
کاشف عباسی , September 18,2026
کوہاٹ (نیوز اینڈ نیوز) — 18 ستمبر 2026ء
خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پرانی پولیس لائنز کے قریب واقع مسجد کو نمازِ جمعہ کے دوران دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم 16 افراد جاں بحق اور 25 سے زائد افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں نماز کی ادائیگی میں مصروف شہریوں کے علاوہ پولیس اہلکار بھی شامل ہیں جنہیں فوراً ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ متعدد زخمیوں کی حالت نازک بتائی جاتی ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
آئی جی پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق دہشت گردوں نے انتہائی منصوبہ بندی کے تحت بارود سے بھری گاڑی مسجد کے قریب دھماکے سے اڑائی، جس کے فوراً بعد ایک خودکش حملہ آور نے اسپیشل برانچ کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ دھماکوں کے فوری بعد وہاں موجود پولیس فورس اور مسلح حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک مسلح دہشت گرد کو موقع پر ہی ہلاک کر دیا۔ شدید دھماکے کے باعث مسجد کی دیوار گر گئی اور بیرونی حصہ بری طرح تباہ ہو گیا ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی 14 ایمبولینسز اور 40 سے زائد اہلکاروں نے موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائیاں شروع کر دیں اور تمام زخمیوں کو ایمرجنسی میں منتقل کیا۔ کوہاٹ ہنگو روڈ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند کر کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور صدر آصف علی زرداری نے اس سانحے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور واقعے کی مکمل تحقیقاتی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
نیوز اینڈ نیوز کی وضاحت:
یہ خبر کوہاٹ پولیس، ریسکیو 1122 کے حکام اور خیبر پختونخوا پولیس کے آئی جی کے باضابطہ بیانات کی روشنی میں تدوین کی گئی ہے۔
ماخذ: نیشنل ڈیسک، نیوز اینڈ نیوز کوہاٹ۔