بلوچستان میں ‘فتنة الہندوستان’ (بی ایل ایف) کی سفاکیت؛ آوران سے حاملہ خاتون روبینہ کے اغوا، زیادتی اور قتل کا لرزہ خیز واقعہ

کاشف عباسی , JULY 27,026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 27 جولائی 2026ء

کالعدم دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے درندوں نے سفاکیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ضلع آوران سے بلوچستان کی بیٹی اور حاملہ خاتون روبینہ کو اغوا کے بعد شدید جنسی زیادتی اور بدترین تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق مقتولہ روبینہ کی مسخ شدہ لاش 25 جولائی کو آوران کے علاقے کبری کور نالہ سے برآمد ہوئی، جسے اکبر ولد غنی اور بی ایل ایف کے مسلح دہشت گردوں نے 20 اور 21 جولائی کی درمیانی شب اغوا کیا تھا اور چار دن تک محبوس رکھنے کے بعد لاش پھینک کر فرار ہو گئے۔ مقتولہ کے والد نے شدید غم و غصے اور دُہائی دیتے ہوئے کہا کہ نام نہاد حقوق کی جنگ لڑنے والی اس تنظیم نے ان کی معصوم اور حاملہ بیٹی پر یہ ظلم کیوں ڈھایا۔ سیاسی و سماجی ماہرین اور عام شہریوں کا کہنا ہے کہ حقوق کے ڈرامے رچانے والے یہ عناصر حقیقت میں بلوچ عوام اور وہاں کی خواتین کے کھلے دشمن ہیں جن کا بلوچ روایت، غیرت اور انسانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانے والے یہ درندے اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