

منصور احمد,October26,2026
اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء
پاکستان نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے قریب حوثیوں کی جانب سے بیلسٹک میزائل حملوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے مطابق 24 اکتوبر کو کیے گئے حملوں میں مقدس مقامات کے قریبی علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس پر پاکستان نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دفترِ خارجہ کی جانب سے پیر کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ایسے حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ بیان کے مطابق مقدس مقامات کے قریب میزائل حملوں سے شہریوں کی سلامتی اور اسلام کے مقدس ترین مقامات کے تقدس کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ وہ مکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنے عزم پر قائم ہے اور سعودی عرب کی سلامتی، استحکام اور دفاع کی حمایت جاری رکھے گا۔
حرمین شریفین کے تحفظ کی حمایت
پاکستانی دفترِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کے دفاع کی حمایت میں مسجد الحرام، مکہ مکرمہ اور مسجد نبوی، مدینہ منورہ سمیت حرمین شریفین کو کسی بھی بیرونی جارحیت یا خطرے سے محفوظ رکھنے کا عزم بھی شامل ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ سیاسی، دفاعی اور معاشی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک مختلف علاقائی اور بین الاقوامی معاملات پر مشاورت کرتے رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب میں موجود مقدس مقامات کی وجہ سے وہاں کی سلامتی پاکستان سمیت مسلم دنیا کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔
دفترِ خارجہ کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مقدس مقامات کے قریب میزائل حملوں کی کوششیں نہ صرف سعودی عرب کی سلامتی بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی تشویش کا باعث ہیں۔
پاکستان نے ایسے اقدامات سے گریز کی ضرورت پر زور دیا ہے جو علاقائی کشیدگی میں مزید اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم بیان میں حملوں کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ نقصانات یا کسی جانی نقصان کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
سعودی فضائی دفاعی افواج کی کارروائی کو سراہا
پاکستان نے میزائل حملوں کو ناکام بنانے کے لیے سعودی فضائی دفاعی افواج کی مستعدی اور مؤثر کارروائیوں کو بھی سراہا۔ دفترِ خارجہ کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے خطرات کا بروقت مقابلہ شہریوں اور اہم مقامات کے تحفظ کے لیے اہم ہے۔
بیان میں سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا گیا، تاہم کسی اضافی فوجی تعیناتی یا نئے دفاعی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب کو حالیہ عرصے میں میزائلوں اور ڈرونز سے متعلق متعدد خطرات کا سامنا رہا ہے۔ ایسے واقعات کے دوران سعودی حکام نے مختلف علاقوں میں انتباہی نظام فعال کرنے اور فضائی دفاعی کارروائیوں کی اطلاعات بھی جاری کی ہیں۔ موجودہ معاملے میں پاکستانی بیان کا بنیادی نکتہ سعودی خودمختاری اور مقدس مقامات کے تحفظ کی حمایت ہے۔
علاقائی کشیدگی اور سفارتی کوششیں
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب پر میزائل حملوں کی اطلاعات نے علاقائی سلامتی سے متعلق خدشات کو مزید اہم بنا دیا ہے۔ پاکستان نے اپنے بیان کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ سیاسی یکجہتی کا اظہار کیا ہے اور اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ مقدس مقامات کی حفاظت اور شہریوں کی سلامتی کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث سفارتی رابطوں، باہمی تعاون اور تنازعات کو پھیلنے سے روکنے کی کوششوں کی اہمیت بھی بڑھ گئی ہے۔ پاکستان مختلف علاقائی معاملات میں مذاکرات اور سفارت کاری کی حمایت کرتا رہا ہے۔
موجودہ بیان میں پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے اپنی حمایت کو برقرار رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ تاہم میزائل حملوں کے حوالے سے مزید تفصیلات، ان کے مکمل نتائج اور آئندہ ممکنہ اقدامات سے متعلق کوئی اضافی اعلان نہیں کیا گیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: پاکستانی دفترِ خارجہ کا بیان سعودی عرب کی سلامتی اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے پاکستان کی حمایت کو ظاہر کرتا ہے۔ حملوں کی تفصیلات اور ذمہ داری سے متعلق مزید معلومات کے لیے سعودی حکام اور متعلقہ فریقوں کے باضابطہ بیانات اہم ہوں گے۔
ماخذ: پاکستان کا دفترِ خارجہ