Latest news

پاکستانی فوجی سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر

Spread the love

منصور احمد,October07,2026

راولپنڈی (نیوز اینڈ نیوز) — 7 اکتوبر 2026ء

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تصدیق کی ہے کہ پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں پہلے سے موجود ہیں اور مختلف صلاحیتوں کے تحت کئی دہائیوں سے وہاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مکہ دفاعی اتحاد کے تحت پاکستانی فوجی دستے سعودی عرب میں موجود ہیں تو ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان کی مختلف صلاحیتوں کی حامل فورسز سعودی عرب میں پہلے ہی موجود ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ مکہ دفاعی اتحاد کسی خلا میں وجود میں نہیں آیا بلکہ یہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری سفارتی، سیاسی اور فوجی تعلقات کا تسلسل ہے۔ ان کے مطابق پاکستانی فورسز کئی دہائیوں سے سعودی عرب میں مختلف شعبوں اور صلاحیتوں کے ساتھ موجود رہی ہیں۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجیوں کی تعداد بتانے سے گریز کیا۔ انہوں نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ وہاں موجود پاکستانی دستے کن مخصوص صلاحیتوں میں کام کر رہے ہیں اور آیا ان میں سے کوئی یمن میں حوثی جنگجوؤں کے خلاف سرحد پار فوجی کارروائیوں میں شریک ہے۔

رپورٹ کے مطابق ان تفصیلات کو خفیہ رکھا گیا ہے، اس لیے سعودی عرب میں موجود پاکستانی فوجی اہلکاروں کی تعداد، تعیناتی کی نوعیت اور عملی کردار کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آئیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ دفاعی معاہدے کے تحت دفاعی تعاون کو مزید فعال بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حالیہ علاقائی کشیدگی کے دوران تینوں ممالک کے حکام نے سعودی عرب کے دفاع اور باہمی سکیورٹی تعاون سے متعلق مشاورت بھی کی ہے۔

سی این این کے مطابق مکہ دفاعی معاہدے کے تحت سعودی عرب کی حمایت کے لیے فوجی وسائل کی تیز تر تعیناتی پر بھی بات ہوئی ہے، تاہم پاکستان کی جانب سے سعودی عرب میں موجود فورسز کی موجودہ تعداد یا ان کے مخصوص آپریشنل کردار کے بارے میں کوئی تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
ڈی جی آئی ایس پی آر نے سعودی عرب میں پاکستانی فورسز کی موجودگی کی تصدیق کی ہے، تاہم ان کی تعداد اور مخصوص آپریشنل ذمہ داریوں کو ظاہر نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ سعودی عرب میں موجود تمام پاکستانی دستے یمن میں جاری فوجی کارروائیوں میں براہِ راست شریک ہیں۔

ماخذ: آئی ایس پی آر,