اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہائپر اجلاس میں پاکستان کا بڑا اور جرات مندانہ مؤقف، یمن کے دیرینہ بحران کے مستقل حل کے لیے جامع سیاسی عمل اور بامعنی مذاکرات کو ناگزیر قرار دے دیا، مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد کا حوثی باغیوں سے اقوامِ متحدہ کے زیرِ حراست تمام بین الاقوامی اہلکاروں کو فوری رہا کرنے کا کڑا مطالبہ، عالمی برادری سے یمن کے غریب عوام کے لیے ہنگامی امدادی فنڈز بڑھانے کی اپیل

Spread the love

محمود احمد june 17,2026

اقوامِ متحدہ، نیویارک (انٹرنیشنل ڈیسک/نیوز اینڈ نیوز) — 17 جون 2026ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے انسانی المیے یعنی یمن بحران کے مستقل خاتمے اور وہاں پائیدار امن کے قیام کے لیے ایک بار پھر تمام تر جنگی اقدامات کو مسترد کرتے ہوئے جامع سیاسی عمل اور فریقین کے مابین براہِ راست مذاکرات کو ناگزیر قرار دے دیا ہے، اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز نیویارک سے حاصل ہونے والی اعلیٰ سطحی سفارتی تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل (سیکیورٹی کونسل) کے اہم اور ہنگامی اجلاس سے باضابطہ خطاب کرتے ہوئے واشگاف الفاظ میں کہا ہے کہ یمن کے اس پیچیدہ تنازع کا دیرپا اور پائیدار حل صرف اور صرف غیر جانبدار سفارت کاری اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے سامنے پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام اور ان کی اپنی مقامی قیادت کے زیرِ اثر چلنے والے سیاسی عمل کی پاکستان بھرپور حمایت کرتا ہے کیونکہ تمام مقامی یمنی فریقوں کے درمیان ہونے والے بامعنی اور سنجیدہ مذاکرات ہی اس تباہ حال ملک کو دوبارہ استحکام، خوشحالی اور مستقل امن کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔

پاکستانی مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے یمن میں حالیہ کچھ عرصے کے دوران عسکری کشیدگی میں ہونے والی نمایاں کمی اور فریقین کے مابین اعتماد سازی کے ابتدائی اقدامات کو ایک انتہائی مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے دونوں جانب سے قیدیوں کے تبادلے کے حالیہ معاہدے کا کھلے دل سے خیرمقدم کیا ہے، پاکستان نے صدارتی قیادت کونسل کی اپنی اصولی حمایت کا عزم دہراتے ہوئے یمن کے معاملے پر مامور اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی کی انتھک سفارتی کوششوں اور تگ و دو کو بھی زبردست الفاظ میں سراہا، تاہم اس موقع پر پاکستانی سفیر عاصم افتخار احمد نے حوثی جنگجوؤں سے ایک بڑا اور سخت عالمی مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حوثی اپنی تحویل اور زیرِ حراست لیے گئے اقوامِ متحدہ کے تمام معصوم اہلکاروں، سفارتکاروں اور دیگر بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیموں (این جی اوز) کے امدادی عملے کو فوری اور غیر مشروط طور پر رہا کریں تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امدادی سرگرمیوں کو بغیر کسی خوف و خطر اور مؤثر انداز میں جاری رکھا جا سکے کیونکہ اس عملے کی بندش سے لاکھوں معصوم بچوں اور خواتین کی زندگیاں داؤ پر لگی ہوئی ہیں۔

پاکستان نے سیکیورٹی کونسل کے ایوان میں یمن کی روز بروز بگڑتی ہوئی ہولناک انسانی اور اقتصادی صورتحال پر گہری تشویش اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو بتایا کہ لاکھوں کی تعداد میں یمنی شہری اس وقت بھی زندگی کی بنیادی ترین ضروریات، ادویات اور بیرونی انسانی امداد کے سخت محتاج ہیں، اس نازک موقع پر پاکستانی مندوب نے عالمی برادری اور امیر ممالک پر زور دیا کہ وہ یمن کے لیے مخصوص امدادی فنڈز میں فوری اور خطیر اضافہ کریں اور وہاں کی معاشی بحالی کے لیے بین الاقوامی تعاون کے دائرے کو مزید فروغ دیں، ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں حالیہ مثبت سفارتی لہر اور کشیدگی میں کمی یہ ثابت کرتی ہے کہ گولی کے بجائے سفارت کاری کی اہمیت کتنی زیادہ ہے اور یہی عمل یمن میں مستقل امن کے امکانات کو دنیا بھر میں مزید مضبوط بنا سکتا ہے، انہوں نے سلامتی کونسل کے تمام مستقل ارکان سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ یمن میں امن و استحکام کی واپسی کے لیے اپنا متحد، غیر جانبدار اور مؤثر کردار ادا کریں، پاکستان نے ایک بار پھر پرامن، متحد، مستحکم اور خوشحال یمن کے قیام کے لیے اپنے اصولی عزم کو دہراتے ہوئے قوی امید ظاہر کی ہے کہ جاری عالمی سفارتی کوششیں یمنی عوام کو جنگ کی ہولناکیوں سے نجات دلا کر امن، ترقی اور خوشحالی کے حقیقی ثمرات فراہم کرنے میں ہر صورت مددگار ثابت ہوں گی۔