Latest news

زلفی بخاری کی جنڈ میں 377 کنال زمین 11 نومبر کو نیلامی کے لیے پیش، سابق وزیر کا عمران خان کا ساتھ نہ چھوڑنے کا اعلان

Spread the love

کاشف عباسی ,October30,2026

اسلام آباد (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اکتوبر 2026ء

پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری نے دعویٰ کیا ہے کہ ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ میں واقع ان کی مزید 377 کنال زمین نیلامی کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق جائیداد کی عوامی نیلامی 11 نومبر کو اسسٹنٹ کمشنر جنڈ کے دفتر کی جانب سے جاری کردہ اشتہار کے تحت کی جائے گی۔

زلفی بخاری نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر نیلامی کا اشتہار شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ڈپٹی ڈائریکٹر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکم کے تحت کی جا رہی ہے۔ اشتہار میں ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ میں واقع جائیداد کو عوامی نیلامی کے ذریعے فروخت کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔

سابق وفاقی وزیر نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی جائیدادوں کے خلاف کارروائی کا سلسلہ پہلے بھی جاری رہا ہے اور اب جنڈ میں مزید 377 کنال زرعی اراضی نیلامی کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔

پہلے بھی سینکڑوں کنال زمین نیلام ہونے کا دعویٰ

زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ اس سے قبل ان کی تقریباً 800 کنال زرعی اراضی نیلام کی جا چکی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسلام آباد اور اٹک میں واقع ان کے گھر بھی سیل کیے گئے، جبکہ اٹک میں ان کی زمین کی نیلامی کی کارروائی بھی ہو چکی ہے۔

ان کے مطابق اب تحصیل جنڈ میں مزید 377 کنال زمین نیلامی کے لیے پیش کیے جانے سے ان کے خلاف جائیدادوں سے متعلق کارروائیوں کا دائرہ مزید بڑھ گیا ہے۔

تاہم دستیاب بیان میں سابق وزیر نے پہلے ہونے والی نیلامیوں کی تاریخوں، جائیدادوں کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم یا موجودہ نیلامی کے لیے مقرر کردہ دیگر شرائط کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

عمران خان سے وفاداری ہر قیمت پر برقرار رکھنے کا اعلان

پی ٹی آئی رہنما نے اپنی جائیداد کی نیلامی کے معاملے کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کے ساتھ اپنی سیاسی وابستگی سے جوڑتے ہوئے کہا کہ اگر عمران خان سے وفاداری کی یہی قیمت ہے تو وہ ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے۔

زلفی بخاری نے اپنے پیغام میں مزید کہا کہ کسی شخص کی جائیداد ضبط کی جا سکتی ہے، اس کے روزگار کو خطرے میں ڈالا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ذاتی مشکلات پیدا کی جا سکتی ہیں، لیکن ان کے بقول جبر کے ذریعے کسی سے سیاسی اطاعت حاصل نہیں کی جا سکتی۔

ان کے اس بیان کو پی ٹی آئی کے سیاسی مؤقف اور بانی جماعت عمران خان کے ساتھ وفاداری کے اظہار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ زلفی بخاری نے واضح کیا کہ جائیداد سے متعلق کارروائیوں کے باوجود وہ اپنی سیاسی وابستگی تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

نیلامی کے اشتہار میں 11 نومبر کی تاریخ درج

سوشل میڈیا پر شیئر کیے گئے اشتہار کے مطابق تحصیل جنڈ، ضلع اٹک میں واقع 377 کنال جائیداد کی عوامی نیلامی 11 نومبر کو ہونا ہے۔ اشتہار اسسٹنٹ کمشنر جنڈ کے دفتر سے متعلق ہے اور اس میں نیب کے ڈپٹی ڈائریکٹر کے حکم کا حوالہ دیا گیا ہے۔

اس معاملے میں اہم سوال یہ ہے کہ نیلامی کا عمل مقررہ تاریخ پر کس طرح آگے بڑھتا ہے اور آیا اس سے قبل متعلقہ جائیداد کے حوالے سے کوئی قانونی کارروائی یا اعتراض سامنے آتا ہے یا نہیں۔

تاحال فراہم کردہ معلومات میں نیب کی جانب سے اس مخصوص نیلامی کے پس منظر، قانونی بنیاد اور زلفی بخاری کے دعوؤں پر کوئی تفصیلی مؤقف شامل نہیں ہے۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ سابق وزیر نے اس نیلامی کے خلاف کسی عدالت سے رجوع کیا ہے یا نہیں۔

یہ معاملہ ایک طرف جائیداد کی نیلامی اور احتسابی کارروائی سے متعلق ہے تو دوسری طرف اس پر زلفی بخاری کے سیاسی ردِعمل نے بھی توجہ حاصل کی ہے۔ اب 11 نومبر کی مقررہ تاریخ اہم ہوگی، جب یہ دیکھا جا سکے گا کہ اشتہار کے مطابق نیلامی کا عمل مکمل ہوتا ہے یا اس میں کوئی تبدیلی سامنے آتی ہے۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: 377 کنال زمین کی نیلامی سے متعلق تفصیلات زلفی بخاری کے شیئر کردہ اشتہار اور ان کے بیان پر مبنی ہیں۔ نیلامی کی قانونی بنیاد، نیب کا تفصیلی مؤقف اور سابق وزیر کے ممکنہ قانونی اعتراضات کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے؛ اس لیے ان کے الزامات اور دعوؤں کو ان سے منسوب ہی سمجھا جائے۔

ماخذ: زلفی بخاری کا بیان، ایکس پر شیئر کردہ اسسٹنٹ کمشنر جنڈ کا نیلامی اشتہار