Latest news

نوشکی کے گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ، تین طالبات زخمی، دو کو کوئٹہ منتقل کر دیا گیا

Spread the love

منصور احمد,October28,2026

نوشکی (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

بلوچستان کے ضلع نوشکی میں گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ کے واقعے کے نتیجے میں تین طالبات زخمی ہو گئیں، جن میں سے دو کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق واقعے کے بعد زخمی طالبات کو فوری طور پر ٹیچنگ ہسپتال نوشکی پہنچایا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی گئی۔ بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے 24 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور رخشان ڈویژن کے تعلیمی اداروں، بالخصوص گرلز کالجوں کی سکیورٹی مزید سخت کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ایک سینئر سرکاری اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تین نقاب پوش مسلح افراد کالج میں داخل ہوئے اور پرنسپل کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔ اہلکار کے مطابق اس وقت کالج کی پرنسپل اپنے دفتر میں موجود نہیں تھیں۔ ان کے بیان کے مطابق مسلح افراد واپسی کے وقت فائرنگ کرتے ہوئے وہاں سے فرار ہو گئے۔

ابتدائی معلومات کے مطابق فائرنگ کے دوران بعض گولیاں عمارت کی چھت سے ٹکرانے کے بعد طالبات کو لگیں، جس سے تین طالبات زخمی ہوئیں۔ تاہم واقعے کے محرکات اور مسلح افراد کے کالج آنے کے مقصد کے بارے میں حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔

دو طالبات کو مزید علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا

ٹیچنگ ہسپتال نوشکی کے ایک اہلکار کے مطابق فائرنگ کے بعد تینوں زخمی طالبات کو ہسپتال لایا گیا۔ ان کے بیان کے مطابق دو طالبات کو گولیاں لگی تھیں، جبکہ تیسری طالبہ معمولی زخمی ہوئی اور اسے خراشیں آئیں۔

ہسپتال میں ابتدائی طبی امداد فراہم کیے جانے کے بعد دو طالبات کو بہتر علاج کے لیے کوئٹہ منتقل کر دیا گیا۔ زخمیوں کی صحت سے متعلق مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ واقعے کے بعد طالبات، والدین اور تعلیمی حلقوں میں تشویش پیدا ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ تعلیمی اداروں میں اس نوعیت کا واقعہ طلبہ و طالبات کے تحفظ کے حوالے سے اہم سوالات اٹھاتا ہے۔

مسلح افراد کی آمد اور فائرنگ کی تحقیقات متوقع

سرکاری اہلکار کے بیان کے مطابق مسلح افراد نے کالج میں داخل ہو کر پرنسپل کے بارے میں پوچھا، تاہم ان کے وہاں موجود نہ ہونے کے بعد واپسی پر فائرنگ کی۔ دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں ہو سکا کہ مسلح افراد کا اصل ہدف کون تھا یا وہ کس مقصد کے تحت کالج میں داخل ہوئے تھے۔

واقعے کی مکمل وجوہات جاننے کے لیے ضروری ہوگا کہ متعلقہ حکام کالج میں داخل ہونے والے افراد کی شناخت، فائرنگ کے حالات اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیں۔ اس مرحلے پر کسی مخصوص گروہ یا فرد کو واقعے کا ذمہ دار قرار دینے کے لیے کافی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

وزیر داخلہ کا نوٹس، 24 گھنٹوں میں رپورٹ طلب

بلوچستان کے وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو 24 گھنٹوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے رخشان ڈویژن میں تمام تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سخت کرنے پر زور دیا، بالخصوص گرلز کالجوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کی ہدایت کی۔

اس ہدایت کے بعد متعلقہ انتظامی اور سکیورٹی حکام کی ذمہ داری ہوگی کہ تعلیمی اداروں میں داخلے کے نظام، نگرانی اور ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کے انتظامات کا جائزہ لیں۔ طالبات اور تدریسی عملے کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے مقامی انتظامیہ، پولیس اور تعلیمی اداروں کے درمیان رابطہ بھی اہم ہوگا۔

تعلیمی اداروں کی حفاظت اہم مسئلہ

نوشکی کا واقعہ بلوچستان میں تعلیمی اداروں کی سکیورٹی سے متعلق خدشات کو اجاگر کرتا ہے۔ گرلز کالجوں میں طالبات کو محفوظ ماحول فراہم کرنا تعلیمی سرگرمیوں کے تسلسل کے لیے ضروری ہے۔ کسی بھی ایسے واقعے کے بعد متاثرہ طالبات کو طبی اور نفسیاتی معاونت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینا بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اب توجہ متعلقہ حکام کی تحقیقات، زخمی طالبات کی صحت اور وزیر داخلہ کی ہدایات پر عمل درآمد پر مرکوز رہے گی۔ تفصیلی رپورٹ سامنے آنے کے بعد ہی واقعے کے محرکات اور سکیورٹی میں ممکنہ خامیوں کے بارے میں مزید واضح صورتِ حال سامنے آ سکے گی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: واقعے کی تفصیلات سرکاری اہلکار اور ہسپتال کے عملے سے منسوب بیانات پر مبنی ہیں۔ مسلح افراد کی شناخت، فائرنگ کے محرکات اور واقعے کی مکمل وجوہات کی سرکاری تحقیقات کے نتائج سامنے آنا باقی ہیں۔

ماخذ: ضلعی حکام نوشکی، ٹیچنگ ہسپتال نوشکی، وزیر داخلہ بلوچستان کا بیان، فراہم کردہ معلومات