

محمود احمد, October19,2026
تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 19 اکتوبر 2026ء
ایران کے رہبرِ اعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران کے بجلی گھروں اور پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو تہران جوابی کارروائی میں نو ممالک کے بجلی گھروں اور پیٹروکیمیکل مراکز کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ان کے بیان نے مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی تنصیبات کے تحفظ، علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی کی رسد سے متعلق خدشات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
ڈاکٹر محمد مخبر کے مطابق ایران اپنی توانائی کی تنصیبات پر حملے کی صورت میں خاموش نہیں رہے گا اور اس کا جواب خطے میں موجود متعلقہ اہداف کو نشانہ بنا کر دیا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کے بیان میں جن نو ممالک کا ذکر کیا گیا، ان کے ناموں کی مکمل فہرست فراہم کردہ معلومات میں شامل نہیں ہے۔ اس لیے یہ واضح نہیں کہ ممکنہ جوابی کارروائی کے لیے کن ممالک کی تنصیبات کو باقاعدہ طور پر نامزد کیا گیا ہے۔
یہ دھمکی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی کے باعث خلیجی خطے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی ایک اہم مسئلہ بن چکی ہے۔ بجلی گھر، تیل و گیس کی تنصیبات، پیٹروکیمیکل کارخانے اور برآمدی مراکز نہ صرف متعلقہ ممالک کی معیشت بلکہ عالمی منڈیوں کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
راس لفان حملے کا دفاع
محمد مخبر نے اپنی تقریر میں قطر کے راس لفان میں مائع قدرتی گیس کی پیداوار اور برآمد سے متعلق تنصیب پر ہونے والے حملے کا بھی دفاع کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کارروائی نے پوری دنیا کو مشکلات سے دوچار کر دیا تھا۔ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس حملے کو خطے میں جاری تنازع اور توانائی کی تنصیبات پر ہونے والی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔
قطر نے راس لفان کی تنصیب پر حملے کے خلاف سخت احتجاج کیا تھا۔ راس لفان قطر کی توانائی صنعت کا ایک اہم مرکز ہے، جہاں قدرتی گیس کی تیاری اور برآمد سے متعلق بڑے پیمانے پر سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ اس نوعیت کی تنصیبات کو نقصان پہنچنے سے گیس کی پیداوار، برآمدی صلاحیت اور عالمی خریداروں کو فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوتا ہے۔
فراہم کردہ معلومات کے مطابق جنوبی پارس میں ایرانی توانائی کی تنصیبات پر حملے کے جواب میں ایران نے قطر میں مائع قدرتی گیس برآمد کرنے والی ایک بڑی تنصیب کو نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعے نے توانائی کے شعبے کو علاقائی فوجی کشیدگی کے براہِ راست اثرات کے سامنے لا کھڑا کیا۔
قطر کی جانب سے احتجاج اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ توانائی کے مراکز پر حملوں کے اثرات صرف دو متحارب فریقوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ ان ممالک کو بھی متاثر کر سکتے ہیں جو تنازع میں براہِ راست شریک نہیں ہوتے۔
عالمی توانائی کی منڈیوں پر اثرات
راس لفان پر حملے کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ عالمی رسد کے بارے میں خدشات بھی بڑھے۔ قدرتی گیس کی پیداوار یا برآمد میں رکاوٹ پیدا ہونے سے ان ممالک پر دباؤ بڑھ سکتا ہے جو بجلی کی پیداوار، صنعتوں اور گھریلو ضروریات کے لیے درآمدی گیس پر انحصار کرتے ہیں۔
توانائی کی عالمی منڈی میں کسی بڑے پیداواری مرکز کو نقصان پہنچنے کا اثر رسد، قیمتوں، ترسیل اور مستقبل کے معاہدوں پر پڑ سکتا ہے۔ اگر ایسے حملے بار بار ہوں تو توانائی کمپنیوں اور درآمد کرنے والے ممالک کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑ سکتے ہیں، جس سے اخراجات میں اضافہ اور سپلائی کے نظام میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ عالمی توانائی کی رسد کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس خطے میں فوجی کشیدگی بڑھنے سے تیل اور گیس کی پیداوار کے علاوہ سمندری تجارتی راستوں کی سلامتی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی وجہ سے توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں کو محض علاقائی بیان نہیں بلکہ عالمی معیشت کے لیے ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز پر بحث
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں ڈاکٹر محمد مخبر نے آبنائے ہرمز سے متعلق بحث کا حوالہ دیا۔ ان کے مطابق بعض افراد کا خیال ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز سے دستبردار ہو جانا چاہیے تاکہ ملک کے دوسرے حصوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
مخبر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے اندر بھی جنگی حکمتِ عملی اور اہم سمندری راستوں کے تحفظ کے حوالے سے مختلف آرا زیرِ بحث ہیں۔ تاہم ان کے بیان میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آبنائے ہرمز سے دستبرداری سے مراد کون سا مخصوص اقدام ہے یا اس بارے میں کوئی باضابطہ پالیسی تجویز پیش کی گئی ہے۔
آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرۂ عرب سے ملانے والا ایک اہم سمندری راستہ ہے۔ عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی مصنوعات کی بڑی مقدار کی ترسیل اس گزرگاہ سے وابستہ ہے۔ اس راستے میں کسی بڑی رکاوٹ یا سکیورٹی بحران سے عالمی تجارت، جہاز رانی اور توانائی کی قیمتوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔
خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
ایرانی مشیر کی دھمکی سے یہ خدشہ بڑھتا ہے کہ اگر توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملوں کا سلسلہ جاری رہا تو تنازع مزید ممالک تک پھیل سکتا ہے۔ بجلی گھروں اور پیٹروکیمیکل تنصیبات کو نشانہ بنانے سے شہری آبادی، صنعتی پیداوار اور بنیادی خدمات بھی متاثر ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
ایسے حالات میں سفارتی رابطوں اور کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ توانائی کے مراکز کو حملوں سے محفوظ رکھنا نہ صرف متعلقہ ممالک بلکہ عالمی معیشت اور شہریوں کی بنیادی ضروریات کے لیے بھی ضروری ہے۔
فی الحال محمد مخبر کے بیان میں جن نو ممالک کی تنصیبات کو ممکنہ ہدف قرار دیا گیا، ان کی مکمل شناخت اور کسی ممکنہ کارروائی کے وقت یا طریقۂ کار کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔ آئندہ صورتِ حال کا انحصار خطے میں فوجی سرگرمیوں، متعلقہ حکومتوں کے ردعمل اور سفارتی کوششوں پر ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: ڈاکٹر محمد مخبر کا بیان ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی دھمکی ہے؛ اسے نو ممالک پر حملے کے حتمی فیصلے یا عملی کارروائی کی تصدیق نہیں سمجھنا چاہیے۔ راس لفان اور آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی پیش رفت کے اثرات علاقائی سلامتی اور عالمی توانائی کی منڈیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ماخذ: ایرانی رہبرِ اعلیٰ کے مشیر ڈاکٹر محمد مخبر کا بیان، قطر کے سرکاری حکام، توانائی سے متعلق دستیاب معلومات