ایران کا اقوامِ متحدہ میں امریکی حملوں کے خلاف شدید احتجاج: ‘عام شہریوں اور سکولوں پر بزدلانہ حملے کھلم کھلا جنگی جرم ہیں’

Spread the love

محمود احمد, September 03,2026

نیویارک/تہران (نیوز اینڈ نیوز) — 3 ستمبر 2026ء

اقوامِ متحدہ میں جمہوریہ اسلامی ایران کے دائمی مشن نے امریکہ پر ایران کے متعدد گنجان آباد شہروں میں عام شہریوں پر دانستہ حملے کرنے کا سنگین الزام عائد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ بے گناہ شہریوں اور معصوم بچوں کو گولا باری کا نشانہ بنانا بین الاقوامی انسانی حقوق کے بنیادی اصولوں کی سنگین ورزی اور ایک صریح ‘جنگی جرم’ ہے۔

اقوامِ متحدہ میں ایران کے سفیر اور ڈپٹی ہیڈ آف مشن غلام حسین درزی نے عالمی ادارے کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس کو ارسال کردہ اپنے ہنگامی اور باضابطہ خط میں یکم ستمبر کو ہونے والے بھیانک امریکی فضائی حملوں کا تفصیل سے حوالہ دیا ہے۔ انہوں نے اپنے مکتوب میں مؤقف اختیار کیا کہ جنوبی ایران کے سرحدی و ساحلی شہروں میں رہائشی علاقوں اور شہری اہداف کو دانستہ اور حکمتِ عملی کے تحت تباہ کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ مارچ 1404 (شمسی ہجری تقویم) میں حالیہ خونریز جنگ کے برپا ہونے کے بعد سے واشنگٹن انتظامیہ نے مسلسل سویلین آبادی، عوامی مقامات اور قومی بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا ہے۔ ان حملوں میں سکول، ہسپتال، ایئرپورٹس، رہائشی کالونیاں، پل، سڑکیں اور ریلوے کی حساس تنصیبات شدید متاثر ہوئی ہیں۔

ایران کے ہرمزگان صوبے میں امدادی ٹیموں اور ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے حکام کے مطابق کوہستک کی بندرگاہ کے قریب ہونے والے تازہ حملے میں ایک معصوم بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 60 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

دوسری جانب امریکی عسکری حکام اور پینٹاگون نے سویلینز کو دانستہ نشانہ بنانے کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ منگل کی شب کیے گئے فضائی حملوں میں صرف پاسدارانِ انقلاب اسلامی کی عسکری تنصیبات اور کمانڈ سنٹرز کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تاہم، کوہستک میں شادی ہال کے وقوعہ کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر بی بی سی فارسی کے ‘فیکٹ فائنڈنگ ڈیپارٹمنٹ’ نے مشاہدہ کیا کہ تباہ شدہ شادی ہال قریبی ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور سے کم از کم 110 میٹر کی دوری پر واقع تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر امریکی حملے کا اصل ہدف وہ مواصلاتی ٹاور تھا جو غلط نشانہ دہی یا ضمنی تباہی کے باعث قریبی آبادی پر اثر انداز ہوا۔