ایران کے ساتھ حتمی معاہدے کا وقت آ گیا ہے، پینتالیس سالہ رویہ اب مزید برداشت نہیں ہو گا: امریکی سربراہِ مملکت

محمود احمد june 03,2026

واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 3 جون 2026ء

امریکی سربراہِ مملکت (صدر) ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سنگین صورتحال پر اپنا ایک اور بڑا اور تاریخی موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب ایران کے ساتھ ایک حتمی اور مستقل تجارتی و سیاسی معاہدہ کرنے کا وقت آ پہنچا ہے۔ انہوں نے واضح اور کڑے الفاظ میں انتباہ جاری کیا کہ گزشتہ سینتالیس (47) سال سے جاری ایرانی حکومت کا جارحانہ رویہ اب واشنگٹن کے لیے مزید کسی صورت برداشت کے قابل نہیں رہا۔

صوتی مکالمے میں اہم ترین اعتراف اور عسکری کارروائیاں انٹرنیٹ پر نشر ہونے والے ایک خصوصی صوتی مکالمے (پوڈکاسٹ انٹرویو) میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے امریکی سربراہِ مملکت نے دعویٰ کیا کہ اگر حالیہ دنوں میں ایران کی فوجی تنصیبات پر براہِ راست حملے نہ کیے جاتے، تو وہ محض چند ہی ہفتوں کے اندر خطرناک ترین جوہری ہتھیار (ایٹم بم) تیار کرنے میں مکمل طور پر کامیاب ہو سکتا تھا۔ ان کے مطابق، حالیہ امریکی و اتحادی عسکری کارروائیوں کے بعد تہران کی قیادت کو ایک انتہائی واضح اور دوٹوک پیغام پہنچا دیا گیا ہے۔

بدلتے معاشی و عسکری حالات اور سیاسی حکمتِ عملی ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی موجودہ خارجہ پالیسیوں پر ہونے والی داخلی اور خارجی تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست کے حالات ہمیشہ انتہائی تیزی سے بدلتے ہیں اور اسی بدلتی ہوئی صورتحال کے مطابق مقتدر حکومتوں کے فیصلے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات اپنے سب سے بڑے دشمن کو الجھن اور غیریقینی صورتحال میں رکھنا بھی ایک گہری اور کامیاب جنگی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ ہوتا ہے۔

جوہری صلاحیت کی روک تھام کا بڑا دعویٰ انہوں نے پریس کے سامنے ایک بار پھر یہ دعویٰ دہرایا کہ ایران خفیہ طور پر مکمل جوہری صلاحیت حاصل کرنے کے بالکل قریب پہنچ چکا تھا، تاہم وقت پر کیے جانے والے امریکی اقدامات اور سخت فیصلوں کے باعث ہی اس کی اس ایٹمی پیش رفت کو کامیابی سے روکا گیا ہے۔

ایرانی قیادت سے ملاقات اور حتمی معاہدے کا امکان امریکی سربراہِ مملکت نے مستقبل کے حوالے سے ایک بڑا اشارہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ ان تمام تر عسکری تلخیوں کے باوجود ایران کے ساتھ کسی نہ کسی شکل میں ایک جامع اور حتمی امن معاہدہ اب بھی ممکن ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے مستقبل میں ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ ان کی براہِ راست ملاقات کا واضح امکان بھی موجود ہے۔

ان کے مطابق، ایرانی حکومت کو اب ہر حال میں اپنے دیرینہ علاقائی رویے اور عسکری پالیسیوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنی ہو گی کیونکہ موجودہ نازک صورتحال میں مشرقِ وسطیٰ کے پورے خطے میں جاری جنگی کشیدگی کو کم کرنا عالمی برادری اور خود ایران کے لیے بے حد ضروری ہو چکا ہے۔

ایران کا امریکہ کے ساتھ مذاکرات روکنے اور آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا بڑا اعلان، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ

