Latest news

ماسکو فارمیٹ اجلاس: افغانستان سے دہشت گردی پر اختلاف، مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہو سکا

Spread the love

محمود احمد, October09,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 9 اکتوبر 2026ء

پاکستان نے کہا ہے کہ افغانستان سے دہشت گردی کے معاملے پر اختلافات کے باعث ماسکو فارمیٹ کے حالیہ اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں ہو سکا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق اسلام آباد خطے کے ممالک کے ساتھ مکالمے اور سفارتی رابطوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے معاملے پر اس کے تحفظات برقرار ہیں۔

جمعرات کو ہفتہ وار بریفنگ میں دفترِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ پاکستان نے 5 اکتوبر کو ماسکو میں ہونے والے آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں تعمیری انداز میں شرکت کی اور افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں سے متعلق اپنے تحفظات واضح طور پر پیش کیے۔

ترجمان کے مطابق پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغانستان میں سرگرم دہشت گرد تنظیمیں خطے، خصوصاً پاکستان، کے لیے سنگین سکیورٹی خطرہ ہیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ سال ماسکو فارمیٹ کے مشترکہ اعلامیے میں بھی اس معاملے کا واضح ذکر کیا گیا تھا۔

تاہم ترجمان نے کہا کہ رواں سال افغان طالبان کے وفد نے دہشت گردی سے متعلق وہ الفاظ برقرار رکھنے پر اتفاق نہیں کیا جن پر گزشتہ اجلاس میں تمام فریق متفق ہوئے تھے۔ اسی اختلاف کے باعث اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکا۔

ان کے بقول، ’’کوئی بھی ایسا مشترکہ اعلامیہ جو افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کی حقیقت اور شدت کی عکاسی نہ کرے، زمینی صورتحال کی مکمل اور درست تصویر پیش نہیں کر سکتا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نزدیک یہ محض سفارتی اصطلاحات کا اختلاف نہیں بلکہ ایک حقیقی سکیورٹی چیلنج ہے۔

ترجمان نے مزید بتایا کہ اجلاس کے دوران روسی نمائندے نے بھی اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ افغان طالبان کے وفد نے اس زبان پر اعتراض کیا جسے ایک سال قبل متفقہ طور پر قبول کیا گیا تھا۔

پاکستانی ترجمان کے مطابق طالبان وفد کا مؤقف تھا کہ افغانستان کی زمینی صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ تاہم پاکستان اس تبدیلی کو اس تناظر میں دیکھتا ہے کہ اس کے بقول افغانستان سے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے خلاف دہشت گرد حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر کو کارروائیوں کی بڑھتی ہوئی گنجائش ملنا خطے اور عالمی برادری کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ ممالک کے درمیان تعاون اور مشترکہ اقدامات ضروری ہیں۔

آئندہ ماسکو فارمیٹ اجلاس میں شرکت کے بارے میں سوال پر ترجمان نے کہا کہ اگلا اجلاس تقریباً ایک سال بعد متوقع ہے، اس لیے مشاورت کے لیے وقت موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان علاقائی رابطوں کی حمایت کرتا ہے، لیکن اگلے اجلاس میں شرکت کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

مشترکہ اعلامیہ جاری نہ ہونے کی وجہ اور افغانستان سے دہشت گردی کے بارے میں تفصیلات دفترِ خارجہ پاکستان کے بیان کے مطابق پیش کی گئی ہیں۔ افغان طالبان کے مؤقف اور پاکستان کے سکیورٹی دعووں کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ متن میں شامل نہیں؛ اس لیے انہیں متعلقہ فریقوں سے منسوب سمجھا جائے۔

ماخذ: دفترِ خارجہ پاکستان کی ہفتہ وار بریفنگ، فراہم کردہ رپورٹ