

محمود احمد, September 17,2026
واشنگٹن (نیوز اینڈ نیوز) — 17 ستمبر 2026ء
ایران اور امریکا کے درمیان جاری شدید سیاسی و عسکری کشیدگی کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ طے کرنے کا خواص مند ہے اور خطے میں جاری تنازع کے خاتمے کا وقت قریب آ پہنچا ہے۔ بدھ کی شام شمالی کیرولینا میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ جاری کشیدگی جلد ختم ہو جائے گی، تاہم انہوں نے تہران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کی شرائط یا آئندہ کی حکمت عملی پر تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
اس سفارتی بیان بازی کے ساتھ ہی خطے میں عسکری محاذ آرائی بھی شدت اختیار کر رہی ہے۔ یمن کے صوبہ تعز میں سعودی قیادت میں قائم اتحادی افواج کے جنگی طیاروں نے تین کمیونیکیشن ٹاورز کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ عمان میں امریکی سفارت کاروں اور حوثی نمائندوں کے درمیان پردے کے پیچھے رابطوں کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ دوسری جانب مکہ مکرمہ کی سمت مبینہ ڈرون حملے پر پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے سعودی عرب کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے یکجہتی کا اعادہ کیا ہے۔
اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے بیجنگ میں چینی حکام کے ساتھ اعلیٰ سطحی مشاورت کی اور دورے کے دوران پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے خطے میں ممکنہ تزویراتی توازن پر گفتگو کی۔ عالمی سطح پر قانون سازی کے محاذ پر امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران اور روس پر نئی پابندیوں کا بل 159 کے مقابلے میں 262 ووٹوں سے منظور کر لیا ہے جو صدر کے دستخط کے بعد نافذ العمل ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں، پاکستان اور چین نے سرحدی انتظام اور تجارتی بہاؤ کی بہتری کے لیے ‘پاکستان چین باؤنڈری جوائنٹ کمیشن’ کو بھی متحرک کر دیا ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر بی بی سی اردو، واشنگٹن پریس روم، پاکستانی دفترِ خارجہ اور بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے باضابطہ بیانات کے عین مطابق ایڈٹ کی گئی ہے۔
ماخذ: بین الاقوامی نیوز ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز واشنگٹن۔