Latest news

اسرائیلی انتخابات: 66.3 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل، نیتن یاہو اور اپوزیشن اکثریت سے دور

Spread the love

محمود احمد, October28,2026

تل ابیب (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء

اسرائیل میں عام انتخابات کے 66.3 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہونے کے بعد بھی کسی سیاسی اتحاد کو پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی واضح اکثریت حاصل نہیں ہو سکی۔ جزوی نتائج کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود 27 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی واحد جماعت بن کر سامنے آئی ہے، تاہم ان کے دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کو مجموعی طور پر 54 نشستیں ملتی دکھائی دے رہی ہیں، جو مطلوبہ اکثریت سے سات نشستیں کم ہیں۔

دوسری جانب سابق آرمی چیف گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت یاشر 21 نشستوں کے ساتھ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے۔ نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے اتحاد کو مجموعی طور پر 48 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق دونوں بڑے سیاسی بلاکس کو حکومت بنانے کے لیے مزید پارلیمانی حمایت درکار ہوگی، جس سے آئندہ دنوں میں اتحادی مذاکرات کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔

لیکود سب سے بڑی جماعت، مگر حکومت سازی مشکل

جزوی نتائج میں لیکود کی 27 نشستیں اسے کنیسٹ میں سب سے بڑی واحد جماعت کی پوزیشن پر رکھتی ہیں۔ تاہم اسرائیل کے پارلیمانی نظام میں سب سے بڑی جماعت بننا حکومت بنانے کی ضمانت نہیں ہے۔ حکومت تشکیل دینے کے لیے سیاسی جماعتوں کو دیگر ارکان اور جماعتوں کی حمایت حاصل کرکے اکثریت قائم کرنا ہوتی ہے۔

نیتن یاہو کے حمایت یافتہ دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد کو 54 نشستیں ملنے کا تخمینہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسے حکومت بنانے کے لیے مزید سات نشستوں کی حمایت درکار ہو سکتی ہے۔ اس مرحلے پر چھوٹی جماعتوں کے فیصلے، ممکنہ اتحادی معاہدے اور سیاسی مطالبات حکومت سازی کے عمل پر اثر انداز ہوں گے۔

نیتن یاہو کے لیے ایک بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ اپنے موجودہ اتحادیوں کو ساتھ رکھتے ہوئے مزید حمایت حاصل کریں۔ اگر ممکنہ اتحادیوں کے درمیان وزارتوں کی تقسیم یا حکومتی پالیسیوں پر اختلافات پیدا ہوئے تو مذاکرات طویل ہو سکتے ہیں۔

یاشر اور اپوزیشن اتحاد کے لیے بھی اکثریت کا مسئلہ

گاڈی آئزنکوٹ کی جماعت یاشر کو 21 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جس سے وہ اپوزیشن کی سب سے بڑی واحد جماعت بن کر ابھری ہے۔ تاہم نیتن یاہو مخالف جماعتوں کے مجموعی طور پر 48 نشستوں پر آگے ہونے کے باوجود انہیں بھی حکومت بنانے کے لیے مزید حمایت درکار ہوگی۔

آئزنکوٹ اور ان کے سیاسی اتحادیوں کے لیے اصل امتحان مختلف جماعتوں کو مشترکہ حکومتی پروگرام پر متفق کرنا ہوگا۔ اپوزیشن اتحاد کو نہ صرف مطلوبہ نشستیں جمع کرنا ہوں گی بلکہ حکومتی ترجیحات، وزارتوں کی تقسیم اور اہم قومی معاملات پر بھی اتفاقِ رائے پیدا کرنا ہوگا۔

اگر اپوزیشن کو دوسری جماعتوں کی حمایت حاصل ہو جاتی ہے تو وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ سکتی ہے۔ تاہم صرف نشستوں میں برتری حاصل ہونا کافی نہیں، کیونکہ حکومت سازی کے لیے کنیسٹ میں مؤثر پارلیمانی حمایت ضروری ہے۔

عرب جماعتیں بن سکتی ہیں کنگ میکر

جزوی نتائج میں عرب جماعتوں کی کارکردگی بھی نمایاں ہے۔ جوائنٹ لسٹ کو 12 جبکہ یونائیٹڈ عرب لسٹ کو چھ نشستوں پر آگے بتایا گیا ہے۔ اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو عرب جماعتوں کی مجموعی نمائندگی 18 نشستوں تک پہنچ سکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق عرب جماعتیں حکومت سازی کے عمل میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں، کیونکہ دونوں بڑے سیاسی بلاکس اپنے طور پر اکثریت حاصل کرتے دکھائی نہیں دے رہے۔ ایسی صورت میں ان جماعتوں کی حمایت کسی اتحاد کو مطلوبہ اکثریت کے قریب پہنچانے میں اہم ہو سکتی ہے۔

تاہم یہ ضروری نہیں کہ عرب جماعتیں کسی ایک سیاسی بلاک کی حمایت کریں۔ ان کے فیصلوں کا انحصار سیاسی مذاکرات، ممکنہ شرائط اور متعلقہ جماعتوں کے اپنے مؤقف پر ہوگا۔ اسی طرح کسی جماعت کی پارلیمانی حمایت کو کابینہ میں شمولیت کے برابر بھی نہیں سمجھنا چاہیے۔

ریکارڈ ٹرن آؤٹ کے بعد حتمی نتائج کا انتظار

انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 77 فیصد سے تجاوز کر گیا ہے، جسے حالیہ برسوں کے مقابلے میں غیر معمولی طور پر بلند شرح قرار دیا جا رہا ہے۔ ووٹرز کی بڑی تعداد میں شرکت کے باوجود حکومت سازی کا معاملہ ابھی غیر یقینی ہے، کیونکہ حتمی نتیجہ جماعتوں کی نشستوں اور ان کے درمیان ممکنہ اتحاد پر منحصر ہوگا۔

ووٹوں کی مکمل گنتی کے بعد اسرائیلی صدر مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کریں گے اور اس رہنما کو حکومت بنانے کی دعوت دیں گے جس کے بارے میں انہیں یقین ہو کہ وہ پارلیمانی اکثریت حاصل کر سکتا ہے۔ اس عمل میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ اگر کوئی رہنما مقررہ آئینی طریقۂ کار کے تحت حکومت بنانے میں ناکام رہتا ہے تو دوسرے امیدوار کو موقع دیا جا سکتا ہے، جبکہ مسلسل ناکامی کی صورت میں نئے انتخابات کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

اس وقت انتخابی صورتِ حال کا مرکزی سوال یہ ہے کہ آیا نیتن یاہو اپنے دائیں بازو کے اتحاد کے لیے مزید حمایت حاصل کر پائیں گے یا آئزنکوٹ کی قیادت میں اپوزیشن مختلف جماعتوں کو ساتھ ملا کر نئی حکومت تشکیل دینے میں کامیاب ہوگی۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر فراہم کردہ جزوی انتخابی نتائج پر مبنی ہے۔ 66.3 فیصد ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آنے والی نشستوں کی تعداد حتمی نہیں، اس لیے سیاسی اتحادوں کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ مکمل سرکاری نتائج اور حکومت سازی کے مذاکرات کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔

ماخذ: فراہم کردہ جزوی انتخابی نتائج، اسرائیلی انتخابی نظام سے متعلق معلومات