Latest news

ایران کا دعویٰ: آبنائے ہرمز میں تیسرا آئل ٹینکر بھی بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، آگ لگ گئی

Spread the love

محمود احمد, October30,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 30 اکتوبر 2026ء

ایران کے پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے دعویٰ کیا ہے کہ دو ملین بیرل سے زائد تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا، جس کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔ ایرانی حکام کے مطابق جمعہ کے روز پیش آنے والا یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے غیر مجاز قرار دیے گئے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران پیش آیا اور اس نوعیت کا یہ تیسرا آئل ٹینکر ہے جسے حادثے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق متاثرہ سپر ٹینکر آبنائے ہرمز کے دہانے پر تاحال رکا ہوا ہے اور اس میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ایرانی بیان میں کہا گیا ہے کہ جہاز بحری بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے بعد متاثر ہوا، تاہم اس حادثے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

ٹینکر کی شناخت اور عملے کی صورتحال نامعلوم

پاسدارانِ انقلاب نے تاحال متاثرہ ٹینکر کا نام، اس کی رجسٹریشن، ملکیت یا اس پر موجود عملے کے ارکان کی تعداد ظاہر نہیں کی۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ جہاز پر موجود افراد محفوظ ہیں یا انہیں کسی دوسرے جہاز یا مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔

ایرانی بیان میں آگ کی شدت، جہاز کے انجن اور دیگر حصوں کو پہنچنے والے نقصان یا تیل کے سمندر میں رساؤ کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ دو ملین بیرل سے زائد تیل کی گنجائش رکھنے والے سپر ٹینکر کے متاثر ہونے کا دعویٰ درست ثابت ہونے کی صورت میں یہ واقعہ سمندری سلامتی اور تیل کی عالمی ترسیل کے حوالے سے اہم ہو سکتا ہے۔

تاہم پاسدارانِ انقلاب کے اس تازہ دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس سے پہلے دو آئل ٹینکروں کے حادثات کا دعویٰ

اس سے قبل پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی حصوں میں دو دیگر آئل ٹینکروں کے حادثے کا شکار ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ایرانی حکام کے مطابق دونوں جہاز ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے جسے ایران نے غیر مجاز قرار دے رکھا ہے۔

ایرانی بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں ٹینکروں نے اپنے نیویگیشن اور مقام معلوم کرنے والے نظام بند کر رکھے تھے اور وہ امریکی فوج کی حمایت سے آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان جہازوں کو متعدد ریڈیو وارننگز جاری کی گئیں، لیکن انہیں نظر انداز کرنے کے بعد دونوں ٹینکر مبینہ طور پر غیر محفوظ علاقے میں داخل ہوئے جہاں انہیں حادثات پیش آئے۔ ایرانی حکام نے ان جہازوں کے رک جانے اور ان میں آگ لگنے کی ذمہ داری امریکہ اور ایرانی قواعد و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر عائد کی تھی۔

تاہم پہلے دو ٹینکروں کے نام، رجسٹریشن اور عملے کی تفصیلات بھی جاری نہیں کی گئی تھیں۔ ان واقعات کی بھی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت پر خدشات

آبنائے ہرمز خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملانے والی اہم سمندری گزرگاہ ہے۔ عالمی منڈیوں تک خام تیل اور دیگر توانائی مصنوعات پہنچانے کے لیے یہ راستہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

اس علاقے میں بحری بارودی سرنگوں، تجارتی جہازوں کو پیش آنے والے حادثات اور فوجی کشیدگی سے بین الاقوامی جہاز رانی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر تجارتی جہازوں کو اس گزرگاہ سے محفوظ سفر میں مشکلات کا سامنا ہو تو تیل کی ترسیل، انشورنس اخراجات اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

موجودہ صورتحال میں یہ بھی اہم ہے کہ تجارتی جہازوں کو محفوظ راستوں کی نشاندہی، بحری انتباہات اور ممکنہ خطرات سے متعلق قابلِ اعتماد معلومات فراہم کی جائیں۔ تاہم تازہ واقعے کے بعد کسی بین الاقوامی ادارے یا متعلقہ بحری حکام کی جانب سے تفصیلی تصدیق یا ردِعمل کی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

واقعے کی آزادانہ تصدیق کا انتظار

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے تازہ بیان کے مطابق تیسرا ٹینکر بھی آبنائے ہرمز میں متاثر ہوا ہے، لیکن جہاز کی شناخت اور عملے کی سلامتی سے متعلق معلومات نہ ہونے کے باعث واقعے کی مکمل تصویر سامنے نہیں آ سکی۔

ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ متاثرہ جہاز کو آگ بجھانے اور محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے کوئی امدادی کارروائی شروع کی گئی ہے یا نہیں۔ مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی حادثے کی شدت، ممکنہ نقصان اور سمندری تجارت پر اس کے اثرات کا درست اندازہ لگایا جا سکے گا۔

نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت: تیسرے آئل ٹینکر کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے اور آگ لگنے کی خبر فی الحال پاسدارانِ انقلاب کے دعوے پر مبنی ہے۔ ٹینکر کی شناخت، عملے کی صورتحال اور واقعے کی آزادانہ تصدیق سامنے آنے تک اسے مصدقہ بین الاقوامی رپورٹنگ کے بجائے ایرانی حکام سے منسوب دعویٰ سمجھا جائے۔

ماخذ: پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کا شعبۂ تعلقاتِ عامہ، ایرانی حکام کے جاری کردہ بیانات