Latest news

سعودی عرب پر داغے گئے بیلسٹک میزائل اور ڈرون تباہ کرنے کا دعویٰ، متعدد شہروں میں خطرے کے الرٹ جاری

Spread the love

محمود احمد, October24,2026

ریاض (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء

سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں کی جانب داغے گئے متعدد بیلسٹک میزائلوں اور ایک ڈرون کو فضائی دفاعی نظام کے ذریعے روک کر تباہ کر دیا گیا ہے۔ اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی کے مطابق طائف اور ینبع کی جانب داغے گئے دو بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ بنایا گیا، جبکہ ریاض کی طرف آنے والے ایک اور بیلسٹک میزائل کو بھی روکنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ مشرقی علاقے میں بھی ایک ڈرون کو تباہ کرنے کی اطلاع دی گئی۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں ممکنہ فضائی خطرات کے پیش نظر ابتدائی انتباہی نظام فعال کیا گیا تھا۔ سعودی محکمہ شہری دفاع نے جدہ، مکہ مکرمہ، طائف اور ینبع کے رہائشیوں کو الرٹ جاری کرتے ہوئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور گھروں کے اندر رہنے کی ہدایت دی تھی۔ بعد ازاں حکام نے اعلان کیا کہ ان علاقوں میں خطرہ ٹل گیا ہے۔

طائف، ینبع اور ریاض کی جانب میزائل داغے جانے کا دعویٰ

اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی نے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے شہروں طائف اور ینبع کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل فضائی دفاعی نظام نے روک کر تباہ کر دیے۔ ان کے مطابق ریاض کی جانب داغے گئے ایک اور بیلسٹک میزائل کو بھی ناکارہ بنایا گیا۔

ان بیانات کے مطابق سعودی دفاعی نظام نے مختلف سمتوں سے آنے والے خطرات کا مقابلہ کیا۔ تاہم میزائلوں کے ممکنہ اہداف، ان کے داغے جانے کے مقامات اور ان کی تباہی کے نتیجے میں کسی نقصان کی تفصیلات مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں۔

مشرقی علاقے میں ڈرون ناکارہ بنانے کا دعویٰ

ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ہفتے کی صبح سعودی عرب کے مشرقی علاقے کی جانب بھیجے گئے ایک ڈرون کو تباہ کر دیا گیا۔ انہوں نے اس ڈرون کو حوثی گروپ سے منسوب کیا، تاہم حوثیوں کی جانب سے اس دعوے پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا۔

ڈرون اور میزائلوں سے متعلق اطلاعات کے بعد سعودی حکام نے مختلف علاقوں میں شہریوں کو حفاظتی ہدایات جاری کیں۔ ایسے حالات میں ابتدائی انتباہی نظام کا مقصد شہریوں کو ممکنہ خطرے سے بروقت آگاہ کرنا اور انہیں محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت دینا ہوتا ہے۔

متعدد شہروں میں ہنگامی انتباہی نظام فعال

سعودی محکمہ شہری دفاع نے جدہ، مکہ مکرمہ، طائف اور ینبع کے علاوہ ریاض، نجران اور وادی الدواسر میں بھی ممکنہ خطرے سے متعلق انتباہات جاری کیے تھے۔ حکام کے مطابق ان علاقوں میں ابتدائی انتباہی نظام فعال کیا گیا، تاہم بعد میں بتایا گیا کہ خطرہ ختم ہو گیا ہے۔

ان انتباہات کے باعث شہریوں کو صورت حال سے باخبر رہنے اور سرکاری ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی۔ فوری خطرے کے خاتمے کے اعلان کے باوجود حکام کی جانب سے شہریوں کو محتاط رہنے اور غیر مصدقہ اطلاعات پھیلانے سے گریز کرنے کی ہدایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

تاحال دستیاب معلومات میں ان واقعات کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی۔ اسی طرح تمام میزائلوں اور ڈرون کی تباہی سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق بھی سامنے نہیں آئی۔

حوثیوں سے منسوب حملوں کی کوششوں میں اضافہ

فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق حالیہ ہفتوں کے دوران سعودی عرب کی جانب میزائل اور ڈرون بھیجنے کی مبینہ کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ان واقعات کو یمن کے حوثی گروپ سے منسوب کیا جا رہا ہے، تاہم ہر واقعے کی ذمہ داری اور تفصیلات کی الگ الگ تصدیق ضروری ہے۔

سعودی عرب اور یمن کے تنازع کا علاقائی سلامتی پر گہرا اثر رہا ہے۔ سرحد پار میزائل اور ڈرون حملوں کی کوششیں شہری آبادی، اہم تنصیبات اور فضائی آمدورفت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔ اسی وجہ سے سعودی حکام دفاعی نظام کو فعال رکھنے اور شہریوں کو ہنگامی صورت حال سے متعلق آگاہ کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: میزائلوں اور ڈرون کو تباہ کرنے سے متعلق تفصیلات سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے ترجمان ترکی المالکی کے بیانات پر مبنی ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے فوری ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ واقعات کے نتیجے میں نقصان اور حملوں کی ذمہ داری سے متعلق تمام تفصیلات کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں۔

ماخذ: سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج، ترجمان ترکی المالکی کے بیانات، سعودی محکمہ شہری دفاع