

محمود احمد, October24,2026
الخلیل (نیوز اینڈ نیوز) — 24 اکتوبر 2026ء
مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی فوج نے فلسطینی عمارتیں مسمار کرنا شروع کر دی ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایک فوجی چوکی پر دو فلسطینی مسلح افراد کے حملے کے بعد کی جا رہی ہے، جس میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے تھے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ دونوں حملہ آوروں کو بھی فائرنگ کے تبادلے کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔
اس واقعے کے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فوج اس محلے کو تباہ کر دے گی جہاں سے حملہ آوروں کا تعلق بتایا جاتا ہے۔ انہوں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں کئی دہائیوں کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کے منصوبوں کا جائزہ لینے کا بھی دعویٰ کیا، تاہم اس کارروائی کے آغاز کی تاریخ نہیں بتائی۔
اسرائیلی حکام کے مطابق الخلیل اور اس کے قریبی شہر حلحول کے گرد ناکہ بندی بھی کر دی گئی ہے۔ اس اقدام سے علاقے میں آمدورفت متاثر ہونے اور مقامی فلسطینی آبادی کو روزمرہ زندگی میں مزید مشکلات کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔
فوجی چوکی پر حملے کے بعد کارروائی
اسرائیلی حکام کے مطابق الخلیل میں فوجی چوکی پر حملے کے دوران دو اسرائیلی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔ حکام نے حملہ آوروں کو فلسطینی مسلح افراد قرار دیا، جبکہ دونوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق کی گئی۔ واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے علاقے میں اپنی سرگرمیاں بڑھا دیں اور مبینہ طور پر حملہ آوروں سے منسلک عمارتوں کو نشانہ بناتے ہوئے انہدامی کارروائی شروع کر دی۔
نیتن یاہو نے کہا کہ مجوزہ فوجی آپریشن کا مقصد ان سرگرمیوں کو روکنا ہے جنہیں اسرائیلی حکام دہشت گردی سے منسلک قرار دیتے ہیں۔ تاہم ان کے بیان میں آپریشن کے مکمل دائرۂ کار، اس میں شامل فوجی دستوں کی تعداد اور متاثر ہونے والے محلوں کی حتمی فہرست واضح نہیں کی گئی۔
گھروں کی مسماری پر انسانی حقوق کے خدشات
فلسطینی حملوں کے شبہے میں ملزمان کے گھروں کو مسمار کرنے کی اسرائیلی پالیسی پر انسانی حقوق کی تنظیمیں طویل عرصے سے تنقید کرتی رہی ہیں۔ ناقدین اسے اجتماعی سزا قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس طرح کسی مشتبہ شخص کے اہلِ خانہ اور دیگر رہائشی بھی متاثر ہو سکتے ہیں، خواہ ان کا حملے میں براہِ راست کردار ثابت نہ ہوا ہو۔
اسرائیلی حکام اس نوعیت کی کارروائیوں کو حملوں کی روک تھام اور مستقبل میں تشدد کے خطرات کم کرنے کے لیے ضروری قرار دیتے ہیں۔ دوسری جانب انسانی حقوق کے حامیوں کا کہنا ہے کہ گھروں کی مسماری سے بے گناہ شہری بے گھر ہو سکتے ہیں اور متاثرہ علاقوں میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
الخلیل میں جاری کارروائی کے حوالے سے ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کتنی عمارتیں مسمار کی جا رہی ہیں، ان میں کتنے خاندان رہائش پذیر تھے اور متاثرہ افراد کے لیے متبادل رہائش کا کوئی انتظام کیا گیا ہے یا نہیں۔
الخلیل اور حلحول کے گرد ناکہ بندی
نیتن یاہو کے مطابق الخلیل اور قریبی شہر حلحول کے اطراف ناکہ بندی کی گئی ہے۔ اس طرح کی پابندیوں کے نتیجے میں مقامی شہریوں کی نقل و حرکت، کام پر جانے، تعلیم حاصل کرنے اور طبی سہولتوں تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔
مغربی کنارے میں سکیورٹی کارروائیوں کے دوران راستوں کی بندش اور چیک پوسٹوں پر اضافی نگرانی سے فلسطینی شہریوں کے لیے ایک علاقے سے دوسرے علاقے تک سفر مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم موجودہ ناکہ بندی کے دورانیے اور اس کے تحت عائد مخصوص پابندیوں کی مکمل تفصیلات دستیاب نہیں ہیں۔
اسرائیلی انتخابات سے قبل سکیورٹی کا معاملہ
یہ واقعہ اسرائیل میں عام انتخابات سے چار روز قبل پیش آیا ہے۔ نیتن یاہو نے سکیورٹی کو اپنی انتخابی مہم کا اہم موضوع بنایا ہے اور مغربی کنارے میں بڑے فوجی آپریشن کے منصوبوں کا ذکر کیا ہے۔
انتخابات سے پہلے پیش آنے والے اس حملے اور اس کے بعد کی کارروائیوں نے سکیورٹی پالیسی کو ایک بار پھر سیاسی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ واقعے یا مجوزہ فوجی آپریشن کا انتخابی نتائج پر کیا اثر پڑے گا۔
مغربی کنارے میں مزید وسیع فوجی کارروائی کی صورت میں شہری آبادی، رہائشی عمارتوں اور بنیادی سہولتوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں خدشات بڑھ سکتے ہیں۔ آئندہ صورت حال کا انحصار اسرائیلی فوج کے عملی اقدامات، ناکہ بندی کی مدت اور علاقے میں مزید کشیدگی کے امکانات پر ہوگا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: فوجی ہلاکتوں، زخمیوں اور حملہ آوروں کے بارے میں تفصیلات اسرائیلی حکام کے بیان سے منسوب ہیں۔ فلسطینی عمارتوں کی مسماری اور مجوزہ فوجی آپریشن کے مکمل پیمانے سے متعلق معلومات ابھی محدود ہیں۔ گھروں کی مسماری پر انسانی حقوق کے اعتراضات اور اسرائیلی حکومت کے سکیورٹی مؤقف کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔
ماخذ: اسرائیلی حکام کے بیانات، اسرائیلی وزیرِ اعظم کا بیان، انسانی حقوق کی تنظیموں کے سابقہ مؤقف