

محمود احمد, October30,2026
مسقط (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اکتوبر 2026ء
عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے بتایا ہے کہ عمانی بحریہ نے مسندم کے ساحل کے قریب حملے کا نشانہ بننے والے ایک تجارتی جہاز سے 25 اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ جہاز پر حملے کے بعد آگ لگ گئی تھی، جس کے باعث عملے کو فوری طور پر محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کارروائی کی گئی۔
عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے مطابق واقعہ عمان کے علاقے مسندم کے ساحل سے تقریباً 1.6 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا۔ متاثرہ جہاز پانامہ کے پرچم تلے سفر کر رہا تھا اور اسے نامعلوم حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔
مرکز نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ عمانی بحریہ نے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے جہاز کے تمام 25 اہلکاروں کو محفوظ طریقے سے نکالا۔ امدادی کارروائی کے بعد عملے کو ضروری طبی سہولیات بھی فراہم کی گئیں۔
حملے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی
ابتدائی معلومات کے مطابق تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد اس پر آگ لگ گئی۔ تاہم عمانی حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ حملے میں کس نوعیت کا ہتھیار استعمال کیا گیا یا جہاز کو کس جانب سے نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا کہ آگ سے جہاز کے کن حصوں کو نقصان پہنچا اور آیا جہاز کو سمندر میں مزید خطرات کا سامنا ہے یا نہیں۔ عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے جہاز کی موجودہ حالت اور اسے محفوظ مقام تک پہنچانے کے انتظامات کے بارے میں بھی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
عمانی بحریہ کی امدادی کارروائی
عمانی بحریہ نے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے عملے کے انخلا کی کارروائی مکمل کی۔ حکام کے مطابق تمام 25 اہلکاروں کو محفوظ نکال لیا گیا اور انہیں ضروری طبی سہولیات فراہم کی گئیں۔
عملے کے تمام ارکان کے محفوظ انخلا کی اطلاع اس واقعے میں اہم پیش رفت ہے، کیونکہ سمندر میں کسی تجارتی جہاز پر حملے کے بعد آگ لگنے کی صورت میں عملے کی جان کو فوری خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ ایسے حالات میں بروقت امدادی کارروائی اور جہاز سے محفوظ انخلا انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔
خلیجی سمندری راستوں کی سلامتی پر تشویش
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب خلیج عمان اور آبنائے ہرمز کے اطراف تجارتی جہازوں کی آمد و رفت اور سمندری سلامتی کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ یہ خطہ عالمی توانائی اور بین الاقوامی تجارت کے لیے اہم بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے۔
مسندم کا علاقہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہونے کے باعث بحری نقل و حرکت کے حوالے سے اہم جغرافیائی حیثیت رکھتا ہے۔ اس علاقے میں تجارتی جہازوں کو پیش آنے والے حملوں یا سکیورٹی واقعات سے جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں اور بین الاقوامی تجارت سے وابستہ اداروں کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔
تاہم موجودہ واقعے کے عالمی جہاز رانی یا تیل کی ترسیل پر کسی ممکنہ اثر کے بارے میں ابھی کوئی باضابطہ معلومات سامنے نہیں آئیں۔
حملے کی ذمہ داری اور نوعیت تاحال غیر واضح
عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے اپنے بیان میں حملے کی ذمہ داری کسی ملک، تنظیم یا گروہ پر عائد نہیں کی۔ حکام نے یہ بھی نہیں بتایا کہ آیا واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں یا حملے کے محرکات جاننے کے لیے کسی دوسرے ادارے سے تعاون حاصل کیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق واقعہ مسندم کے ساحل کے قریب پیش آیا، تاہم حملے کی مکمل تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔
فی الحال اس واقعے میں سب سے اہم پیش رفت یہ ہے کہ جہاز پر موجود تمام 25 اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔ جہاز کو پہنچنے والے نقصان، آگ کی شدت اور حملے کے ذمہ داروں کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: عمانی حکام نے عملے کے بحفاظت انخلا اور طبی سہولیات کی فراہمی کی تصدیق کی ہے، لیکن حملے کی نوعیت اور ذمہ داروں کے بارے میں کوئی حتمی مؤقف جاری نہیں کیا۔ اس لیے واقعے کو کسی مخصوص ملک یا گروہ کی کارروائی قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔
ماخذ: عمان میری ٹائم سکیورٹی سینٹر، عمانی بحریہ، روئٹرز