

روزینہ اسماعیل,October30,2026
سیول (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اکتوبر 2026ء
جرمن چانسلر فریڈرک مرٹز نے ایران کے خلاف ممکنہ نئے امریکی حملوں سے متعلق قیاس آرائیوں کے درمیان تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی راستہ اختیار کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں اور اسے ختم کرنے کے لیے مذاکرات اور سفارتی کوششوں کو ترجیح دینی چاہیے۔
جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق فریڈرک مرٹز نے جمعہ کے روز جنوبی کوریا کا دورہ مکمل کرنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام فریقوں سے درخواست کرتے ہیں کہ اس حقیقت کو تسلیم کریں کہ تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔
جرمن چانسلر نے کہا، ’’میں صرف تمام فریقوں سے یہ درخواست کر سکتا ہوں کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔‘‘
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے دوران ممکنہ نئے امریکی حملوں کے بارے میں خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ خطے میں جنگ کے پھیلاؤ اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات کے پیش نظر مختلف ممالک کی جانب سے سفارتی کوششوں پر زور دیا جا رہا ہے۔
جرمنی کی سفارتی کوششوں میں اضافہ
فریڈرک مرٹز کے مطابق جرمنی جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے مختلف ذرائع کے ذریعے سفارتی کوششوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برلن اس تنازع کے حل کے لیے سفارتی رابطوں اور متعلقہ فریقوں کے ساتھ بات چیت کو اہمیت دے رہا ہے۔
جرمنی یورپی سیاست اور عالمی سفارت کاری میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس کا مؤقف ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے حوالے سے یورپی پالیسی کی سمت سمجھنے کے لیے بھی اہمیت رکھتا ہے۔
جرمن چانسلر نے اپنے بیان میں کسی مخصوص مذاکراتی منصوبے، ثالثی کے طریقہ کار یا جنگ بندی کے لیے طے شدہ شیڈول کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ تاہم ان کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ جرمنی اس تنازع کے خاتمے کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی اور سفارتی حل کی حمایت کر رہا ہے۔
توانائی کی قیمتوں سے یورپ کو بھاری نقصان
جرمن چانسلر نے جنگ کے خاتمے میں اپنے ملک کی معاشی دلچسپی کا بھی ذکر کیا۔ ان کے مطابق خطے میں جاری تنازع اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث یورپ کو پہلے ہی 100 ارب یورو سے زیادہ کا نقصان پہنچ چکا ہے۔
توانائی کی قیمتوں میں اضافہ یورپی معیشت کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتا ہے، کیونکہ صنعتوں، بجلی کی پیداوار، ٹرانسپورٹ اور گھریلو صارفین کے اخراجات بڑی حد تک توانائی کی دستیابی اور قیمتوں سے متاثر ہوتے ہیں۔
یورپی ممالک اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے مختلف ذرائع اور بین الاقوامی منڈیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ یا سمندری راستوں میں رکاوٹ پیدا ہونے سے تیل اور گیس کی عالمی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ کا خدشہ رہتا ہے۔
مرٹز نے اس تناظر میں جنگ کے جلد خاتمے کو جرمنی اور یورپ کے معاشی مفادات سے بھی جوڑا۔ ان کے مطابق تنازع جتنا طویل ہوگا، اس کے معاشی اثرات سے نمٹنا اتنا ہی مشکل ہو سکتا ہے۔
ممکنہ امریکی حملوں کے تناظر میں بیان
جرمن چانسلر کا یہ بیان ایسے مرحلے پر سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے امکانات پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔ تاہم مرٹز نے اپنے بیان میں کسی ممکنہ امریکی حملے کی تصدیق نہیں کی اور نہ ہی اس بارے میں کوئی حتمی پیش گوئی کی۔
ان کا بنیادی پیغام یہ تھا کہ تمام فریق فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات کو موقع دیں اور ایسا راستہ تلاش کریں جس سے جنگ ختم ہو اور خطے میں استحکام بحال کیا جا سکے۔
موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششوں کی کامیابی کا انحصار امریکہ اور ایران کے مؤقف میں ممکنہ لچک، باہمی اعتماد اور تنازع کے بنیادی اختلافات پر اتفاقِ رائے پیدا کرنے پر ہوگا۔ تاحال جرمن چانسلر کے بیان کے بعد کسی نئے معاہدے یا جنگ بندی کا اعلان سامنے نہیں آیا۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
فریڈرک مرٹز نے جنگ کے خاتمے کے لیے سفارت کاری کی حمایت کی ہے اور یورپ کو توانائی کی بڑھتی قیمتوں سے ہونے والے نقصان کا حوالہ دیا ہے۔ ان کا بیان جرمنی کے مؤقف کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس سے امریکہ یا ایران کی جانب سے مذاکرات یا جنگ بندی پر اتفاق کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
ماخذ: جرمن خبر رساں ادارہ ڈی پی اے، جرمن چانسلر فریڈرک مرٹز کا بیان