Latest news

ایران جنگ سے پہلے امریکی جنرل نے میزائلوں کی قلت سے خبردار کیا تھا، پیٹریاٹ اور تھاڈ ذخائر 2030 تک دباؤ میں رہنے کا خدشہ

Spread the love

محمود احمد, October16,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اکتوبر 2026ء

امریکہ کے سابق آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے سے تقریباً دو ماہ قبل خبردار کیا تھا کہ امریکی فوج کو فضائی اور میزائل دفاعی نظاموں میں استعمال ہونے والے اہم ہتھیاروں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور اس صورتِ حال کو بہتر بنانے میں مزید پانچ برس لگ سکتے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق، جنرل جارج نے دسمبر 2025 کے اواخر میں تیار کیے گئے اپنے جائزے میں نشاندہی کی تھی کہ پیٹریاٹ میزائلوں اور ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (تھاڈ) نظام کے لیے درکار انٹرسیپٹرز کے ذخائر 2030 تک بھی اسٹریٹجک اعتبار سے کم سطح پر رہ سکتے ہیں۔

یہ جائزہ پینٹاگون کے گلوبل فورس مینجمنٹ ایلوکیشن پلان میں شامل تھا، جو دنیا بھر میں امریکی فوجی دستوں، ہتھیاروں اور دفاعی وسائل کی تعیناتی سے متعلق سالانہ منصوبہ ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ منصوبہ وزیرِ دفاع کی منظوری سے تیار کیا جاتا ہے اور اس میں مختلف خطوں میں فوجی ضروریات اور دستیاب وسائل کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

جنرل جارج کی تنبیہ ایسے وقت میں سامنے آئی تھی جب امریکہ پہلے ہی یوکرین کو فوجی امداد فراہم کرنے اور اسرائیل کے دفاع میں میزائل روکنے والے ہتھیار استعمال کرنے کے باعث اپنے ذخائر پر دباؤ محسوس کر رہا تھا۔ ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد ان ہتھیاروں کی طلب میں مزید اضافہ ہوا، جس نے امریکی فوج کی دفاعی صلاحیتوں اور مستقبل کی ممکنہ جنگوں کے لیے تیاری سے متعلق سوالات کو اہم بنا دیا ہے۔

پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائلوں کے ذخائر پر دباؤ

امریکی حکام کے مطابق جنرل جارج نے خبردار کیا تھا کہ پیٹریاٹ اور تھاڈ نظاموں میں استعمال ہونے والے دفاعی ہتھیاروں کے ذخائر اس حد تک کم ہو سکتے ہیں کہ ان کی دستیابی مستقبل کی فوجی منصوبہ بندی کے لیے تشویش کا باعث بن جائے۔ ان نظاموں کا بنیادی مقصد دشمن کے بیلسٹک میزائلوں اور دیگر فضائی خطرات کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے روکنا ہے۔

پیٹریاٹ نظام مختلف اقسام کے فضائی خطرات، جن میں بعض بیلسٹک اور کروز میزائل اور دشمن کے طیارے شامل ہیں، کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب تھاڈ نظام بالخصوص بیلسٹک میزائلوں کو ان کی پرواز کے آخری مرحلے میں روکنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ دونوں نظام مختلف بلندیوں پر خطرات کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور مشترکہ استعمال کی صورت میں دفاع کی متعدد تہیں فراہم کر سکتے ہیں۔

ان نظاموں کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹرز کی تیاری پیچیدہ، مہنگی اور وقت طلب ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے جنگ کے دوران بڑی تعداد میں میزائل استعمال ہونے کے بعد ان کے ذخائر کو دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانا فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا۔

امریکی حکام نے حساس نوعیت کی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے ذخائر میں کمی کے درست فیصدی اعداد و شمار جاری نہیں کیے۔ جنرل جارج نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔

یوکرین اور اسرائیل کو دفاعی امداد کے اثرات

امریکی حکام کے مطابق میزائل دفاعی ذخائر میں کمی کی ایک اہم وجہ روس کے 2022 کے حملے کے بعد یوکرین کو فراہم کیے جانے والے پیٹریاٹ نظام اور ان کے لیے درکار میزائل تھے۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے دفاع میں ایرانی حملوں کو روکنے کے لیے امریکی فوج کی جانب سے دفاعی ہتھیاروں کا استعمال بھی ذخائر پر دباؤ کا سبب بنا۔

یوکرین اور مشرقِ وسطیٰ میں بیک وقت فوجی ضروریات نے امریکی دفاعی منصوبہ سازوں کے لیے وسائل کی تقسیم کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے۔ مختلف امریکی فوجی کمانڈز کو یورپ، مشرقِ وسطیٰ اور بحرالکاہل کے خطے میں دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے انہی محدود وسائل پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔

