Latest news

ایران پر ممکنہ حملے کے معاملے پر اسرائیلی قیادت میں اختلافات کی تردید، انتخابات سے پہلے فوجی کارروائی کا ارادہ نہیں تھا: وزیر دفاع

Spread the love

محمود احمد, October25,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 26 اکتوبر 2026ء

اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے ایران کے خلاف نئی فوجی کارروائی کے معاملے پر وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کا انتخابات سے قبل ایران پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان خبروں کے ذریعے نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کے فیصلوں اور انتظامی صلاحیت پر شکوک پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں انتخابات کے لیے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں اور ایران کے حوالے سے حکومتی پالیسی بحث کا اہم موضوع بنی ہوئی ہے۔ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے اتوار کو نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی فوج کے سربراہ ایال ضمیر کے درمیان ایک نئے حکم پر اختلاف پیدا ہوا تھا۔ تاہم رپورٹ میں اس حکم کی مکمل تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔

نیتن یاہو اس سے قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں بھی ان اطلاعات کو غلط قرار دے چکے ہیں۔ اب وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی ان کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف کسی نئی فوجی کارروائی کا منصوبہ نہیں تھا۔

وزیرِ دفاع کا مؤقف: رپورٹس کا مقصد سیاسی شکوک پیدا کرنا ہے

اسرائیل کاٹز کے مطابق فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان اختلافات سے متعلق رپورٹ کا مقصد انتخابات سے عین قبل نیتن یاہو کی اتحادی حکومت کے فیصلوں پر سوالات اٹھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی مقابلہ انتہائی سخت ہے اور ایسے وقت میں اس نوعیت کی اطلاعات سیاسی ماحول کو متاثر کر سکتی ہیں۔

وزیرِ دفاع نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت اور فوجی قیادت کے درمیان اختلافات کی تصدیق نہیں کی۔ تاہم ان کے بیان سے یہ واضح نہیں ہوا کہ چینل 12 کی رپورٹ میں جس حکم کا ذکر کیا گیا تھا، وہ کس نوعیت کا تھا اور اس سے متعلق اصل معاملات کیا تھے۔

اسرائیلی سیاست میں ایران کے خلاف فوجی کارروائی کا معاملہ قومی سلامتی اور انتخابی ترجیحات سے جڑا ہوا ہے۔ اسی لیے کسی ممکنہ حملے یا فوجی حکمتِ عملی میں تبدیلی سے متعلق اطلاعات سیاسی بحث پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

نیتن یاہو اور فوجی سربراہ کے درمیان مبینہ اختلاف

اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق فوج کے سربراہ ایال ضمیر نے متعلقہ حکم پر عمل درآمد سے پہلے اس معاملے پر تفصیلی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے سیاسی حکام سے قانونی ضمانتیں حاصل کیں اور متعلقہ دستاویزات پر دستخط کروائے۔

تاہم رپورٹ میں اس حکم کی نوعیت، اس کے ممکنہ اثرات یا اس سے متعلق قانونی خدشات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔ اس وجہ سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مبینہ اختلاف کسی نئی فوجی کارروائی، اس کے طریقۂ کار یا کسی اور سکیورٹی معاملے سے متعلق تھا۔

رپورٹ میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا کہ فوج کے اندر اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ جنگ کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ دعویٰ رپورٹ میں شامل ذرائع سے منسوب ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

انتخابات سے پہلے ایران کا معاملہ اہم کیوں ہے؟

اسرائیل میں انتخابی مہم کے دوران ایران سے متعلق پالیسی ایک اہم موضوع رہی ہے۔ اسرائیلی حکومت ایران کے جوہری پروگرام اور علاقائی سرگرمیوں کو قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھتی ہے، جبکہ نئی فوجی کارروائی کے ممکنہ نتائج بھی سیاسی اور سکیورٹی بحث کا حصہ ہیں۔

ایران کے خلاف کسی نئے حملے کا فیصلہ صرف فوجی کارروائی تک محدود نہیں رہتا، بلکہ اس کے علاقائی سلامتی، سفارتی تعلقات اور ممکنہ جوابی کارروائیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے ایسے فیصلوں میں سیاسی قیادت اور فوجی اداروں کے درمیان رابطے اور قانونی تقاضوں کی اہمیت ہوتی ہے۔

تاہم موجودہ معاملے میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کے منصوبے کی واضح تردید کی ہے۔ اس بیان کے باوجود، رپورٹ میں ذکر کردہ مبینہ حکم کی تفصیلات سامنے نہ آنے کے باعث اس تنازع کے تمام پہلوؤں کا تعین ممکن نہیں۔

سیاسی اور فوجی قیادت کے بیانات پر توجہ

اسرائیل کاٹز کے بیان اور نیتن یاہو کی سابقہ تردید کے بعد اس معاملے میں حکومت کا مؤقف واضح ہے کہ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں تھا اور اختلافات سے متعلق خبریں بے بنیاد ہیں۔ دوسری جانب چینل 12 کی رپورٹ میں نامعلوم ذرائع کے حوالے سے فوجی اور سیاسی قیادت کے درمیان مبینہ اختلاف کا ذکر کیا گیا تھا۔

اس صورتِ حال میں اہم سوال یہ ہے کہ آیا اسرائیلی حکام اس مبینہ حکم کی مزید تفصیلات جاری کرتے ہیں یا نہیں۔ فی الحال کسی نئی فوجی کارروائی کی منظوری یا انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کے کسی طے شدہ منصوبے کی تصدیق فراہم کردہ معلومات میں موجود نہیں۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز اور وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران پر انتخابات سے قبل حملے کے منصوبے اور فوجی قیادت سے اختلافات کی اطلاعات کو مسترد کیا ہے۔ اختلافات سے متعلق دعویٰ اسرائیلی ٹی وی چینل 12 نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا، جبکہ مبینہ حکم کی مکمل تفصیلات اور اس کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں موجود نہیں۔

ماخذ: اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز کا بیان، وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا ٹی وی انٹرویو، اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