

محمود احمد june 01,2026
تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء
امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی سرزمین پر موجود اہم فوجی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بعد ایران نے بھی امریکہ کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان اس براہِ راست تصادم کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہو چکی ہے، جبکہ خطے کے متعدد پڑوسی ممالک میں ہائی سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
امریکی حملے اور نشانہ بننے والے اہداف امریکی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، امریکی افواج نے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں گورک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی فوج کے ریڈار سسٹمز، ڈرون کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات پر شدید حملے کیے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ یکطرفہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں امریکی ڈرون کو مار گرانے اور خطے میں بڑھتی ہوئی جارحانہ عسکری سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، اس آپریشن کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کے بعض حصوں اور ڈرون کنٹرول مرکز کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے، کیونکہ یہ تنصیبات بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں اور امریکی مفادات کے لیے مستقل خطرہ بن چکی تھیں۔
ایران کا جوابی حملہ اور پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف دوسری جانب، ایران کے طاقتور عسکری ادارے ‘پاسدارانِ انقلاب’ نے امریکی حملوں کے فوری جواب میں خطے میں قائم ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس تیز رفتار جوابی کارروائی میں ان مخصوص امریکی مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ایرانی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری، زمینی حدود اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیت اس وقت مکمل طور پر فعال ہے اور دشمن کی کسی بھی اگلی کارروائی کا جواب دینے کے لیے انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔
خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ اور کویت کی تیاری مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید فوجی کشیدگی کے باعث کویت سمیت کئی خلیجی ممالک میں ہنگامی حالت (ہائی الرٹ) نافذ کر دی گئی ہے۔ کویتی حکام نے امارت کے فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر متحرک کر دیا ہے جبکہ شہریوں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کویت کے بعض سرحدی اور حساس علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے ہیں تاکہ ممکنہ فضائی خطرات سے نمٹا جا سکے۔
عالمی تجارت، توانائی کی منڈیاں اور ماہرین کے خدشات سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کا یہ سلسلہ پورے خطے کے امن و استحکام کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو اس کے بھیانک اثرات عالمی تجارت، تیل و گیس کی بین الاقوامی منڈیوں (توانائی کے شعبے) اور مجموعی عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
عالمی برادری کی تشویش اور سفارتی کوششیں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری نے مشرقِ وسطیٰ کی اس ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اس سنگین تنازع کو جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، موجودہ نازک حالات میں کسی بھی فریق کی جانب سے ایک غلط اندازہ یا اضافی فوجی کارروائی پورے خطے کو کسی بڑے عالمی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر سفارتی رابطے بھی انتہائی تیز ہو گئے ہیں اور مختلف دوست ممالک خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں کر رہے ہیں، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی اور انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