Latest news

پاکستان کا سلامتی کونسل سے یمن میں حملے روکنے، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی حل کے لیے اقدامات کا مطالبہ

Spread the love

محمود احمد, October10,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 10 اکتوبر 2026ء

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ یمن میں جاری تنازعے، حوثیوں کے حملوں، تجارتی جہاز رانی کو لاحق خطرات اور بگڑتے ہوئے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے متحد ہو کر اقدامات کیے جائیں۔ پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ یمن میں کشیدگی کم کرنے، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی تصفیے کی جانب واپسی کے لیے فوری سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔

9 اکتوبر 2026ء کو یمن کی صورتحال پر سلامتی کونسل کے ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ اور دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا) کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل محمد یحییٰ کی بریفنگز کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ یمن میں دشمنی میں شدت، سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے حملے، تعز اور باب المندب کے اطراف لڑائی اور انسانی بحران عالمی توجہ کے متقاضی ہیں۔

سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

عاصم افتخار احمد نے سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے مسلسل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مکہ مکرمہ گورنریٹ میں بنیادی ڈھانچے اور مدینہ منورہ میں طیبہ بجلی کی تقسیم کے مرکز کو نشانہ بنانے کے واقعات قابلِ تشویش ہیں۔ ان کے مطابق شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے اور ابہا بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملوں کے نتیجے میں بھی شہریوں کی جانیں ضائع ہوئیں اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔

پاکستانی مندوب نے مطالبہ کیا کہ یہ حملے فوری طور پر بند کیے جائیں، کیونکہ ان سے علاقائی امن و سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے حرمین شریفین کے تقدس اور سلامتی کے احترام پر بھی زور دیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے اپنے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے سعودی عرب کے اپنے شہریوں، شہروں اور اہم تنصیبات کے دفاع کے حق کی حمایت کا اعادہ کیا۔

یمن کی خودمختاری اور بحری سلامتی کی حمایت

پاکستان نے یمن کی خودمختاری، آزادی، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے ساتھ ساتھ اس کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کا اعادہ کیا۔ پاکستانی مندوب نے کہا کہ یمن کے مغربی ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب حوثیوں کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں بحری سلامتی کے تحفظ کی اہمیت واضح کرتی ہیں۔

انہوں نے تجارتی جہازوں پر حملے بند کرنے اور بین الاقوامی قانون کے تحت جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق اہم بحری راستوں پر حملوں سے جہازوں کے عملے کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے، بین الاقوامی تجارت متاثر ہوتی ہے اور عالمی معیشت پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششوں پر زور

عاصم افتخار احمد نے یمن کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی ہانس گرنڈبرگ کی سفارتی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ کشیدگی کم کرنے، رابطے برقرار رکھنے اور لڑائی کے خاتمے کے لیے تمام دستیاب سفارتی ذرائع استعمال کیے جانے چاہییں۔

انہوں نے اقوامِ متحدہ کی سرپرستی میں ایک قابلِ اعتماد، جامع اور یمنیوں کی قیادت میں سیاسی عمل بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کے مطابق پائیدار حل کے لیے ایسا سیاسی عمل ضروری ہے جس میں یمنی عوام کی شرکت اور ان کی اپنی ترجیحات کو مرکزی اہمیت حاصل ہو۔

شہریوں کا تحفظ اور انسانی امداد کی فراہمی

پاکستانی مندوب نے کہا کہ یمن میں لڑائی کی شدت انسانی صورتحال کو مزید خراب کر رہی ہے۔ انہوں نے تعز کے گرد فوجی کارروائیوں اور عدن ہوائی اڈے پر حوثی عناصر کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو درپیش خطرات پر تشویش ظاہر کی۔

انہوں نے محفوظ، تیز رفتار اور بلا روک ٹوک انسانی امداد کی فراہمی، شہری تنصیبات کے تحفظ اور امدادی سرگرمیوں کے لیے مناسب مالی وسائل مہیا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ خوراک، ایندھن اور دیگر ضروری اشیا ضرورت مند آبادی تک پہنچنی چاہییں۔

پاکستان نے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں، انسانی ہمدردی کے کارکنوں اور سفارتی عملے کی حراست پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے ان کی فوری، غیر مشروط اور محفوظ رہائی کا مطالبہ دہرایا۔

خطاب کے اختتام پر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ سلامتی کونسل کو اتحاد اور یکسوئی کے ساتھ اقدامات کرنے چاہییں تاکہ حملے روکے جا سکیں، علاقائی سلامتی کا تحفظ ہو، انسانی مصائب میں کمی آئے اور سیاسی تصفیے کے لیے قابلِ اعتماد راستہ بحال کیا جا سکے۔ انہوں نے ایک پُرامن، مستحکم اور متحد یمن کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

اس خبر میں یمن کی صورتحال اور حوثیوں کے حملوں سے متعلق مؤقف پاکستان کے مستقل مندوب کے خطاب کے مطابق پیش کیا گیا ہے۔ حملوں، ہلاکتوں اور ذمہ داری کے تعین سے متعلق تفصیلات کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ متن میں شامل نہیں؛ اس لیے متعلقہ دعووں کو پاکستانی مندوب سے منسوب سمجھا جائے۔

ماخذ: اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مشن کی فراہم کردہ تقریر،