

منصور احمد,October24,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء
پاکستان نے امریکی سفارتکار زلمے خلیل زاد کے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستانی فوج سابق افغان شہریوں کو طالبان اور ان کے حامی مسلح گروہوں کے خلاف لڑنے کے لیے بھرتی اور مسلح کر رہی ہے۔ پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں ان الزامات کو ’’من گھڑت اور بے بنیاد‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیموں کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں کو افغان شہریوں کی بھرتی یا افغانستان کے اندر مسلح گروہوں کی حمایت سے جوڑنا درست نہیں۔
یہ تنازع 23 اکتوبر کو زلمے خلیل زاد کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کے خلاف لڑائی کے لیے افغان شہریوں کو مسلح کیے جانے کی اطلاعات پہلے بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ ان کے مطابق اب ایسی رپورٹس بھی گردش کر رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج پاکستان مخالف مسلح گروہوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے افغان شہریوں کو بھرتی کر رہی ہے۔
خلیل زاد نے اپنے بیان میں خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اس صورت حال سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان کے بیان میں ان مبینہ رپورٹس کی تفصیلی دستاویزات یا ایسے شواہد پیش نہیں کیے گئے جن کی بنیاد پر افغان شہریوں کی بھرتی کے دعوے کی آزادانہ تصدیق کی جا سکے۔
پاکستان کا مؤقف: کارروائیاں سکیورٹی خطرات کے خلاف ہیں
وزارتِ اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ پاکستان کی کارروائیاں ان مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جو افغان طالبان کے زیرِ انتظام علاقوں سے سرگرم ہیں اور پاکستان کی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی کوششوں کو افغان شہریوں کی بھرتی یا افغانستان کے اندر کسی مسلح گروہ کی حمایت کے مترادف قرار دینا حقائق کو غلط انداز میں پیش کرنا ہے۔ پاکستانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک کو سرحد پار سے ہونے والی مسلح کارروائیوں اور دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے اور ان کے تدارک کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔
وزارتِ اطلاعات کے مطابق پاکستان دہشت گردی کے خلاف عالمی کوششوں میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے اور اس مقصد کے لیے ملک نے بھاری جانی اور معاشی نقصان برداشت کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ علاقائی امن و سلامتی کے لیے پاکستان کی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے اس پر غیر مصدقہ الزامات عائد کرنا مناسب نہیں۔
اقوامِ متحدہ کی رپورٹس کا حوالہ
پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے اپنے بیان میں اقوامِ متحدہ کی نگرانی سے متعلق متعدد رپورٹس کا حوالہ بھی دیا، جن میں افغانستان میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور القاعدہ سمیت دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی اور سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان انتظامیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکے۔ اسلام آباد طویل عرصے سے یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے بعض حملوں کے منصوبہ ساز اور سہولت کار افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
دوسری جانب طالبان انتظامیہ ماضی میں ان الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے اور پاکستان پر اپنی داخلی سکیورٹی مشکلات کا ذمہ دار افغانستان کو ٹھہرانے کا الزام لگاتی رہی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان یہ اختلاف سرحدی سلامتی اور دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔
زلمے خلیل زاد کے بیان پر پاکستانی ردعمل
وزارتِ اطلاعات کے فیکٹ چیک اکاؤنٹ نے کہا کہ زلمے خلیل زاد کی جانب سے غیر مصدقہ الزامات دہرانا ان کے نقطۂ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ پاکستان نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور افغان شہریوں کی مبینہ بھرتی کے درمیان تعلق ثابت کرنے کے لیے قابلِ اعتماد شواہد ضروری ہیں۔
زلمے خلیل زاد افغانستان اور خطے کے معاملات پر اکثر اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔ تاہم کسی بھی سکیورٹی دعوے کی جانچ کے لیے ضروری ہے کہ اس کی بنیاد، متعلقہ شواہد اور دیگر فریقوں کے ردعمل کو الگ الگ دیکھا جائے۔
اس معاملے میں اب تک پاکستانی حکومت نے الزامات کی تردید کی ہے، جبکہ خلیل زاد کے دعوے کی آزادانہ تصدیق کے لیے تفصیلی شواہد سامنے نہیں آئے۔ اس لیے افغان شہریوں کی بھرتی سے متعلق دعوے کو فی الحال ایک غیر مصدقہ الزام کے طور پر ہی بیان کیا جانا چاہیے۔
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات پر ممکنہ اثرات
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سرحد پار حملوں، مسلح گروہوں کی موجودگی اور سکیورٹی تعاون کے معاملات پہلے ہی حساس نوعیت رکھتے ہیں۔ ایسے الزامات اور ان کی تردید سے دونوں ملکوں کے درمیان بداعتمادی مزید بڑھ سکتی ہے، خصوصاً اس وقت جب سرحدی سلامتی کے حوالے سے دونوں جانب مختلف مؤقف سامنے آ رہے ہوں۔
موجودہ تنازع کے حل کے لیے شواہد کی بنیاد پر تحقیقات، سفارتی رابطوں اور سکیورٹی معاملات پر واضح مؤقف کی ضرورت ہے۔ اگر دونوں ممالک کے درمیان الزامات کا تبادلہ جاری رہتا ہے تو اس سے علاقائی تعاون اور دوطرفہ تعلقات مزید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: پاکستان نے زلمے خلیل زاد کے الزامات کو مسترد کیا ہے، جبکہ ان کے بیان میں افغان شہریوں کی بھرتی سے متعلق دعوے کی آزادانہ تصدیق کے لیے تفصیلی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔ اقوامِ متحدہ کی رپورٹس سے متعلق پاکستانی بیان بھی اس خبر میں حکومتِ پاکستان کے مؤقف کے طور پر پیش کیا گیا ہے؛ کسی مخصوص دعوے کی تصدیق کے لیے متعلقہ رپورٹ اور اس کے اصل متن کا جائزہ ضروری ہے۔
ماخذ: پاکستان کی وزارتِ اطلاعات و نشریات کا فیکٹ چیک اکاؤنٹ، زلمے خلیل زاد کا بیان، اقوامِ متحدہ کی نگرانی سے متعلق رپورٹس