Latest news

پاکستان کا اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان میں تشدد کے فوری خاتمے اور شہریوں کے تحفظ کا بڑا مطالبہ

Spread the love

محمود احمد, October17,2026

اقوامِ متحدہ (نیوز اینڈ نیوز) — 16 اکتوبر 2026ء

پاکستان نے سوڈان میں جاری تشدد کے فوری خاتمے، شہریوں کے مؤثر تحفظ اور ایک قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے آغاز پر زور دیتے ہوئے ملک کی خودمختاری، اتحاد، آزادی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں سوڈان کی صورتِ حال پر بریفنگ دیتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے واضح کیا کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں اور پائیدار امن کے لیے سوڈانی قیادت میں جامع سیاسی عمل ناگزیر ہے۔

سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان کی کوششوں کے دو بنیادی مقاصد ہیں: سوڈانی عوام کے مصائب اور مشکلات میں کمی لانا اور سوڈان کو ایک متحد، خودمختار اور مستحکم ریاست کے طور پر برقرار رکھنا۔ ان کے مطابق سیاسی حل ایسا ہونا چاہیے جس میں سوڈانی عوام کی امنگوں اور اعتماد کی عکاسی ہو اور سوڈانی حکام کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے۔

پاکستانی مندوب نے اس بات پر زور دیا کہ سوڈان کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کی خواہشات اور سیاسی شمولیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق تشدد کے ذریعے کسی فریق کو سیاسی برتری حاصل ہونے سے دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا، اس لیے جنگ بندی، مذاکرات اور قابلِ اعتماد سیاسی عمل کے لیے سنجیدہ کوششیں ضروری ہیں۔

دارفور اور کردفان میں تشدد پر تشویش

سفیر عثمان جدون نے سوڈانی عوام کو درپیش شدید انسانی مشکلات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور دارفور میں ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) سے منسوب مظالم کی مذمت کی۔ انہوں نے بالخصوص الجنَینہ اور الفاشر میں پیش آنے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں کے تحفظ اور انسانی حقوق کے احترام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

پاکستانی مندوب نے کردفان میں جاری لڑائی کے خاتمے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کے تمام فریق بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی کریں، شہریوں اور شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کریں اور انسانی امداد کی محفوظ، تیز رفتار اور بلا تعطل رسائی ممکن بنائیں۔

سوڈان میں جاری لڑائی نے شہری آبادی کی سلامتی، بنیادی سہولتوں اور امدادی سرگرمیوں کے لیے سنگین چیلنجز پیدا کیے ہیں۔ ایسے حالات میں امدادی اداروں کی رسائی متاثر ہونے سے خوراک، طبی سہولتوں اور دیگر ضروری اشیا کی فراہمی میں مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔ پاکستان نے اپنے بیان میں ان مسائل کے حل اور متاثرہ شہریوں کی مدد کو اہم ترجیح قرار دیا۔

سوڈانی ریاستی اداروں کی یکجہتی ضروری قرار

سفیر عثمان جدون نے سوڈان کے ریاستی اداروں کے تحفظ اور ملک کے انتظامی ڈھانچے کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریاست کو تقسیم کرنے یا متوازی سیاسی اور انتظامی ڈھانچے قائم کرنے سے امن کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔

پاکستان کے مطابق سوڈان کے استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی ادارے مؤثر انداز میں کام کرتے رہیں اور سیاسی اختلافات کا حل ایسے طریقے سے تلاش کیا جائے جس سے ملک کی وحدت اور خودمختاری متاثر نہ ہو۔ اس مؤقف میں اس خدشے کی نشاندہی بھی کی گئی کہ متوازی انتظامی ڈھانچے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

عالمی سفارتی کوششوں میں ہم آہنگی کی حمایت

پاکستان نے سوڈان میں امن کے لیے مختلف عالمی اور علاقائی اداروں کی سفارتی کوششوں کا خیرمقدم کیا۔ ان میں اقوامِ متحدہ، افریقی یونین، بین الحکومتی اتھارٹی برائے ترقی (آئی جی اے ڈی)، عرب لیگ، یورپی یونین اور کوئنٹیٹ کی کوششیں شامل ہیں۔

