

محمود احمد, October14,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 14 اکتوبر 2026ء
ایران کی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے امریکہ پر وعدہ خلافی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کو اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے پر سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی قیادت اپنا رویہ تبدیل کرے اور ایران کے جائز مطالبات تسلیم کرے۔
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اپنے دوسرے ویڈیو انٹرویو میں قالیباف نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے سامنے پیش کی گئی تجویز کے حوالے سے پہلے بھی اپنا مؤقف واضح کیا تھا اور اب بھی اس پر قائم ہے۔ ان کے بقول، امریکی صدر نے بعض وعدے کیے تھے، لیکن بعد میں ان کی خلاف ورزی کی گئی۔
قالیباف نے کہا کہ ان کے نزدیک وعدوں کی خلاف ورزی کے نتائج ہونے چاہییں تاکہ امریکہ اپنے طرزِ عمل پر نظرثانی کرے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے مطالبات کو سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے اور مذاکرات میں کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا مقصد اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پائیدار بازدارندگی حاصل کرنا ہے۔ ان کے مطابق ملک کو اپنی طاقت خطے اور عالمی سطح پر موجود تمام فریقوں کے سامنے ثابت کرنا ہوگی تاکہ کوئی بھی ایران پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کرے۔
قالیباف کا کہنا تھا کہ مؤثر دفاعی بازدارندگی کے لیے ایران کو اپنی صلاحیتیں مضبوط بنانا اور ممکنہ خطرات کا مقابلہ کرنے کی تیاری برقرار رکھنا ہوگی۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران دفاعی طاقت کو مستقبل میں حملوں کی روک تھام کے لیے اہم سمجھتا ہے۔
ان کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان وعدوں، مذاکرات اور علاقائی سلامتی سے متعلق اختلافات زیرِ بحث ہیں۔ تاہم قالیباف نے اپنے بیان میں امریکی صدر کے مبینہ وعدوں کی تفصیلات یا ان کی خلاف ورزی سے متعلق مخصوص اقدامات کی وضاحت نہیں کی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: امریکی وعدوں کی خلاف ورزی اور ایران کے مطالبات سے متعلق الزامات محمد باقر قالیباف کے بیان پر مبنی ہیں۔ ان کے مؤقف میں دفاعی بازدارندگی کو ایران کی سلامتی کی حکمتِ عملی کا اہم حصہ قرار دیا گیا ہے، تاہم امریکی حکام کا ردعمل اور زیرِ بحث وعدوں کی تفصیلات اس خبر میں شامل نہیں۔
ماخذ: ایرانی ذرائع ابلاغ میں شائع شدہ محمد باقر قالیباف کا ویڈیو انٹرویو