Latest news

علی محمد خان کا سپیکر سے رابطہ: مذاکرات کی بحالی کی درخواست، “نقصان سے پہلے بات چیت ہو جانی چاہیے”

Spread the love

کاشف عباسی ,October09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا ہے کہ انہوں نے مذاکرات کی بحالی کے لیے قومی اسمبلی کے سپیکر سردار ایاز صادق سے جمعے کی صبح رابطہ کیا ہے، تاکہ کسی ممکنہ کشیدگی یا نقصان سے پہلے بات چیت کا راستہ نکالا جا سکے۔

علی محمد خان کے مطابق انہوں نے آج پارلیمنٹ ہاؤس میں سپیکر سے گفتگو کے دوران درخواست کی کہ وہ فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنا کردار ادا کریں تاکہ کسی بھی نقصان سے بچا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کہیں کوئی تعطل یا تناؤ کی صورتحال ہے تو نقصان ہونے سے پہلے بات چیت ہو جانی چاہیے، اور یہ بہتر ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی ایک پرامن جماعت ہے اور اگر کسی کو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ایسا نہیں چاہتے۔

اس رابطے کا پس منظر یہ ہے کہ اس ماہ کے آغاز میں سپیکر ایاز صادق کے چیمبر میں حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوئے تھے، جو پارٹی کے لانگ مارچ سے قبل کشیدگی کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھے گئے۔ ان مذاکرات میں حکومتی وفد کی قیادت وزیرِ اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے کی، جبکہ وفد میں وزیرِ داخلہ محسن نقوی اور وزیرِ امورِ کشمیر امیر مقام بھی شامل تھے۔ پی ٹی آئی کی جانب سے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان، علامہ راجہ ناصر عباس، سلمان اکرم راجہ، اسد قیصر اور عامر ڈوگر نے شرکت کی۔

پی ٹی آئی نے اپنے بانی عمران خان کی رہائی اور ان سے پارٹی رہنماؤں کی ملاقات سمیت دیگر مطالبات کے لیے 4 اکتوبر کو خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے لانگ مارچ کا آغاز کیا تھا۔ یہ مارچ پہلے 27 ستمبر کو شروع کیے جانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے اسے ایک ہفتہ مؤخر کر کے 4 اکتوبر تک ملتوی کر دیا تھا۔ وفاقی حکومت نے پارٹی کو مارچ سے باز رہنے کا انتباہ بھی دیا تھا۔

سپیکر کے دفتر کی جانب سے تاحال اس رابطے یا ملاقات کی تفصیلات اور سپیکر کے مؤقف سے متعلق کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر علی محمد خان کے اپنے بیان پر مبنی ہے؛ ان کی سپیکر سے گفتگو کی تفصیلات اور سپیکر یا حکومت کا ردعمل آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں۔ مذاکرات کے دو ادوار اور لانگ مارچ کی تاریخوں کا پس منظر پاکستانی اور علاقائی میڈیا رپورٹس سے لیا گیا ہے، تاہم ان مذاکرات کے نتائج اور موجودہ تعطل کی وجہ اس رپورٹ میں واضح نہیں۔

ماخذ: علی محمد خان کا بیان