سفیر جدون نے افریقی یونین کی امن و سلامتی کونسل کی جانب سے خرطوم کے ساتھ دوبارہ فعال سفارتی روابط کا بھی خیرمقدم کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف سفارتی اقدامات کو ایک دوسرے کی تکمیل اور تقویت کا ذریعہ بننا چاہیے تاکہ امن کی کوششیں بکھرنے کے بجائے مشترکہ سمت میں آگے بڑھ سکیں۔

پاکستان کے مطابق سوڈان کے بحران کے حل کے لیے عالمی اور علاقائی شراکت داروں کے درمیان رابطہ اور تعاون اہم ہے۔ مختلف اداروں کی کوششوں میں ہم آہنگی سے سیاسی عمل کی حمایت، جنگ بندی کے امکانات اور انسانی امداد کی فراہمی کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اسلحے کی پابندی پر مؤثر عمل درآمد کا مطالبہ

پاکستانی مندوب نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1591 کے تحت سوڈان پر عائد اسلحے کی پابندی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماہرین کے پینل کی تازہ رپورٹ میں اس پابندی کی مسلسل خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انہوں نے پابندی پر مؤثر عمل درآمد، نگرانی بہتر بنانے اور نفاذ میں موجود خامیوں کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

سفیر جدون نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد سیاسی حل کی راہ ہموار کرنا ہونا چاہیے، کیونکہ یہ امن کے حصول کا ذریعہ ہیں، بذاتِ خود کوئی مقصد نہیں۔ ان کے مطابق پابندیاں سفارت کاری کا متبادل نہیں بننی چاہییں اور نہ ہی ان کے نفاذ سے سوڈانی ریاستی اداروں کی استحکام برقرار رکھنے اور شہریوں کے تحفظ کی صلاحیت کمزور ہونی چاہیے۔

انہوں نے تنازع کو طول دینے والے ہتھیاروں، مالی وسائل اور دیگر معاونت کی فراہمی روکنے کے لیے موجودہ پابندی پر مؤثر عمل درآمد کی اہمیت بھی اجاگر کی۔

پاکستان کی تین بنیادی ترجیحات

اپنے بیان کے اختتام پر سفیر عثمان جدون نے تین بنیادی ترجیحات بیان کیں: تشدد کا فوری خاتمہ اور جنگ بندی کے لیے قابلِ اعتماد کوششیں؛ اقوامِ متحدہ اور علاقائی شراکت داروں کی حمایت سے سوڈانی قیادت میں ایک جامع سیاسی عمل؛ اور اسلحے کی پابندی پر مؤثر عمل درآمد تاکہ تنازع کو طول دینے والے وسائل کی فراہمی روکی جا سکے۔

پاکستان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ سوڈان کے عوام کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ایک پُرامن، متحد، خودمختار اور خوشحال سوڈان کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستانی مؤقف کے مطابق پائیدار امن کے لیے سیاسی مذاکرات، شہریوں کا تحفظ اور ریاستی اداروں کا استحکام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: پاکستان کا بیان سوڈان میں جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور سیاسی حل کی حمایت پر مرکوز ہے۔ دارفور میں آر ایس ایف سے منسوب مظالم اور اسلحے کی پابندی کی خلاف ورزیوں سے متعلق نکات پاکستانی مندوب کے بیان اور اس میں حوالہ دی گئی رپورٹ کے تناظر میں بیان کیے گئے ہیں۔ سوڈان میں پائیدار امن کے لیے عملی پیش رفت کا انحصار تنازع کے فریقوں کے اقدامات، سفارتی کوششوں اور انسانی امداد کی مؤثر رسائی پر ہوگا۔

ماخذ: اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل، پاکستان کا اقوامِ متحدہ میں بیان،