظم اور متناسب انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ ان کے بقول ان کارروائیوں میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کو ہدف بنایا جاتا ہے اور شہریوں کے جانی نقصان سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتی جاتی ہے۔
پاکستان نے عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی پر متوازن عمل درآمد، دہشت گردی کے بنیادی اسباب کے خاتمے اور دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے، مالی معاونت اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے والوں کو جواب دہ بنانے پر زور دیا۔
عثمان جدون نے بین الاقوامی دہشت گردی کے بارے میں جامع کنونشن پر جاری مذاکرات میں دہشت گردی اور عوام کے حقِ خودارادیت کے لیے جائز جدوجہد کے درمیان واضح امتیاز کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کی تعریف میں دائیں بازو کی انتہاپسندی، پرتشدد قوم پرستی، غیر ملکیوں سے نفرت، اسلاموفوبیا اور مسلم مخالف پرتشدد گروہوں سمیت مختلف ابھرتے ہوئے رجحانات کو بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے ریاستی دہشت گردی، بیرون ملک قتل و غارت، گمراہ کن اطلاعاتی مہمات، دہشت گرد گروہوں کے بطور پراکسی استعمال اور آبی دہشت گردی جیسے اقدامات کو بھی عالمی انسدادِ دہشت گردی نظام میں زیرِ غور لانے کا مطالبہ کیا۔
پاکستانی مندوب نے عالمی انسدادِ دہشت گردی نظام، پابندیوں اور فہرست سازی کے طریقہ کار کو شفاف، منصفانہ اور جامع بنانے جبکہ دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کی روک تھام پر بھی زور دیا۔
انہوں نے عالمی انسدادِ دہشت گردی حکمت عملی کے نفاذ کی نگرانی کے لیے جنرل اسمبلی کے ایک ذیلی ادارے کے قیام کی پاکستانی تجویز بھی دہرائی، جس کی مالی معاونت اقوام متحدہ کے باقاعدہ بجٹ سے کی جائے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
اقوام متحدہ کی چھٹی کمیٹی جنرل اسمبلی کا قانونی امور سے متعلق مرکزی فورم ہے اور 81ویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں بین الاقوامی دہشت گردی کے خاتمے سے متعلق معاملہ زیرِ بحث ہے۔ پاکستان کے بیان میں پیش کیے گئے دہشت گردی، بیرونی معاونت اور ریاستی کارروائیوں سے متعلق متعدد نکات پاکستانی حکومت کا مؤقف اور دعوے ہیں، جنہیں اسی نسبت سے بیان کیا گیا ہے۔
ماخذ: اقوام متحدہ، پاکستان مشن برائے اقوام متحدہ