محمود احمد june 01,2026

تہران (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

امریکی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیشِ نظر، اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جاری تمام پسِ پردہ سفارتی پیغامات کے تبادلے کو فوری طور پر روکنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی تہران نے عالمی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے بحری راستے ‘آبنائے ہرمز’ کو مکمل بند کرنے اور دیگر علاقائی محاذوں کو فعال کرنے کا سنگین عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اب مذاکرات کے تمام امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور خطے کی صورتحال ایک نئے اور ہولناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔

اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت اور لبنانی علاقوں سے انخلا کا مطالبہ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، حکام نے غزہ اور لبنان میں جاری اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائیوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل مقبوضہ لبنانی علاقوں سے فی الفور اور مکمل انخلا کرے۔ ایران نے امریکہ اور اسرائیل کو خطے میں جاری اس تمام خونریزی اور کشیدگی کا براہِ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے دونوں ممالک پر کڑی تنقید کی ہے۔

آبنائے ہرمز اور باب المندب کو بند کرنے کا اعلان ایرانی میڈیا کے مطابق، تہران حکام نے تزویراتی طور پر اہم ترین بین الاقوامی بحری گزرگاہ ‘آبنائے ہرمز’ کو ہنگامی بنیادوں پر مکمل بند کرنے اور بحیرہ احمر کے تجارتی راستے ‘باب المندب’ سمیت دیگر مزاحمتی محاذوں کو متحرک کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، سفارتی و عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ایران کی جانب سے کیے جانے والے عملی اقدامات اور ان کے حتمی وقت کے بارے میں ابھی تک تفصیلی معلومات سامنے نہیں آئیں۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کابینہ اجلاس سے اہم خطاب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام اور ملک کی اعلیٰ عسکری و سیاسی قیادت ہر قسم کے بیرونی چیلنج اور جنگی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک اپنے اصولی مؤقف اور دفاعی پالیسیوں پر سختی سے ثابت قدم رہے گا اور ہر مشکل ترین صورتحال کا دلیری سے مقابلہ کرے گا۔ صدر مسعود پزشکیان کا مزید کہنا تھا کہ ایرانی قوم اپنے اصولوں اور مقاصد کے حصول کے لیے کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔ انہوں نے قومی اتحاد، ملکی استقامت اور اسلامی مزاحمت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے چنے ہوئے راستے پر مضبوطی سے گامزن رہے گا۔

وزارتِ خارجہ کا امریکہ پر سنگین الزامات اور سخت موقف دوسری جانب، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پریس کانفرنس کے دوران امریکہ پر شدید ترین تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ امریکہ خطے میں معصوم انسانوں کے خلاف جاری تمام اسرائیلی اقدامات اور جنگی جرائم کا برابر کا شریک ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ایک ناقابلِ اعتبار ملک ہے جو مسلسل اپنا سفارتی مؤقف تبدیل کرتا ہے اور مذاکرات کے دوران جان بوجھ کر نئے مطالبات سامنے لاتا رہتا ہے۔

ترجمان وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ ایران بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنے دفاع کے حق کو مکمل محفوظ سمجھتا ہے، اور اگر کسی بھی پڑوسی یا دور کے ملک کی سرزمین یا عسکری تنصیبات ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے استعمال کی گئیں، تو ایران ان کے خلاف سخت ترین جوابی کارروائی کا پورا قانونی و اخلاقی حق رکھتا ہے۔

عالمی منڈیوں اور تجارتی حلقوں میں شدید ہلچل مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید ترین عسکری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر گہری تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسے دنیا کے مصروف ترین بحری راستوں کی بندش کی دھمکی کے بعد عالمی منڈیاں، تیل کی کمپنیاں اور بین الاقوامی تجارتی حلقے اس بدلتی ہوئی صورتحال پر انتہائی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سے عالمی سطح پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایران پر امریکی حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ، تہران کا جوابی کارروائی کا دعویٰ