اس صورتِ حال کا ایک اور پہلو دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت ہے۔ امریکی حکام اور دفاعی ماہرین کے مطابق، موجودہ صنعتی ڈھانچہ طویل جنگ کے دوران ہتھیاروں کی کھپت کی رفتار کے مطابق پیداوار بڑھانے میں مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے۔ اگر میزائل تیزی سے استعمال ہوں اور ان کی جگہ نئے ہتھیار اسی رفتار سے تیار نہ کیے جا سکیں تو ذخائر کو بحال کرنے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

دفاعی صنعت کی محدود پیداواری صلاحیت کے باعث پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید نظاموں کے لیے نئے انٹرسیپٹرز کی فراہمی فوری طور پر بڑھانا مشکل ہو سکتا ہے۔ اس لیے ذخائر کی بحالی کا انحصار نہ صرف مالی وسائل بلکہ پیداواری سہولتوں، پرزہ جات، سپلائی چین اور مستقبل میں ہتھیاروں کے استعمال کی رفتار پر بھی ہوگا۔

جنرل جارج کو اپریل میں عہدے سے ہٹایا گیا

امریکی حکام کے مطابق وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے جنرل رینڈی جارج کو اپریل 2026 میں، ایران کے خلاف جنگ جاری ہونے کے دوران، ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ تاہم دستیاب معلومات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ جنرل جارج کو ہٹانے کا فیصلہ ان کی جانب سے میزائل دفاعی ذخائر کی کمی سے متعلق دی گئی تنبیہ کی وجہ سے کیا گیا تھا۔

ان کا جائزہ مالی سال 2027 کے لیے امریکی محکمۂ دفاع کی منصوبہ بندی کا حصہ تھا اور جنگ شروع ہونے سے پہلے تیار کیا گیا تھا۔ اس لیے یہ رپورٹ اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دفاعی ذخائر سے متعلق خدشات ایران کے خلاف جنگ کے آغاز سے پہلے بھی امریکی فوجی منصوبہ بندی میں موجود تھے۔

امریکی حکام کے مطابق بعض حملہ آور ہتھیاروں، مثلاً جوائنٹ ڈائریکٹ اٹیک میونیشن اور سمال ڈائیمیٹر بموں، کے ذخائر نسبتاً زیادہ ہیں، لیکن میزائل روکنے والے دفاعی ہتھیاروں کی دستیابی زیادہ تشویش ناک ہے۔ اس فرق سے ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی ذخائر کی صورتِ حال تمام اقسام کے ہتھیاروں میں یکساں نہیں۔

پینٹاگون نے قلت کے دعووں کو مسترد کر دیا

دفاعی ذخائر سے متعلق ان خدشات پر امریکی محکمۂ دفاع کے ترجمان شان پارنیل نے کہا کہ امریکی ہتھیاروں کی قلت سے متعلق دعوے غلط ہیں۔ ان کے مطابق امریکی فوج کے پاس صدر کی ہدایت کے مطابق کارروائی کرنے اور امریکی اہلکاروں و مفادات کا دفاع کرنے کے لیے ضروری صلاحیتیں اور وسائل موجود ہیں۔

پینٹاگون کے اس مؤقف اور جنرل جارج کے جائزے کے درمیان فرق اس معاملے کو مزید اہم بناتا ہے۔ ایک جانب حکام کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات دفاعی میزائلوں کے محدود ذخائر اور ان کی بحالی میں کئی برس لگنے کے خدشے کی نشاندہی کرتی ہیں، جبکہ محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ امریکی فوج اپنی کارروائیوں اور دفاعی ذمہ داریوں کے لیے مطلوبہ صلاحیت رکھتی ہے۔

مجموعی طور پر یہ معاملہ صرف ہتھیاروں کی موجودہ تعداد تک محدود نہیں بلکہ اس بات سے بھی متعلق ہے کہ امریکہ بیک وقت مختلف خطوں میں دفاعی ضروریات کیسے پوری کرتا ہے اور استعمال ہونے والے جدید میزائلوں کی جگہ نئے ہتھیار کتنی تیزی سے تیار کر سکتا ہے۔ اگر پیداوار اور ذخائر کی بحالی میں تاخیر برقرار رہتی ہے تو مستقبل میں مختلف خطوں کے لیے فوجی وسائل مختص کرنے کے فیصلے مزید مشکل ہو سکتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: جنرل رینڈی جارج سے منسوب جائزہ امریکی حکام کی فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے، جبکہ پینٹاگون نے ہتھیاروں کی قلت سے متعلق دعووں کو مسترد کیا ہے۔ پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائلوں کے ذخائر کے بارے میں درست اعداد و شمار حساس قرار دیے گئے ہیں، اس لیے قلت کی اصل شدت کا آزادانہ تعین محدود معلومات کی بنیاد پر نہیں کیا جا سکتا۔ ذخائر کی بحالی کا وقت ہتھیاروں کے آئندہ استعمال اور دفاعی صنعت کی پیداواری صلاحیت پر منحصر ہوگا۔

ماخذ: امریکی محکمۂ دفاع، امریکی حکام کے بیانات، سی بی ایس نیوز، سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS)