

محمود احمد, October28,2026
عدن (نیوز اینڈ نیوز) — 28 اکتوبر 2026ء
یمن کے حوثی جنگجوؤں نے جنوبی شہر عدن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر موجود افراد سے فوری طور پر انخلا کی اپیل کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ وہاں سعودی عرب کا ایک فوجی مال بردار طیارہ موجود ہے، جو ان کے بقول یمنی عوام کے خلاف استعمال ہونے والے ہتھیار لے کر آیا ہے۔ اس انتباہ کے بعد خبر رساں اداروں روئٹرز اور اے ایف پی نے ہوائی اڈے پر میزائل حملے کی اطلاعات بھی دی ہیں، جس سے علاقے میں سکیورٹی صورتِ حال کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
حوثی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ان کی مسلح افواج عدن ایئرپورٹ پر موجود تمام افراد سے مطالبہ کرتی ہیں کہ وہ فوری طور پر ہوائی اڈہ خالی کر دیں۔ ان کے دعوے کے مطابق وہاں سعودی عرب کا ایک فوجی کارگو طیارہ موجود ہے، جو یمنی عوام کے خلاف استعمال کے لیے ہتھیار منتقل کر رہا ہے۔
تاحال فراہم کردہ معلومات میں سعودی طیارے کی موجودگی، اس کے سامان یا حوثیوں کی جانب سے بیان کردہ مقصد کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔ اسی طرح میزائل حملوں کی اطلاعات کے نتیجے میں ہونے والے ممکنہ جانی یا مالی نقصان کی تفصیلات بھی واضح نہیں ہوئیں۔
حوثی ترجمان کا انتباہ
یحییٰ سریع کے بیان میں ہوائی اڈے پر موجود افراد کو فوری طور پر وہاں سے نکلنے کی ہدایت کی گئی۔ اس نوعیت کے انتباہات عام طور پر کسی ممکنہ حملے کے خدشے یا عسکری کارروائی سے پہلے جاری کیے جاتے ہیں، تاہم اس بیان سے خودبخود یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حملہ کس نے کیا یا اس کا ہدف کیا تھا۔
عدن ایئرپورٹ ایک اہم شہری ہوائی اڈہ ہے، جہاں مسافروں، ہوائی اڈے کے عملے اور دیگر شہریوں کی موجودگی ممکن ہوتی ہے۔ اس لیے کسی بھی ممکنہ حملے یا فوجی کارروائی کی صورت میں شہریوں کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ہوائی اڈے کی بندش یا پروازوں کی معطلی سے مسافروں اور امدادی سرگرمیوں کو بھی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
میزائل حملوں کی اطلاعات
حوثی انتباہ کے بعد روئٹرز اور اے ایف پی نے عدن ایئرپورٹ پر میزائل حملے کی اطلاعات دی ہیں۔ تاہم فراہم کردہ معلومات میں حملے کے وقت، اس کی نوعیت، نقصان کی سطح یا ذمہ داری قبول کرنے والے فریق کے بارے میں مکمل تفصیلات موجود نہیں۔
اس لیے یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ میزائل حملے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے یا آیا اس کا تعلق حوثیوں کے بیان میں ذکر کیے گئے طیارے سے تھا۔ واقعے کی مکمل صورتِ حال جاننے کے لیے متعلقہ حکام اور آزاد ذرائع سے مزید تصدیق درکار ہے۔
عدن یمنی حکومت کا اہم مرکز
عدن جنوبی یمن کا اہم شہر اور سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کا مرکز ہے۔ 2014 میں ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے دارالحکومت صنعا پر قبضے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت نے عدن کو اپنے اہم مراکز میں شامل کیا۔
یمن میں جاری تنازع کے دوران مختلف علاقوں پر کنٹرول اور علاقائی حمایت کے معاملات نے ملک کی سیاسی و عسکری صورتِ حال کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔ سعودی عرب یمنی حکومت کی حمایت کرتا رہا ہے، جبکہ حوثی تحریک ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتی ہے۔ اس کشمکش کے باعث اہم شہروں، ہوائی اڈوں اور دیگر بنیادی تنصیبات کی سکیورٹی مسلسل اہم مسئلہ رہی ہے۔
عدن ایئرپورٹ سے متعلق تازہ انتباہ ایسے ماحول میں سامنے آیا ہے جب کسی بھی عسکری کارروائی کے اثرات شہری آبادی اور نقل و حمل کے نظام پر پڑ سکتے ہیں۔ اگر ہوائی اڈے کی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں تو مسافروں کی آمدورفت اور متعلقہ فضائی رابطوں میں بھی خلل پڑنے کا امکان ہے۔
شہریوں کے تحفظ اور صورتِ حال کی تصدیق اہم
موجودہ اطلاعات کے بعد سب سے اہم معاملہ ہوائی اڈے پر موجود افراد کی حفاظت اور کسی ممکنہ حملے سے متعلق مصدقہ معلومات کا حصول ہے۔ شہری ہوائی اڈوں کے قریب کسی بھی عسکری کارروائی سے مسافروں، ملازمین اور دیگر شہریوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
تاحال دستیاب معلومات سے یہ واضح نہیں کہ انتباہ کے بعد ہوائی اڈے کو مکمل طور پر خالی کرایا گیا یا پروازوں کے بارے میں کوئی باضابطہ فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح سعودی عرب کی جانب سے بیان کردہ طیارے اور اس کے مبینہ سامان کے بارے میں بھی کوئی تصدیق شدہ تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
آئندہ پیش رفت کا انحصار یمنی حکام، سعودی حکام اور دیگر متعلقہ فریقوں کے بیانات پر ہوگا۔ جب تک مزید قابلِ اعتماد معلومات سامنے نہیں آتیں، حملے کی ذمہ داری، طیارے کے مقصد اور ممکنہ نقصانات کے بارے میں حتمی نتیجہ اخذ کرنے سے گریز ضروری ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: سعودی فوجی کارگو طیارے اور ہتھیاروں سے متعلق دعویٰ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع سے منسوب ہے۔ میزائل حملوں کی اطلاعات کی مزید تفصیلات، نقصان اور ذمہ داری کے بارے میں فراہم کردہ معلومات میں آزادانہ تصدیق شامل نہیں۔
ماخذ: حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کا بیان، روئٹرز، اے ایف پی، فراہم کردہ معلومات