Latest news

جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ میں پاکستان، افغان فورسز کے درمیان جھڑپیں، شہری جاں بحق، متعدد زخمی

Spread the love

منصور احمد,October28,2026

انگور اڈہ (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

جنوبی وزیرستان لوئر کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں پاکستان اور افغانستان کی فورسز کے درمیان فائرنگ اور گولہ باری کے تبادلے میں ایک شہری جاں بحق اور متعدد افراد زخمی ہو گئے، جبکہ سرحدی آبادی میں مکانات، دکانوں اور دیگر املاک کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی حکام، پولیس اہلکاروں اور رہائشیوں کے بیانات کے مطابق 27 اکتوبر کی شب سرحدی علاقے میں کشیدگی کے دوران شہری آبادی بھی متاثر ہوئی۔ واقعے کے بعد زخمیوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا، جبکہ مقامی جرگے نے دونوں جانب فائرنگ روکنے کی اپیل کی۔

جنوبی وزیرستان لوئر کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے انگور اڈہ بازار اور سرحدی علاقے میں واقع شہری گھروں پر فائرنگ اور گولہ باری کی گئی۔ ان کے بیان کے مطابق ایک مارٹر گولہ رہائشی مکان پر گرنے سے ایک شہری کی موت واقع ہوئی اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ گولہ باری کے نتیجے میں بازار کی دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔

ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ سرحد پر تعینات پاکستانی فورسز نے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے واقعے کا جواب دیا۔ دوسری جانب، جنوبی وزیرستان لوئر میں تعینات ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ افغان جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کی گئی اور گولے شہری علاقوں میں بھی گرے۔ ان کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز نے جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی متعدد چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

رہائشی مکان اور بازار متاثر

انگور اڈہ کے ایک مقامی رہائشی کے مطابق منگل کی دوپہر اچانک شدید گولہ باری شروع ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک گولہ رہائشی مکان پر گرا جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوئے۔ مقامی افراد کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ فائرنگ اور گولہ باری کے دوران سرحدی آبادی میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہریوں کو اپنی جان و مال کے تحفظ کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

انگور اڈہ کے قومی جرگے کے رکن مولانا تسبیح اللہ نے بتایا کہ سرحد پر پہلے سے کشیدگی موجود تھی، تاہم واقعے کے روز اچانک فائرنگ اور گولہ باری میں شدت آ گئی۔ ان کے مطابق متعدد گولے شہری آبادی میں گرے اور ایک مکان کو براہِ راست نشانہ بننے سے جانی نقصان ہوا۔

مولانا تسبیح اللہ کے مطابق لکڑیوں کے ایک ٹال پر بھی گولہ گرا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ آگ قریبی دکانوں تک پھیل گئی اور کاروباری املاک کو مالی نقصان پہنچا۔ مقامی سطح پر ہونے والے اس نقصان سے بازار کے تاجروں اور رہائشیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پاکستانی فورسز کی جوابی کارروائی کا دعویٰ

سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغانستان کی سرحدی چوکیوں سے پاکستانی سرحدی پوسٹوں پر سنائپر رائفلوں سمیت چھوٹے اور بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ کی گئی۔ بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی فورسز نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے افغان طالبان کی متعدد سرحدی پوسٹوں، مارٹر پوزیشنز اور دفاعی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔

یہ تفصیلات پاکستانی سکیورٹی ذرائع کے بیان پر مبنی ہیں۔ افغان طالبان کی جانب سے واقعے کے بارے میں مکمل اور تفصیلی مؤقف سامنے آنے کے بعد ہی دونوں جانب کے دعوؤں کا تقابلی جائزہ ممکن ہوگا۔

افغانستان میں طالبان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر وزارتِ دفاع کے ترجمان ہی باضابطہ مؤقف دے سکتے ہیں۔ فراہم کردہ معلومات میں افغان وزارتِ دفاع کا تفصیلی ردِعمل شامل نہیں، اس لیے جھڑپوں کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ تصدیق تاحال ممکن نہیں۔

مقامی جرگے کی فائرنگ روکنے کی اپیل

مقامی ذرائع کے مطابق بدھ کی صبح سرحدی علاقے میں صورتِ حال نسبتاً پُرسکون رہی۔ مولانا تسبیح اللہ نے بتایا کہ مقامی جرگے نے دونوں ممالک کی فورسز سے فائرنگ روکنے کی اپیل کی تھی تاکہ زخمیوں کو محفوظ طریقے سے ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔ ان کے مطابق صبح کے وقت علاقے میں فائرنگ کی آوازیں سنائی نہیں دے رہی تھیں۔

سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور گولہ باری کے واقعات کے دوران شہریوں کے تحفظ، زخمیوں تک بروقت طبی امداد پہنچانے اور متاثرہ خاندانوں کو محفوظ مقامات تک رسائی دینے کے اقدامات اہم ہو جاتے ہیں۔ انگور اڈہ میں ہونے والے واقعے کے بعد بھی مقامی آبادی کے لیے فوری طور پر امن برقرار رکھنا اور مزید جانی نقصان سے بچاؤ بنیادی ضرورت ہے۔

پاکستان، افغانستان سرحد پر کشیدگی

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی گزشتہ دو برس سے وقفے وقفے سے جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ اکتوبر 2025 میں سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد مختلف مقامات پر فائرنگ اور جھڑپوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام، سکیورٹی خدشات اور مسلح واقعات سے متعلق اختلافات نے سرحدی علاقوں کی صورتِ حال کو حساس بنا رکھا ہے۔

انگور اڈہ کا تازہ واقعہ اس کشیدگی کے شہری آبادی پر پڑنے والے اثرات کو نمایاں کرتا ہے۔ رہائشی مکانات اور کاروباری مراکز کو نقصان پہنچنے سے مقامی لوگوں کی سلامتی اور روزگار دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔ صورتِ حال معمول پر لانے کے لیے فائرنگ کا مستقل خاتمہ، زخمیوں کو طبی امداد اور متاثرہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:

واقعے میں جانی نقصان، املاک کو پہنچنے والے نقصان اور جوابی کارروائی سے متعلق تفصیلات مقامی حکام، سکیورٹی ذرائع اور رہائشیوں کے بیانات پر مبنی ہیں۔ افغان حکام کا تفصیلی مؤقف اور تمام دعوؤں کی آزادانہ تصدیق دستیاب معلومات میں شامل نہیں، اس لیے ذمہ داری سے متعلق حتمی نتیجہ اخذ کرنے میں احتیاط ضروری ہے۔

ماخذ: ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان لوئر، مقامی پولیس ذرائع، پاکستانی سکیورٹی ذرائع،