

محمود احمد, October10,2026
اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء
پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کو مزید مؤثر اور فعال بنانے کے ساتھ اس کی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان کے مطابق جنرل اسمبلی کو اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت حاصل اختیارات مؤثر انداز میں استعمال کرنے کے قابل بنایا جانا چاہیے تاکہ عالمی امن، تنازعات کے پُرامن حل اور بین الاقوامی تعاون میں اس کا کردار مضبوط ہو سکے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے مکمل اجلاس میں قراردادوں پر عمل درآمد اور ادارے کے کام کو مؤثر بنانے سے متعلق مشترکہ مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری انصار شاہ نے کہا کہ جنرل اسمبلی اقوامِ متحدہ کا واحد بنیادی ادارہ ہے جس میں تمام رکن ممالک کو نمائندگی حاصل ہے۔ ان کے مطابق یہ ادارہ ریاستوں کی خودمختار مساوات اور عالمی سطح پر شمولیت کے اصولوں کی عکاسی کرتا ہے۔
انصار شاہ نے کہا کہ جنرل اسمبلی کو فعال بنانے کا عمل صرف انتظامی یا طریقۂ کار کی اصلاحات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس کا مقصد اقوامِ متحدہ کے نظام میں توازن، مساوات اور جمہوری شرکت کو مضبوط کرنا بھی ہے۔
پاکستان نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام میں جنرل اسمبلی کے کردار کو تقویت دینے پر زور دیا، بالخصوص ایسے حالات میں جب سلامتی کونسل کسی معاملے پر کارروائی کرنے سے قاصر ہو یا اس کے لیے آمادہ نہ ہو۔ پاکستانی مندوب نے تنازعات کے پُرامن حل، ثالثی، تحکیم اور تنازعات کی بنیادی وجوہات سے نمٹنے میں جنرل اسمبلی کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
انہوں نے جنرل اسمبلی کی قراردادوں پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے ایک مخصوص طریقۂ کار قائم کرنے کی پاکستان کی تجویز دہرائی۔ ان کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سیکریٹریٹ کو اس مقصد کے لیے باقاعدہ اور تفصیلی رپورٹس پیش کرنی چاہئیں، تاکہ قراردادوں پر عمل درآمد کا جائزہ لینے اور ادارے کی جواب دہی بہتر بنانے میں مدد مل سکے۔
پاکستان نے جنرل اسمبلی کے کام کو زیادہ مربوط بنانے کے لیے ایجنڈے کو معقول بنانے، قراردادوں کی تیاری کے عمل کو مؤثر کرنے، رپورٹس کا معیار بہتر بنانے اور عملی نتائج پر توجہ دینے کی حمایت بھی کی۔ تاہم انصار شاہ کے مطابق ادارے کی مؤثریت میں رکاوٹ صرف طریقۂ کار کی پیچیدگیاں نہیں بلکہ بعض رکن ممالک کی جانب سے جنرل اسمبلی کو منشور کے تحت حاصل اختیارات مکمل طور پر استعمال کرنے دینے میں ہچکچاہٹ بھی ہے۔
انہوں نے جنرل اسمبلی اور سلامتی کونسل کے درمیان زیادہ مضبوط اور شفاف روابط کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کو جنرل اسمبلی کے سامنے زیادہ باقاعدگی سے جامع اور بامعنی رپورٹس پیش کرنی چاہئیں، تاکہ دونوں اداروں کے درمیان تعاون بہتر ہو سکے۔
بین الاقوامی اصول وضع کرنے اور بین الاقوامی قانون کی ترقی و تدوین میں جنرل اسمبلی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے کہا کہ یہ عمل ایک ایسے عالمی نظام کے تحت جاری رہنا چاہیے جس میں تمام رکن ممالک کو شرکت کا موقع حاصل ہو۔
انصار شاہ نے اقوامِ متحدہ کے تین بنیادی ستونوں، یعنی امن و سلامتی، ترقی اور انسانی حقوق، پر متوازن توجہ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے نظام میں اصلاحات کے لیے شروع کیے گئے ’یو این 80‘ اقدام اور جنرل اسمبلی کو فعال بنانے کی کوششوں کے درمیان ہم آہنگی ضروری ہے۔
سیکریٹری جنرل اور اقوامِ متحدہ کے دیگر اعلیٰ عہدوں پر تقرری کے عمل کے حوالے سے پاکستان نے شفافیت، شمولیت، صنفی مساوات اور تمام خطوں کی منصفانہ نمائندگی کی حمایت کی۔ پاکستانی مندوب نے امید ظاہر کی کہ سیکریٹری جنرل کے انتخاب کا عمل بروقت مکمل ہوگا اور قیادت کی تبدیلی کا مرحلہ خوش اسلوبی سے طے پائے گا۔
پاکستان نے یہ بھی کہا کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت کی حکمرانی، بیرونی خلا کے پائیدار استعمال اور عالمی مشترکہ وسائل سے متعلق ابھرتے ہوئے چیلنجز پر غور و خوض میں جنرل اسمبلی کو مرکزی حیثیت حاصل رہنی چاہیے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر انصار شاہ نے کہا، ’’ایک ازسرِنو فعال جنرل اسمبلی ہی ایک ازسرِنو فعال اقوامِ متحدہ کی بنیاد ہے۔‘‘ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان جنرل اسمبلی کو اقوامِ متحدہ کے مرکزی مشاورتی، پالیسی ساز اور نمائندہ ادارے کی حیثیت مضبوط بنانے کے لیے تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر پاکستان کی جانب سے جنرل اسمبلی کے کردار اور قراردادوں پر عمل درآمد سے متعلق پیش کیے گئے مؤقف پر مبنی ہے۔ قراردادوں کی نگرانی کے مجوزہ طریقۂ کار اور ادارہ جاتی اصلاحات کو پاکستان کی تجاویز کے طور پر بیان کیا گیا ہے، نہ کہ منظور شدہ فیصلوں کے طور پر۔
ماخذ: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی فراہم کردہ پریس ریلیز