

منصور احمد,October28,2026
پشاور (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء
پشاور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے 9 مئی کو ریڈیو پاکستان کی عمارت پر حملے سے متعلق مقدمے کی سماعت کے دوران سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش اور عرفان سلیم سمیت متعدد ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے ہیں۔ عدالت میں بدھ کو ہونے والی سماعت کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس کا چالان جمع کرایا، جس کے بعد مقدمے کی کارروائی آگے بڑھائی گئی۔
مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ولی محمد نے کی۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق پراسیکیوشن نے عدالت کو بتایا کہ مقدمے میں نامزد افراد کی شناخت اور تصدیق کے لیے پنجاب فرانزک لیبارٹری اور نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی رپورٹس حاصل کی گئی ہیں۔ ان رپورٹس کو مقدمے کے تفتیشی ریکارڈ کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
عدالت کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد متعلقہ حکام کو ملزمان کی گرفتاری کے لیے قانونی کارروائی آگے بڑھانا ہوگی۔ تاہم دستیاب معلومات میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تمام نامزد افراد کی گرفتاری کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے ہیں یا اگلی سماعت کے لیے کوئی مخصوص تاریخ مقرر ہوئی ہے۔
عدالت میں پولیس کا چالان جمع
سماعت کے دوران پبلک پراسیکیوٹر نے پولیس کا چالان عدالت میں پیش کیا۔ فوجداری مقدمات میں چالان کے ذریعے تفتیش کے نتائج، ملزمان کے خلاف جمع کیے گئے شواہد اور استغاثہ کا مؤقف عدالت کے سامنے رکھا جاتا ہے۔ عدالت ان دستاویزات اور دستیاب مواد کا جائزہ لے کر مقدمے کی کارروائی آگے بڑھاتی ہے۔
اس کیس میں پراسیکیوشن کے مطابق پنجاب فرانزک لیبارٹری اور نادرا نے ملزمان کی شناخت اور تصدیق سے متعلق رپورٹس فراہم کی ہیں۔ تاہم فراہم کردہ تفصیلات میں ان رپورٹس کے مکمل مندرجات، ان میں شامل شواہد یا ہر ملزم کے خلاف مخصوص الزام کی الگ الگ وضاحت موجود نہیں۔
سہیل آفریدی اور دیگر نامزد افراد کے وارنٹ
عدالت نے سہیل آفریدی، تیمور سلیم جھگڑا، کامران بنگش اور عرفان سلیم سمیت دیگر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔ ان ناموں کے سامنے آنے کے بعد مقدمے کی آئندہ کارروائی میں ملزمان کی عدالتی حاضری اور قانونی تقاضوں کی تکمیل اہم مرحلہ ہوگی۔
وارنٹ گرفتاری عدالت کی جانب سے جاری کیا جانے والا قانونی حکم ہے، جس کا مقصد متعلقہ شخص کو قانونی کارروائی کے لیے پیش کرنا ہوتا ہے۔ تاہم وارنٹ جاری ہونے کو جرم ثابت ہونے کے مترادف نہیں سمجھا جا سکتا۔ مقدمے میں ہر نامزد شخص کے خلاف الزامات اور شواہد کا جائزہ عدالتی کارروائی کے دوران لیا جاتا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں، لیکن یہ تفصیل فراہم نہیں کی گئی کہ آیا کسی ملزم نے وارنٹ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی ہے یا عدالت میں پیش ہونے سے متعلق کوئی درخواست دائر کی ہے۔
9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمہ
ریڈیو پاکستان کی عمارت پر 9 مئی کے واقعات کے دوران حملے سے متعلق مقدمہ ان قانونی کارروائیوں کا حصہ ہے جو ملک میں مختلف مقامات پر پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد شروع کی گئیں۔ ایسے مقدمات میں تفتیشی اداروں کی جانب سے شواہد جمع کیے جاتے ہیں اور استغاثہ انہیں عدالت کے سامنے پیش کرتا ہے۔
اس مقدمے میں بھی پولیس چالان، فرانزک رپورٹس اور شناخت سے متعلق دستاویزات آئندہ کارروائی میں اہمیت رکھ سکتی ہیں۔ تاہم مقدمے کے تمام پہلوؤں، ملزمان کے انفرادی کردار اور شواہد کی قانونی حیثیت کا تعین عدالت کرے گی۔
اب آئندہ مرحلے میں وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد، ملزمان کی عدالتی حاضری اور مقدمے کی مزید سماعت اہم ہوں گے۔ متعلقہ حکام کی جانب سے مزید تفصیلات سامنے آنے پر مقدمے کی پیش رفت کے بارے میں زیادہ واضح صورتِ حال معلوم ہو سکے گی۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: یہ خبر فراہم کردہ عدالتی کارروائی کی معلومات پر مبنی ہے۔ وارنٹ گرفتاری جاری ہونا کسی ملزم کے جرم ثابت ہونے کا اعلان نہیں؛ تمام نامزد افراد کے خلاف الزامات اور شواہد کا حتمی تعین عدالتی عمل کے ذریعے ہوگا۔
ماخذ: انسدادِ دہشت گردی عدالت پشاور سے متعلق فراہم کردہ معلومات، پراسیکیوشن کا بیان