محمود احمد june 01,2026

تہران / واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) – 01 جون 2026ء

امریکہ اور ایران کے درمیان دیرینہ کشیدگی ایک بار پھر انتہائی خطرناک اور نازک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایرانی سرزمین پر موجود اہم فوجی تنصیبات کو براہِ راست نشانہ بنانے کے بعد ایران نے بھی امریکہ کے خلاف بھرپور جوابی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ دونوں طاقتوں کے درمیان اس براہِ راست تصادم کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلانے لگے ہیں اور صورتحال انتہائی دھماکہ خیز ہو چکی ہے، جبکہ خطے کے متعدد پڑوسی ممالک میں ہائی سکیورٹی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

امریکی حملے اور نشانہ بننے والے اہداف امریکی مرکزی کمان کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ بیان کے مطابق، امریکی افواج نے جنوبی ایران کے ساحلی علاقوں گورک اور جزیرہ قشم میں واقع ایرانی فوج کے ریڈار سسٹمز، ڈرون کنٹرول مراکز اور فضائی دفاعی تنصیبات پر شدید حملے کیے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ یکطرفہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں امریکی ڈرون کو مار گرانے اور خطے میں بڑھتی ہوئی جارحانہ عسکری سرگرمیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، اس آپریشن کے دوران ایرانی فضائی دفاعی نظام کے بعض حصوں اور ڈرون کنٹرول مرکز کو کامیابی سے تباہ کیا گیا ہے، کیونکہ یہ تنصیبات بین الاقوامی سمندری گزرگاہوں اور امریکی مفادات کے لیے مستقل خطرہ بن چکی تھیں۔

ایران کا جوابی حملہ اور پاسدارانِ انقلاب کا مؤقف دوسری جانب، ایران کے طاقتور عسکری ادارے ‘پاسدارانِ انقلاب’ نے امریکی حملوں کے فوری جواب میں خطے میں قائم ایک بڑے امریکی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اس تیز رفتار جوابی کارروائی میں ان مخصوص امریکی مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔ ایرانی اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری، زمینی حدود اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا اور کسی بھی بیرونی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب کے مطابق، ایران کی دفاعی و جارحانہ صلاحیت اس وقت مکمل طور پر فعال ہے اور دشمن کی کسی بھی اگلی کارروائی کا جواب دینے کے لیے انگلیاں ٹریگر پر ہیں۔

خلیجی ممالک میں ہائی الرٹ اور کویت کی تیاری مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی اس شدید فوجی کشیدگی کے باعث کویت سمیت کئی خلیجی ممالک میں ہنگامی حالت (ہائی الرٹ) نافذ کر دی گئی ہے۔ کویتی حکام نے امارت کے فضائی دفاعی نظام کو فوری طور پر متحرک کر دیا ہے جبکہ شہریوں کو کسی بھی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی سخت ہدایت کی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، کویت کے بعض سرحدی اور حساس علاقوں میں خطرے کے سائرن بھی بجائے گئے ہیں تاکہ ممکنہ فضائی خطرات سے نمٹا جا سکے۔

عالمی تجارت، توانائی کی منڈیاں اور ماہرین کے خدشات سیاسی اور دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی کارروائیوں کا یہ سلسلہ پورے خطے کے امن و استحکام کو ملیا میٹ کر سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کو فوری طور پر نہ روکا گیا، تو اس کے بھیانک اثرات عالمی تجارت، تیل و گیس کی بین الاقوامی منڈیوں (توانائی کے شعبے) اور مجموعی عالمی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔

عالمی برادری کی تشویش اور سفارتی کوششیں اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری نے مشرقِ وسطیٰ کی اس ابتر صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک پر زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے اور اس سنگین تنازع کو جنگ کے بجائے سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق، موجودہ نازک حالات میں کسی بھی فریق کی جانب سے ایک غلط اندازہ یا اضافی فوجی کارروائی پورے خطے کو کسی بڑے عالمی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ اس دوران عالمی سطح پر سفارتی رابطے بھی انتہائی تیز ہو گئے ہیں اور مختلف دوست ممالک خطے میں امن و استحکام برقرار رکھنے کے لیے پسِ پردہ کوششیں کر رہے ہیں، تاہم صورتحال بدستور غیر یقینی اور انتہائی حساس بنی ہوئی ہے۔